غزہ نسل کشی کی تیسری برسی پر مغربی کنارے میں فلسطینی تعلیمی اداروںنے کلاسیں معطل کر دیں،جبکہ ممکنہ کشیدگی کے خدشات کے درمیان اسکولوں اوریونیورسٹی کے شیڈول میں تبدیلی، اور آن لائن منتقل کردئے گئے۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 10:06 PM IST | Jerusalem
غزہ نسل کشی کی تیسری برسی پر مغربی کنارے میں فلسطینی تعلیمی اداروںنے کلاسیں معطل کر دیں،جبکہ ممکنہ کشیدگی کے خدشات کے درمیان اسکولوں اوریونیورسٹی کے شیڈول میں تبدیلی، اور آن لائن منتقل کردئے گئے۔
فلسطینی تعلیمی اداروں نے بدھ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی نسل کشی کے آغاز کی تیسری برسی پر ممکنہ کشیدگی اور فیلڈ میں اضافے کے خدشات کے درمیان کلاسوں کی معطلی یا دوبارہ شیڈولنگ کا اعلان کیا۔ان اقدامات میں سرکاری اور نجی اسکولوں کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیاں بھی شامل تھیں، جن میں سے کچھ اداروں نے کلاسوں کو آن لائن منتقل کر دیا۔شمالی مغربی کنارے میں ایک نجی ادارے النجاح نیشنل یونیورسٹی نے کہا کہ اس کے طلبہ بدھ کو موجودہ حالات کے پیش نظر اور غزہ پر جنگ کے آغاز کی تیسری برسی پر ان کی حفاظت کے پیش نظر فاصلاتی کلاسوں میں شرکت کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے: زیک برائن کے کنسرٹ میں موسیقاروں کا فلسطین سے اظہارِ یکجہتی، ہند رجب کو خراج
جبکہ مغربی کنارے کے بیشتر علاقوں میں تعلیمی اداروں نے بدھ کی کلاسوں کو موجودہ حالات کے پیش نظر اور طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے منگل کو منتقل کر دیا۔تاہم فلسطینی اتھارٹی کو درپیش مالی بحران کی وجہ سے سرکاری اسکول ہفتے میں تین دن کام کر رہے ہیں۔ بعد ازاں اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارےکان نے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل نے۵؍ اور۷؍ اکتوبر کو۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کے واقعات کی برسی کے موقع پر مغربی کنارے اور غزہ کے ساتھ کراسنگ کی جامع بندش کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ نسل کشی کے ۳؍ سال: ۲۰؍ ہزار طلبہ، ۲۶۳؍ صحافی شہید: فلسطینی وزارت
واضح رہے کہ فلسطینی ذرائع کے مطابق،۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کو غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی شروع ہونے کے بعد سے، اسرائیلی افواج اور قابضین نے مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں حملے تیز کر دیے ہیں، جن میں قتل، گرفتاریاں، نقل مکانی، گھروں کو مسمار کرنا، زمین کو ہموار کرنا اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع شامل ہے۔