ہمیں کشمیر کے ریاستی درجہ کےبجائے خصوصی درجہ کیلئے لڑنا چاہئے: التجا مفتی

Updated: August 01, 2020, 8:39 AM IST | Srinagar

محبوبہ مفتی کی صاحبزادی کے مطابق ریاست کا درجہ واپس دینا تو بی جے پی کی مجبوری ہے لیکن ہماری جو توہین کی گئی اس کے خلاف ہمیں لڑنا ہو گا۔  پی ڈی پی صدر اورجموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا مفتی نے کہا ہے کہ ہمیں ریاستی درجے کی بحالی کے لئے نہیں بلکہ خصوصی پوزیشن کی بحالی کے لئے لڑنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا درجہ واپس دینا بی جے پی کی اپنی مجبوری ہے ،وہ ان کا ہم پر کوئی احسان نہیں ہے۔

Iltija Mufti. Photo: INN
التجا مفتی۔ تصویر: آئی این این

 پی ڈی پی صدر اورجموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا مفتی نے کہا ہے کہ ہمیں ریاستی درجے کی بحالی کے لئے نہیں بلکہ خصوصی پوزیشن کی بحالی کے لئے لڑنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا درجہ واپس دینا بی جے پی کی اپنی مجبوری ہے ،وہ ان کا ہم پر کوئی احسان نہیں ہے۔ التجا نے کہا کہ ہم سے بہت بڑی چیز چھینی گئی ہے اور ہماری بڑے پیمانے پر توہین کی گئی ہے تو ہم کیوں اب ریاستی درجے کی بھیک مانگیں ۔انہوں نے اپنے ایک انٹریو میں کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں ہی کہا تھا کہ جب حالات ٹھیک ہوں گے تو اس کو بحال کیا جائے گا، ریاستی درجے کی بحالی بی جے پی کی مجبوری ہے کوئی مہربانی نہیں ہے لیکن ہم سے ایک بڑی چیز چھینی گئی ہے۔ ہمیں خصوصی درجے کی بحالی، اپنے آئین اور اپنے جھنڈے کی واپسی کے لئے متحد ہو کر لڑنا چاہئے۔
 التجا مفتی نے کہا کہ دفعہ۳۷۰؍ کی تنسیخ کشمیریوں کے منہ پر بہت بڑا تھپڑ تھا،ہماری بڑے پیمانے پر بے عزتی کی گئی ہے، یہ صرف مین اسٹریم جماعتوں کی بات نہیں ہے ڈومیسائل قانون صرف ایک علاقے میں نافذ نہیں کیا گیا ہے بلکہ بی جے پی یہاں ہماری ثقافتی شناخت کو ختم کرنے کے در پے ہے، یہ بہت بڑی لڑائی ہے جسے ہم متحد ہوکر ہی لڑسکتے ہیں ۔ التجا مفتی جو گزشتہ ایک سال سے بی جے پی اور اس کی موجودہ لیڈر شپ پر شدید تنقیدیں کررہی ہیں ، نے کہا کہ ہم سے ریاستی درجہ اسی لئے چھینا گیا تاکہ ہم خصوصی درجہ کو بھول جائیں اور صرف ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کریں ۔ انہوں نے مثال دیتےہوئے کہا کہ مثال کے طور پر ہم سے تین چیزیں چھین لی گئیں اور اب ایک واپس دی جارہی ہے لیکن ہم کیوں ان سے بھیک مانگیں ، ہم نے الحاق مساوی بنیادوں پر کیا ہے اور اسے ہر حال میں بحال کرنا ہوگا۔التجا مفتی نےاپنے دل کا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بحیثیت کشمیری ملک پر اور یہاں کی عدلیہ پر بھروسہ نہیں رہ گیا ہے۔ یہاں نفرت پنپ رہی ہے اور ہندوتوا کا ایجنڈا بھی کشمیر سے ہی لاگو کیا جارہا ہے۔ مجھے اپنی والدہ کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سےبھی بہت دکھ ہواہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK