Updated: July 17, 2026, 7:32 PM IST
| Mumbai
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترہ نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہندوستانی معیشت کی بنیادیں مضبوط ہیں، تاہم کمزور مانسون اور خطے کی کشیدہ صورتحال معیشت کے لیے بڑے خطرات بن سکتے ہیں۔
سنجے ملہوترہ۔ تصویر:آئی این این
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترہ نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہندوستانی معیشت کی بنیادیں مضبوط ہیں، تاہم کمزور مانسون اور خطے کی کشیدہ صورتحال معیشت کے لیے بڑے خطرات بن سکتے ہیں۔دوردرشن کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں سنجے ملہوترہ نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع اور ممکنہ کمزور مانسون بھارت کی اقتصادی ترقی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کاجل اور شریاس نے’آپ کی تھالی میں کیا ہے‘ چیلنج سے فوڈ سیفٹی پر بڑھائی بیداری
انہوں نے امریکی ڈالر کی مضبوطی کے درمیان ہندوستانی روپے کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا’’مغربی ایشیا میں جنگ کے بعد امریکی ڈالر مضبوط ہوا ہے، جس کے باعث کئی ممالک کی کرنسیاں کمزور ہوئی ہیں۔ عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو بھارتی روپے کی کارکردگی معمول کے مطابق رہی ہے۔‘‘ آر بی آئی گورنر نے کہا کہ مضبوط سروس ایکسپورٹس، بیرون ملک مقیم بھارتیوں کی ترسیلاتِ زر، ریکارڈ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی ) اور نئے تجارتی معاہدوں کی بدولت بھارت کا بیرونی شعبہ مستحکم رہے گا، جس سے برآمدات کو بھی فروغ ملے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری بانڈز (G-Sec) میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے حکومت کے حالیہ اقدامات، خدمات کی برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں اضافہ، برطانیہ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ (FTA)، نیز یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات، ملک کے بیلنس آف پیمنٹس کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
سنجے ملہوترہ نے خبردار کیا کہ معیشت کو اب بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں، اس لیے پالیسی سازوں کو فی الحال ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کی حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ مہنگائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت افراطِ زر تقریباً ۴؍ فیصد کے قریب ہے اور حالیہ مہنگائی بنیادی طور پر سپلائی سے متعلق مسائل کی وجہ سے رہی ہے۔آر بی آئی نے رواں سال اب تک اپنی بنیادی پالیسی شرحِ سود۲۵ء۵؍ فیصد پر برقرار رکھی ہے تاکہ معاشی ترقی اور قیمتوں کے استحکام کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے:ورلڈ کپ فائنل سے قبل اسپین کو جمال اور پورو کی فٹنیس کی فکر
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ چونکہ ہندوستان اپنی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً ۸۸؍فیصد درآمد کرتا ہے، اس لیے تیل کی قیمتوں میں اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔