بی ایم سی الیکشن کی تشہیری مہم کے دوران نفرت ، الزام تراشی اورذاتی اختلاف سے بچنا ہےتاکہ الیکشن کے بعد اڈانی اورحکومت کے خلاف مہم متاثر نہ ہو۔دھاراوی بچاؤ آندولن کا پیغام۔
’ دھاراوی بچاؤ آندولن‘ دھاراوی کو بچانے کیلئے سرگرم ہے۔ تصویر: آئی این این
’’ہمیں دھاراوی واسیوں کے وسیع تر مفادات اور انہیں بے گھر ہونے سے بچانے کے لئے سنگھرش جاری رکھنا ہے۔ اس لئے کارپوریشن الیکشن میں ذاتیات پر حملوں، نفرت اور الزام تراشی سے گریز کرتے ہوئے دھاراوی واسیوں کے حق میں ۱۶؍ نکات پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ یہ پیغام دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران سابق رکن اسمبلی بابو راؤ مانے(شیوسینا ادھوبالا صاحب ٹھاکرے)، ایڈوکیٹ راجو کورڈے (شیتکری کامگار پکش)، کامریڈ نصیرالحق(سی پی آئی )، اُلیش گاجا کوش (این سی پی )، انیل کسارے اور پال رافیل (عام آدمی پارٹی )وغیرہ کی جانب سے دیا جارہا ہے۔
چونکہ دھاراوی بچاؤ آندولن میں تمام اپوزیشن جماعتیں شامل ہیں اور سبھی کے امید وار میدان میں ہیں۔ اس لئے یہ اپیل کی جارہی ہے کہ تشہیری مہم میں سیاسی نظریات کی بنیاد پرتو تنقیدیں کی جاسکتی ہیں ، نظریاتی اختلاف بھی ممکن ہے مگر ایسا اختلاف نہ ہونے پائے کہ الیکشن کے بعد ملنے پر شرمندگی ہو اور اس سے دھاراوی واسیوں کے حق وانصاف کے لئے جاری مہم کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہو۔ہم سب کو دھاراوی کے لئے اڈانی اینڈ کمپنی اور فرنویس حکومت کیخلاف لڑنے کیلئے متحد ہونا چاہئے۔
دھاراوی واسیوں کے اہم مطالبات
دھاراوی واسیوں کے ۱۶؍ اہم مطالبات کچھ اس طرح ہیں (۱)دھاراوی کے تمام ۶؍ سیکٹرز میں ایک لاکھ ۲۰؍ہزار سے زائد جھوپڑا واسیوں کو اہل قرار دیا جائے ۔ اس ضمن میں۴؍ اکتوبر ۲۰۲۴ء کا جی آر ردکیا جائے(۲)دھاراوی کے تمام باشندوں کو دھاراوی میں ہی ۵۰۰؍ مربع فٹ کا مکان دیا جائے اور بی ایم سی کی عمارتوں میںرہنے والوں کو۷۵۰؍ مربع فٹ کا مکان دیا جائے (۳) اقتصادی زون بنایا جائے(۴)دھاراوی میں مندر، مساجد، گرجا گھر، گراؤنڈز، پویلینز، اسکول کالجز اور اسپتال وغیرہ کی سہولت مہیا کرائی جائے(۵)تمام مکینوں کو۲۰؍ سال تک تمام قسم کے ٹیکسوں وغیرہ سے مستثنیٰ کیا جائے (۶)دھاراوی ری ڈیولپمنٹ ایک اہم پروجیکٹ ہے، اس لئے ۳۱؍ دسمبر ۱۹۹۹ء سے پہلے دستاویزات جمع کرانے کی آخری تاریخ ہٹاکر سروے کی تاریخ کو حتمی شکل دی جائےیا ایس آر اے کے تحت ممبئی میں دیگر مقامات پر جھوپڑپٹیوں پر لاگو ہونے والی ۲۰۱۱ءکی آخری تاریخ پر غورکیا جائے (۷)اگر کسی جھوپڑامالک نے اپنا جھوپڑا بیچ دیا ہے تو منتقلی کے عمل کو دستاویز کے طور پر تسلیم کیا جائے (۸)این ایم ڈی پی ایل کے ذریعے کرائے گئے غیر قانونی سروے کو منسوخ کیا جائے کیونکہ اس سروے میں ۸۵؍ فیصد مکینوں کونااہل کردیا گیا ،یہ فرضی سروے ہے(۹) بی ایم سی یا کلکٹر کے ذریعے دھاراوی کے تمام ڈھانچوں کا دوبارہ سروے کرایا جائے(۱۰)دھاراوی کی دوبارہ ترقی ایس آراے رول سی ۲؍کے تحت کی جائے اور مکینوں کو اسی علاقے میں دوبارہ آباد کیا جائے (۱۱) کمہارواڑہ کو برطانوی حکومت نے۱۹۳۳ء میں ایک معاہدے کےتحت قائم کیا تھا، اس لئے اس کا تشخص برقرار رکھا جائے (۱۲) ٹرانزٹ کیمپ راجیو گاندھی نگر کو منظم طریقے سے سڑکوں اور اسکواٹنگ چالوں کے ساتھ تیار کیا گیا ہے، اس لئے دھاراوی کچی آبادی کا حصہ نہیں ہے۔ اسے ڈی آر پی کی فہرست سے ہٹا دیا جائے (۱۳)ماہم پھاٹک۱۳؍ کمپاؤنڈ کو مکینوں کے مطالبات کے مطابق رہائشی اور تجارتی ترقی کے ساتھ بسایا جائے(۱۴) ٹاٹا پاور ایم جی روڈ کے مکینوں کوریلوے کی طرف سے کرلا سے بے گھر کر دیا گیا ہےاوروہ تمام سہولتوں سے محروم ہیں، انہیں تمام سہولیات فراہم کی جائیں(۱۵) دھاراوی کولی واڑہ ایک گاؤں ہے جو دھاراوی سے ۳۰۰؍ سال پہلے سے موجود تھا۔ اس لئے یہ دھاراوی کی کچی بستی میں نہیں آتا،اس کی شناخت برقرار رکھی جائے۔