Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی ایشیا کے بحران سے ہم کو متحد ہو کر نمٹنا ہے: مودی

Updated: March 24, 2026, 12:53 AM IST | New Delhi

لوک سبھا میں بیان دیتے ہوئےوزیراعظم نے کہا کہ اس بحران پر ہندوستان کی تشویش فطری ہے، لیکن ہندوستان جانتا ہے کہ چیلنجوں کا سامنا کیسے کرنا ہے

Prime Minister Modi speaking in the Lok Sabha (Photo: PTI)
لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم مودی (تصویر: پی ٹی آئی)

مغربی ایشیا کے بحران کو سنگین تشویش کا معاملہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا کہ خام تیل اور گیس کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ اسی خطے سے پورا ہوتا ہے، اسلئے اس کا ہندوستان پر اثر فطری ہے، لیکن اس چیلنج کا مل جل کر اور اتحاد کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ 
 لوک سبھا میں مغربی ایشیا کی صورت حال پر بیان دیتے ہوئےوزیراعظم نے کہا کہ اس بحران کی وجہ سے ہندوستان کی تشویش فطری ہے، لیکن ہندوستان جانتا ہے کہ متحد رہ کر چیلنجوں کا سامنا کیسے کرنا ہے۔ ہم نے کورونا بحران کے دوران بھی متحد رہ کر ایسے ہی چیلنج کا سامنا کیا تھا اور اب اس چیلنج کا بھی اسی اتحاد سے مقابلہ کرنا ہو گا۔ مغربی ایشیائی ممالک میں رہنے والے ہندوستانیوں کی حفاظت کو یقین دہانی کراتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ’’ان ممالک میں ہمارے مشن ہندوستانیوں کی مدد میں مصروف ہیں۔ متاثرہ ممالک میں ہمارے مشن مسلسل ہندوستانیوں کی مدد میں مصروف ہیں۔ چاہے وہاں کام کرنے والے ہندوستانی ہوں یا وہاں گئے ہوئے سیاح، ہر کسی کو ہر ممکن مدد فراہم کی جارہی ہے۔ ہندوستانی مشن باقاعدگی سے ایڈوائزری جاری کر رہے ہیں۔ ہندوستان اوردیگر متاثرہ ممالک میںہیلپ لائنز اور ہنگامی ہیلپ لائنز قائم کی گئی ہیں۔ ان کے ذریعے تمام متاثرہ لوگوں کو تازہ ترین معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ 
 انہوں نے کہا کہ اس بحران کے وقت میں ہندوستان اور بیرون ملک ہندوستانیوں کی حفاظت سب سے اہم ہے۔ اس جنگ کے آغاز سے ہی متاثرہ ممالک میں رہنے والے ہر ہندوستانی کو مدد فراہم کی گئی ہے۔ میں نے مغربی ایشیائی ممالک کے بیشتر سربراہان مملکت کے ساتھ فون پر دو بار گفتگو کی ہے۔ سبھی نے ہندوستانیوں کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
 جنگ زدہ اور تنازعات سے متاثرہ ممالک کے ساتھ ہندوستان کے وسیع تجارتی تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جس خطے میں تنازع جاری ہے، وہ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ہماری تجارت کا ایک اہم راستہ بھی ہے۔ یہ خطہ خاص طور پر خام تیل اور گیس کی ضروریات کیلئے ہمارے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس کے علاوہ یہ خطہ ہمارے لئے اسلئے  بھی اہم ہے کہ خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی کام کرتے ہیں۔ وہاں کمرشیل جہاز چلتے ہیں۔ ہندستانی عملے کے ارکان کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ ان مختلف وجوہات کی بناء پر ہندوستان کی تشویش فطری طور پر زیادہ ہے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے اس بحران پر ہماری ایک آواز اور اتفاق رائے دنیا تک پہنچے۔ 
  انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت مغربی ایشیا کی تشویشناک صورتحال پر پارلیمنٹ کو باقاعدگی سے بریفنگ دے رہی ہے۔ گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اور مرکزی وزیر ہردیپ پوری نے ایوان کو صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی ہے۔بحران کے وقت ہندوستانی سفارتکاری کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی ماحول میں ہندوستان کا کردار واضح ہے۔ ہم نے شروع ہی سے اس تنازع پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ میں نے ذاتی طور پر مغربی ایشیا کے تمام متعلقہ رہنماؤں سے بات چیت کی ہے۔ میں نے ہر ایک پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کریں اور اس تنازع کو ختم کریں۔
 انہوں نے کہا کہ میں ایک بار پھر اعادہ کرتا ہوں کہ اس مسئلے کا واحد حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔ ہماری تمام تر کوششیں کشیدگی کم کرنے اور اس تنازع کو ختم کرنے کی سمت میں ہیں۔ اس جنگ میں کسی کی بھی زندگی کو خطرے میں ڈالنا انسانیت کے مفاد میں نہیں ہے، اسلئے ہماری کوشش ہے کہ تمام فریقوں کو جلد از جلد ایک پرامن حل تک پہنچنے کی ترغیب دی جائے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK