Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ہم سب ان کیساتھ ہیں جنہوں نے بم دھماکے میں اپنے عزیزوں کو کھویا ہے ‘‘

Updated: August 05, 2025, 11:06 PM IST | Malegaon

مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر امتیاز جلیل کی مالیگائوں آمد ، بھکو چوک کا دورہ کیا ، بم دھماکہ مہلوکین کے اہل خانہ سے ملاقات

Imtiaz Jalil (center) and other MIM leaders
امتیاز جلیل (درمیان) اور ایم آئی ایم کے دیگر لیڈران( تصویر: انقلاب)

’’ جب تک دہشت کو دہشت کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے انصاف نہیں ملے گا ۔ بم دھماکے میں مرنے والوں کے لواحقین آبدیدہ ہیں ۔ ۱۷؍ سال کے انتظار کے بعد بھی انہیں خاطر خواہ نتیجہ نہیں مل سکا ۔‘‘ اِن خیالات کا اظہار   مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر اور  سابق رکن پارلیمان امتیاز جلیل  نے مالیگاؤں میں کیا۔   امتیاز جلیل  نے منگل کے روز مالیگائوں کے بھِکّو چوک کا دورہ کیا۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ۲۰۰۸ء  میں بم دھماکہ ہوا تھا۔ 
  انہوں نے کہا کہ ’’ اب یہ لڑائی شروع ہوئی  ہے۔ مَیں نے دیکھا کہ بھکو چوک میں جس مقام پر بم پھٹا تھا وہاں سے چند فٹ ی دُوری پر پولیس چوکی واقع ہے۔ سوالات یہاں بھی پیدا ہوتا ہے  کہ آخر بم آیا کہاں سے ؟  انصاف کے حصول کی اِس لڑائی میں ہم سب اُن کے ساتھ ہیں جنہوں نے بم دھماکے میں اپنا بیٹا ، بچی، شوہر اور عزیزوں کو کھویا ہے۔‘‘ 
 واضح رہے کہ بھکو چوک بم دھماکہ مقدمہ میں این آئی اے کورٹ سے بھگوا ملزمین کو بَری کئے جانے کے احکامات جاری ہونے کے بعد پیدا صورتحال کا جائزہ لینے امتیاز جلیل مالیگاؤں آئے تھے ۔ انہوں نے بم دھماکے کے مہلوکین کے اقرباء سے ملاقاتیں کیں ۔ اُن کے گھروں پر پہنچ کر تسلّی و تشفی دیتے ہوئے حصولِ انصاف کیلئے قانونی جدوجہد میں شریک رہنے کا وعدہ بھی کیا۔ اُن کے ساتھ ڈاکٹر خالد پرویز ( صدر شمالی مہاراشٹر، ایم آئی ایم)، الحاج یوسف الیاس ( صنعت کار)،ایاز احمد سلطان( سابق رکن بلدیہ)  اور نوید  احرار وغیرہ موجود تھے۔ 
 امتیاز جلیل نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ’’ ۱۷؍ برس بعد عدالت یہ کہہ دے کہ جائے بم دھماکہ کا پنچ نامہ صحیح طریقے سے نہیں کیا تھا ۔ جب ۱۷؍ سال  کے بعد پنچ نامہ کے صحیح یا غلط پر عدالتی رائے سامنے آئے تو پھر تفتیشی ایجنسیوں اے ٹی ایس یا این آئے اے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ سمجھوتہ ایکسپریس ، مکّہ مسجد حیدر آباد ، گھاٹ کوپر ممبئی اور دیگر بم دھماکے کس نے کئے ہیں ؟ اس کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ مالیگاؤں میں ۲۰۰۶ء اور ۲۰۰۸ء میں بم دھماکے کس نے کئے ، یہ بھی پتہ  نہیں ہے ۔ جب کچھ پتہ ہی نہیں  ہے تو پھر اتنے برس تک آس یا  امید میں رکھنے کی کیا ضرورت تھی ؟‘‘ 
 واضح رہے کہ اِس دورے کے پیش نظر مقامی پولیس انتظامیہ بھی مستعد رہی ۔ سابق ایم پی کے دورے کے رُوٹ پر سادے لباس میں پولیس اہلکار گشت کرتے دِکھائی دئیے ۔ بھکو چوک و اطراف کے علاقوں میں معقول حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔

aimim Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK