• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کچھ حقائق متنازع ہیں نہ غیر واضح: نیتن یاہو کے مؤقف پر واشنگٹن پوسٹ کا ردعمل

Updated: October 17, 2026, 5:36 PM IST | Tal Aviv

مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں واشنگٹن پوسٹ کی فوٹوگرافر ہائیڈی لیوائن سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ حملے کے دوران صحافی کو لاٹھیوں سے پیٹا گیا اور ان کا سامان بھی چھین لیا گیا، جبکہ علاقے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے واقعات نے ایک بار پھر تشویش بڑھا دی ہے۔

Washington Post photographer Heidi Levine was taken to the hospital. Photo: X
واشنگٹن پوسٹ کی فوٹوگرافر ہائیڈی لیوائن کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ تصویر: ایکس

واشنگٹن پوسٹ کا ردعمل
واشنگٹن پوسٹ کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر میٹ مرے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ کچھ حقائق نہ تو متنازع ہیں اور نہ ہی غیر واضح۔ ان کے مطابق، اخبار کی فوٹو جرنلسٹ ہائڈی لیوائن نے واضح طور پر پریس کی شناخت والی حفاظتی جیکٹ پہن رکھی تھی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مرے نے کہا کہ یہ کوئی سیاسی دعویٰ نہیں بلکہ ایسے حقائق ہیں جن سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے واقعے کی جامع تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ یہ ردِعمل اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامن نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ مغربی کنارے کے علاقے ابو فلاح کے نزدیک پیش آنے والے واقعے کے حقائق ابھی واضح نہیں ہیں اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ نیتن یاہو کے دفتر نے یہ بھی کہا تھا کہ دستیاب اطلاعات کے مطابق تقریباً ۲۰۰؍ عرب اور بائیں بازو کے کارکنوں کا سامنا لگ بھگ ۴۰؍ اسرائیلی نوجوانوں سے ہوا تھا۔ بیان میں بعض ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ دونوں جانب سے افراد کو اشیا پھینکتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل یہودیوں، عربوں، عیسائیوں یا صحافیوں سمیت کسی کے خلاف بھی تشدد کی مذمت کرتا ہے اور ذمہ داروں کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحقیقات میں یہ طے کیا جانا ضروری ہے کہ تشدد کا آغاز کس جانب سے ہوا۔ واشنگٹن پوسٹ نے اس مؤقف کے جواب میں واضح کیا کہ اس کی صحافی پر حملے اور ان کی صحافتی شناخت کے حوالے سے شواہد موجود ہیں۔ واقعے کی ویڈیوز میں نقاب پوش افراد کو لیوائن کو زمین پر گرا کر لاتیں مارتے دیکھا جاسکتا ہے۔

سیاہ نقاب پہنے اور بندوقوں و لاٹھیوں سے لیس درجنوں شدت پسند اسرائیلی آبادکاروں نے جمعہ کو فلسطینیوں کی زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران حملہ کردیا۔ کیمرے میں قید اس منظم حملے میں واشنگٹن پوسٹ کی فوٹوگرافر اور ایک فلسطینی شخص کو اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ تنازعات کی رپورٹنگ کا طویل تجربہ رکھنے والی صحافی ہائیڈی لیوائن بھی ان صحافیوں کے گروپ میں شامل تھیں جو مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں ابو فلاح میں زیتون کی فصل کی کٹائی کی کوریج کررہے تھے۔ زیتون کی کٹائی یہاں ہر سال منائی جانے والی ایک اہم روایت ہے، لیکن اس علاقے میں آبادکاروں کے مہلک حملے اب غیرمعمولی حد تک بڑھ چکے ہیں۔ صحافی اور سماجی کارکن آندرے ایکس نے حملے کی ویڈیو شیئر کی، جس میں نقاب پوش افراد کو لیوائن پر مسلسل لاٹھیاں برساتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ زمین پر بے حس و حرکت پڑی ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں دوبارہ جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ گیا

بعد میں اسپتال کے بستر سے گفتگو کرتے ہوئے لیوائن نے بتایا کہ ان پر بے رحمی سے حملہ کیا گیا، انہیں زمین پر دھکیل دیا گیا اور ان کے کیمرے کا سامان، بیگ اور فون چھین لیا گیا۔ انہوں نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا، ’’خوش قسمتی سے میں نے بلٹ پروف جیکٹ اور ہیلمٹ پہن رکھا تھا، ورنہ شاید آج زندہ نہ ہوتی، کیونکہ وہ مجھے مسلسل لاتیں مارتے رہے۔ ‘‘ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے ان کا تمام سامان چھین لیا اور انہیں مسلسل لاتیں مارتے رہے۔ ایک موقع پر انہیں سہارا دے کر کھڑا کیا گیا، لیکن پھر دوبارہ زمین پر گرا دیا گیا۔ آندرے ایکس نے دی انڈیپنڈنٹ کو بتایا کہ دیہاتیوں نے ابھی زیتون کی فصل کی کٹائی شروع ہی کی تھی کہ کم از کم۵۰؍ آبادکار باغ میں پہنچ گئے۔ ان کے پاس غلیلیں، لاٹھیاں اور بعد میں خودکار رائفلیں بھی تھیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے عینی شاہدین نے بھی وہاں بندوقوں کی موجودگی کی تصدیق کی۔ 
آندرے کے مطابق، اسرائیلی فوج کی آمد کے بعد بھی حملہ جاری رہا۔ اسرائیلی فوجیوں نے آنسو گیس کے گولے داغے، جس کے بعد اسالٹ رائفلوں سے لیس ایک گروپ نے زندہ گولیاں چلانا شروع کردیں۔ انہوں نے بتایا، ’’فلسطینی اور صحافی پیچھے ہٹنے لگے، لیکن ہائیڈی پیچھے رہ گئیں۔ آبادکاروں نے انہیں لاٹھیوں سے پیٹنا شروع کردیا، لاتیں ماریں اور ان کا تمام سامان چھین لیا۔ ‘‘دیگر صحافیوں کے ساتھ مل کر آندرے نے لیوائن کو وہاں سے نکالا اور ایمبولینس تک پہنچایا۔ اس دوران آبادکار ان کا پیچھا کرتے رہے اور پتھر پھینکتے رہے، جبکہ فوج موقع پر موجود ہونے کے باوجود خاموش تماشائی بنی رہی۔ بعد میں آندرے نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے ابو فلاح گاؤں میں دھاوا بول دیا، جہاں اطلاعات کے مطابق فوجیوں نے ایک فلسطینی شخص کو گولی مار دی۔ اسے فوری طور پر اسپتال لے جانا پڑا۔ فلسطینی طبی کارکنوں کے مطابق، حملے میں دو افراد زخمی ہوئے جنہیں راملہ کے علاقے کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: تل ابیب میں واقع کولمبیا کے سفارتخانے کو القدس منتقل کرنے کی مذمت

واشنگٹن پوسٹ نے کہا کہ لیوائن نے ایسے واضح نشانات پہن رکھے تھے جن سے ان کی صحافی کی حیثیت نمایاں طور پر ظاہر ہورہی تھی۔ اخبار نے مزید کہا، ’’ہم اپنے فرائض انجام دینے والی صحافی پر اس بلاجواز حملے پر شدید برہم ہیں اور حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ ‘‘انٹرنیشنل ویمنز میڈیا فاؤنڈیشن (آئی ڈبلیو ایم ایف) کی صدر ایلیسا لیس منوز نے کہا کہ دنیا بھر میں تنازعات کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی سلامتی کے حوالے سے ادارہ شدید تشویش میں مبتلا ہے، کیونکہ انہیں تیزی سے خود بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’صحافیوں پر حملے نہ صرف ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ عوام کے باخبر رہنے کے حق کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ یہ واقعات واضح کرتے ہیں کہ آزاد صحافت کیوں ضروری ہے اور اس سے وابستہ افراد کا تحفظ کیوں ناگزیر ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: چین کی اسرائیل کو مغربی کنارے کی بستیوں کی تعمیر روکنے کی ہدایت

اسرائیلی فوج نے کہا کہ پرتشدد تصادم کی اطلاعات ملنے کے بعد فوج اور سرحدی پولیس کو علاقے میں بھیجا گیا تھا۔ فوج کے مطابق، اہلکاروں نے ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کیلئے مظاہرین کو منتشر کرنے کے طریقے استعمال کیے۔ فوج نے واقعے کی شدید مذمت بھی کی۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے بھی اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور انہوں نے تشدد کی مذمت کی۔ تاہم، ان کا بیان عینی شاہدین کی اطلاعات اور موقع پر بنائی گئی ویڈیو سے متضاد تھا۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ فلسطینیوں اور بائیں بازو کے کارکنوں نے تقریباً ۴۰؍اسرائیلی نوجوانوں کا سامنا کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم متنازع واقعات کو مغربی کنارے میں قانون کی پابندی کرنے والے لاکھوں یہودی باشندوں کو بدنام کرنے کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ‘‘
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں اور فوج کے مہلک تشدد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ زیتون کی سالانہ کٹائی کے موسم میں ایسے حملوں میں خاص طور پر تیزی دیکھی گئی ہے۔ اسرائیلی آبادکاری پر نظر رکھنے والے گروپ ’یش دین‘ کے مطابق، ۲۷؍ ستمبر سے اب تک زیتون کی فصل کی کٹائی سے براہِ راست متعلق کم از کم۲۳۴؍حملے کئے جاچکے ہیں۔ گروپ نے بتایا کہ ان میں سے ایک چوتھائی سے زیادہ واقعات میں اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی بھی ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران فلسطینی قصبوں اور پناہ گزین کیمپوں میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جبکہ چیک پوسٹوں اور ناکوں نے فلسطینیوں کی نقل و حرکت کو بری طرح محدود کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: میڈرڈ، میکسیکوسٹی: فلسطین سے اظہارِ یکجہتی، فنکاروں نے میٹرو اسٹیشنوں کےنام بدلے

اسرائیل نے۱۹۶۷ء کی چھ روزہ جنگ کے دوران مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ پر قبضہ کرلیا تھا۔ بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے اس قبضے کو غیرقانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کے حق سے متصادم ہے۔ اس کے بعد سے اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں اپنی بستیاں قائم کرنے اور انہیں وسعت دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اب مغربی کنارے میں پانچ لاکھ سے زیادہ اسرائیلی آبادکار رہتے ہیں، جبکہ تقریباً۳۰؍ لاکھ فلسطینی اسرائیلی فوجی حکمرانی کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ فلسطینی اتھاریٹی کو صرف الگ تھلگ علاقوں میں محدود خودمختاری حاصل ہے۔ 
اکتوبر ۲۰۲۳ءمیں حماس کے جنوبی اسرائیل پر مہلک حملوں اور اس کے بعد غزہ پر اسرائیل کی غیرمعمولی بمباری کے نتیجے میں مغربی کنارے میں بھی تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، گزشتہ تین برسوں کے دوران اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے ہاتھوں ۱۱۴۰؍ سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔ آبادکاروں کے حملے اب پہلے سے زیادہ بے خوفی کے ساتھ کئےجارہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کو قرار دیا جاتا ہے جس میں آبادکاری کی حمایت کرنے والے افراد وزیر بھی شامل ہیں۔ اس حکومت کے دور میں اسرائیلی بستیوں اور چھوٹی آبادکار چوکیوں میں تیزی سے توسیع ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ روس ڈیزل معاہدے کے ساتھ تاریخ کے غلط رخ پر ہیں: زیلنسکی

نیتن یاہو نے بظاہر ان حملوں پر تنقید کی ہے، تاہم ایسے واقعات پر اسرائیل کے دیرینہ اتحادیوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ برطانیہ سمیت بعض ممالک نے اسرائیل کے خلاف پابندیوں کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ ستمبر میں برطانیہ نے اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیا کی تجارت پر پابندی عائد کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس پر اسرائیل نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا، ’’برطانوی حکومت اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں آبادکار دہشت گردوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کی جارہی ہے۔ ‘‘ اسی ہفتے اردن نے خبردار کیا کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کو ایک ایسے دھماکہ خیز بحران کی طرف دھکیل رہا ہے جو پورے خطے کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔ دی انڈیپنڈنٹ کے ساتھ شیئر کئے گئے ایک بریفنگ نوٹ میں اردن نے الزام لگایا کہ اسرائیل مغربی کنارے میں غزہ جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے، تاکہ فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کیا جاسکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK