ضلع مرشد آباد میں احتجاج کے بعد اب اتر دیناج پور میں احتجاج نے پرتشدد رُخ اختیار کرلیا ،ریاستی شاہراہ کو بند کردیا گیا ،علاقے میں فورس تعینات
EPAPER
Updated: January 17, 2026, 8:20 AM IST | Kolkata
ضلع مرشد آباد میں احتجاج کے بعد اب اتر دیناج پور میں احتجاج نے پرتشدد رُخ اختیار کرلیا ،ریاستی شاہراہ کو بند کردیا گیا ،علاقے میں فورس تعینات
مغربی بنگال میں خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے خلاف ناراضگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ضلع مرشدآباد کے فرخہ کے بعد اب اتر دیناج پور کے چاکولیا علاقے میں احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا، جہاں گورکھپور دوم بی ڈی او دفتر میں شدید توڑ پھوڑ اور آگزنی کی گئی۔ اس احتجاج میں بڑی تعداد میں وہ افراد شامل تھے جنہیں ایس آئی آر سے متعلق سماعت کے لئے طلب کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق چاکولیا میں مظاہرین نے ریاستی شاہراہ کو بند کر دیا، جس کے باعث آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی اور طویل جام لگ گیا۔ مظاہرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا اور صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ اسی دوران بی ڈی او دفتر میں ہنگامہ آرائی کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد پولیس کی نفری موقع پر پہنچی اور حالات پر قابو پانے کی کوشش کی۔بی ڈی او کی جانب سے چاکولیا پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی شکایت کے مطابق صبح تقریباً ساڑھے نو بجے کے قریب قریب تین سو افراد نے دفتر کے سامنے احتجاج کیا۔ پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی، تاہم ہجوم کے دباؤ کے باعث صورتحال قابو سے باہر ہو گئی۔ الزام ہے کہ مظاہرین دفتر میں گھس گئے اور وہاں موجود الیکٹرانک آلات، کرسیاں، میزیں اور دیگر سامان کو نقصان پہنچایا، اہم سرکاری دستاویز بھی پھاڑ دی گئیں۔ اس واقعے میں تقریباً بیس لاکھ روپے کی سرکاری املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کے دوران پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا گیا۔ فی الحال حالات قابو میں ہیں لیکن کشیدہ ہیں۔