امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے بانی اراکین ممالک کے ناموں کا اعلان کیا ہے، جس میں دنیا کے ۲۶؍ مختلف ممالک شامل ہیں۔ اس بوورڈ کے قیام کا مقصد غزہ کی تعمیر نو اور دنیا میں امن پھیلانا ہے۔
EPAPER
Updated: January 29, 2026, 9:04 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے بانی اراکین ممالک کے ناموں کا اعلان کیا ہے، جس میں دنیا کے ۲۶؍ مختلف ممالک شامل ہیں۔ اس بوورڈ کے قیام کا مقصد غزہ کی تعمیر نو اور دنیا میں امن پھیلانا ہے۔
انادولو کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے نئے تشکیل کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ (امن بورڈ) نے بدھ کے روز ۲۶؍ ممالک کو اس اقدام کے بانی اراکین کے طور پر نامزد کرنے کا اعلان کیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں ’’بورڈ آف پیس‘‘ کو باضابطہ طور پر متعارف کرانے کے ایک ہفتے بعد، انتظامیہ نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر ایک آفیشل اکاؤنٹ شروع کیا ہے۔ بانی ارکان کی فہرست میں ارجنٹنا، آرمینیا، آذربائیجان، البانیا، بحرین، بیلاروس، بلغاریہ، کمبوڈیا، ایل سیلواڈور، مصر، ہنگری، انڈونیشیا، اردن، قازقستان، کوسوو، کویت، منگولیا، مراکش، پاکستان، پیراگوئے، قطر، سعودی عربیہ، ترکی، متحدہ عرب امارات، ازبکستان اور ویتنام شامل ہیں۔
تاہم اس فہرست میں یورپ کے فرانس، جرمنی اور برطانیہ عظمیٰ جیسے بڑے ممالک، ٹرمپ کی گرین لینڈ اور ٹیرف پالیسی کی وجہ سے شامل نہیں ہیں، اسی وجہ سے یورپ کے بڑے ممالک اور واشنگٹن کے تعلقات جمود کا شکار ہیں۔ بعد ازاں یوکرین نے یہ عذر پیش کیا کہ وہ روس اور بیلاروس کے ہوتے ہوئے کس طرح حصہ لے سکتا ہے۔ بیلاروس نے شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے، جبکہ روس کو اس بورڈ میں شامل نہیں کیا گیا ہے، تاہم صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ ماسکو سابق امریکی حکومت کی طرف منجمد کئے گئے روسی اثاثوں کو فروخت کر کے بورڈ میں شامل ہونے کی فیس ۱؍ بلین ڈالر ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں مستقل جنگ بندی کیلئے اسرائیل کی مکمل واپسی ضروری ہے: فلسطینی سفیر
ٹرمپ نے ورلڈ اکنامک فورم میں وزیر اعظم مارک کارنی کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کینیڈا کی دعوت کو مسترد کر دیا، جس میں انہوں نے بڑی طاقتوں کی طرف سے معاشی جبر کے خلاف خبردار کیا تھا۔ واضح ہو کہ ٹرمپ نے غزہ کیلئے اپنے وسیع تر منصوبے کے حصے کے طور پر بورڈ آف پیس کے قیام کا اعلان ۱۵؍ جنوری کو کیا تھا، جس کے تحت جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ اس بورڈ کو نومبر ۲۰۲۵ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۸۰۳؍ کے ذریعے اختیار دیا گیا تھا۔ اس بورڈ کا قیام خصوصی طور پر جنگ بندی اور غزہ کی تعمیر نو کیلئے عمل میں آیا تھا، مگر اب اسے کے منشور کو مزید وسیع کرکے دنیا بھر کے ممالک میں امن قائم کرنے کیلئے منظم کی گیا ہے، جہاں تنازعات اور جنگیں جاری ہیں۔ واضح ہو کہ اس تنظیم کی دیگر تفصیلات اور عہدیداران کا اعلان ابھی باقی ہے۔