امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر۴۸؍ گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھولا تو ایران کے بجلی گھروں پر حملے کئے جائیں گے۔
EPAPER
Updated: March 22, 2026, 4:07 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر۴۸؍ گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھولا تو ایران کے بجلی گھروں پر حملے کئے جائیں گے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران۴۸؍ گھنٹوں کےاندر آبنائے ہرمز نہیں کھولتا ہے تو امریکہ اس کے بجلی کے نظام پر نئے حملے شروع کر دے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ ’’اگر ایران۴۸؍ گھنٹوں کے اندر بغیر کسی شرط کے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولتا ہے تو امریکہ اس کے مختلف بجلی گھروں پر حملہ کر کے انہیں تباہ کر دے گا، جس کا آغاز سب سے بڑے پلانٹ سے ہو گا۔‘‘یہ بیان مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے درمیان بیان بازی میں ایک اہم اضافہ ہے، جہاں کشیدگیکی وجہ سے پہلے ہی تنگ آبی گزرگاہ کے ذریعے جہاز رانی متاثر ہے، جو عالمی تیل کی فراہمی کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کے لیے فریم ورک پر غور کر رہی ہے
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ فراہم کرتا ہے، اور جاری جنگ کی وجہ سے اس کے بند ہونے سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور سیاسی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔تاہم ایران نے منتخب جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے جبکہ امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمزپر انحصار کرنے والے ممالک کا اتحاد بنانے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی ہے کیونکہ اہم شراکت داروں نے اس میں شامل ہونے میں ہچکچاہٹ کا اظہار کیا ہے۔جس کے بعد ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکانے کی کوشش کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اصفہان میں تاریخی نقصان، تیل ۱۸۰؍ ڈالر تک جانے کا خدشہ
یاد رہے کہ ۲۸؍ فروری کے اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد رفت مکمل طور پر اپنے قابو میں کرلی ہے۔ جہاں اس نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے جہازوں کو وہاں سے گزرنے نہیں دے گا، اور اپنے اس اعلان کو عملی جامہ پہناتے ہوئے دس سے زیادہ جہازوں پر حملے کئے، جس کے بعد آبنائے ہرمز کے دونوں جانب جہازوں کی لمبی قطار لگ گئی۔ اسی دوران ایک خطر یہ بھی آئی کہ ایران ان جہازوں کو جانے کی اجازت دے گا جنہوں نے چینی کرنسی یوان میں تیل کی خرید کی ہو۔ بعد ازاں امریکہ کی متعدد کوششوں اور دھمکی کے باوجود وہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہا ہے۔