Updated: March 22, 2026, 5:11 PM IST
| Tehran
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے جاری ہیں اور اسی کے ساتھ یہ جنگ اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر پابندی عائد کی ہے جس کیلئے ٹرمپ نے نیٹو اور یورپی یونین سے مدد کی اپیل کی ہے جس پر ایران نے واشنگٹن کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ وہ یورپی یونین سے ’’بھیک‘‘ مانگ رہا ہے۔
ایران کی جنگ اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ملک اور اس کی اعلیٰ قیادت پر فضائی حملے جاری ہیں۔ اب جبکہ ٹرمپ نے نیٹو اور یورپی یونین کے اتحادیوں سے آبنائے ہرمز جیسے تیل کے اہم راستے کو محفوظ بنانے کیلئے مدد کی اپیل کی ہے، ایران نے واشنگٹن کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یورپی یونین سے مدد کیلئے ’’بھیک‘‘ مانگ رہا ہے۔ در حقیقت ایران نے طنزیہ انداز میں یہاں تک پیشکش کر دی ہے کہ وہ ٹرمپ سے گرین لینڈ کی حفاظت کرنے کو تیار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ایران کو آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر بجلی گھروں پر حملے کی دھمکی
ایرانی ترجمان نے کہا، ’’ٹرمپ نے پہلے یورپی یونین کو دھمکی دی، پھر ان سے مدد کی بھیک مانگی۔ آج انہوں نے کہا کہ اگر تم نہیں آؤ گے تو ہم خود آکر گرین لینڈ لے لیں گے۔ میں یورپی یونین سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر تم اپنا گرین لینڈ محفوظ نہیں رکھ سکتے تو ہم سے کہو، ہم آکر اس کی حفاظت کریں گے۔‘‘
ٹرمپ کی ڈنمارک کو دھمکی
ریاستہائے متحدہ اور ڈنمارک کے تعلقات ۲۰۲۶ء کے آغاز میں تاریخی سطح پر تنزلی کا شکار ہوئے، کیونکہ صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے الحاق کے حوالے سے جارحانہ اور اعلانیہ دعوے کئے تھے۔ تاہم، گرین لینڈ کے مسئلے پر ڈنمارک، یورپی ممالک اور ریاستہائے متحدہ کے درمیان پیدا ہوئی کشیدگی میں کمی واقع ہوئی، جب ٹرمپ نے ۲۱؍ جنوری کو داووس میں عالمی اقتصادی فورم کے دوران نیٹو کے شراکت داروں کے ساتھ سفارتی مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی۔
یہ بھی پڑھئے: جارج گیلوے نے کہا:نیتن یاہو کیلئے موت آسان سزا ہوگی
۷؍ فروری کو، ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے کی خواہش کے معاملے میں ان کا ملک اب حالیہ ماضی کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ بحران ابھی حل نہیں ہوا ہے۔ ’’ہم بحران سے باہر نہیں آئے، اور ہمارے پاس ابھی کوئی حل نہیں ہے۔‘‘