آنجہانی این سی پی سربراہ سب سے طویل مدت تک نائب وزیر اعلیٰ رہے اور ۱۲؍ویں مرتبہ ریاستی بجٹ پیش کرنے والے تھے۔آئندہ ماہ بجٹ اجلاس ہے
EPAPER
Updated: January 29, 2026, 11:24 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
آنجہانی این سی پی سربراہ سب سے طویل مدت تک نائب وزیر اعلیٰ رہے اور ۱۲؍ویں مرتبہ ریاستی بجٹ پیش کرنے والے تھے۔آئندہ ماہ بجٹ اجلاس ہے
اجیت پوار نے ریاست کے وزیر مالیات کی حیثیت سے ۱۱؍ مرتبہ ریاستی بجٹ پیش کیا تھا اور آئندہ ماہ بجٹ اجلاس شروع ہونے والا ہے جبکہ مارچ میں ریاست کا سالانہ بجٹ پیش کیا جانا ہے ۔ ان کی ناگہانی موت کے بعد اب یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ ان کی جگہ بجٹ کون پیش کرے گا۔ اجیت پوار اگر وزیر کی حیثیت سے اپنی مدت پوری کرتے تو سب سے زیادہ ریاستی بجٹ پیش کرنے والے وزیر بن جاتے تھے۔ البتہ وہ ریاست کے سب سے طویل عرصہ تک نائب وزیر اعلیٰ ہونے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ کانگریس کے سینئر لیڈر شیش رائو وانکھیڈے نے سب سے زیادہ ۱۳؍ مرتبہ مہاراشٹر کا سالانہ بجٹ پیش کیا تھا۔ ان کے بعد دوسرے نمبر پر اجیت پوار ہیں جو ۱۱؍ مرتبہ مہاراشٹر کا بجٹ پیش کرچکے ہیں اور مارچ میں بارہویں مرتبہ بجٹ پیش کرنے والے تھے۔ ان کے بعد تیسرے نمبر پر جینت پاٹل ہیں جنہوں نے ۱۰؍ مرتبہ اور سشیل کمار شندے نے ۹؍ مرتبہ ریاست کا سالانہ بجٹ پیش کیا تھا۔
اجیت پوار مختلف حکومتوں میں ۶؍ مرتبہ نائب وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں ۔ وہ پرتھوی راج چوان، دیویندر فرنویس، ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے کی حکومت میں نائب وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں اور موت کے وقت تک وہ موجودہ حکومت میں اس عہدے پر فائز تھے۔ تاہم ان کا وزیر اعلیٰ بننے کا خواب پورا نہ ہوسکا۔
ان کے اچانک فوت ہوجانے کی وجہ سے وزیر مالیات کا عہدہ اپنے آپ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو مل گیا ہے اور سوگ کے ۳؍ دن کے بعد نئے وزیر کے نام کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ مستقبل قریب میں بجٹ اجلاس اور سالانہ بجٹ پیش کرنے کے پیش نظر کسی کو یہ ذمہ داری حتمی یا عبوری طور پر دینا وقت کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ مہاراشٹر میں جب مہایوتی کی حکومت بنی تھی اور ایکناتھ شندے وزیر اعلیٰ تھے تب نائب وزیراعلیٰ کی حیثیت سے دیویندر فرنویس نے وزارت داخلہ اور وزیر مالیات دونوں عہدے اپنے پاس رکھے تھے۔ بعد میں جب دیویندر فرنویس وزیر اعلیٰ اور ایکناتھ شندے اور اجیت پوار نائب وزرائے اعلیٰ بنے تب وزیر مالیات کا قلمدان ایک بارپھر اجیت پوار کو دے دیا گیا تھا۔ چونکہ بجٹ کیلئے وقت بہت کم رہ گیا ہے اس لئے قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ دیویندر فرنویس خود یہ ذمہ داری نبھاسکتے ہیں۔
اجیت پوار نے گزشتہ بجٹ مہا یوتی حکومت کے ماتحت پیش کیا تھا جس میں ریاست پر ۸ء۳۹؍ لاکھ کروڑ روپے کا قرض تھا اور ۲۶-۲۰۲۵ء میں یہ قرض بڑھ کر ۹ء۳۲؍ لاکھ کروڑ روپے پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ان حالات میں بھی اجیت پوار نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ کوئی بڑا نیا ٹیکس عائد کرنے یا ’ریڈی ریکنر ریٹ‘ میں اضافہ کا ارادہ نہیں رکھتے۔
ریزرو بینک آف انڈیا کےاصولوں کے مطابق ریاست کا قرض اس کی مجموعی آمدنی کے ۲۵؍ فیصد سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے اور حکومت کے مطابق مہاراشٹر پر فی الحال آمدنی کا ۱۸ء۵۲؍ فیصد قرض ہے۔
ماضی میں اجیت پوار نے عوام کو سمجھانے کیلئے ریاستی بجٹ کو آسان زبان میں ایک کتابچہ کی شکل میں شائع کیا تھا تاکہ لوگ ٹیکس کے مشکل الفاظ کو سمجھ سکیں۔