اس آبنائے کا محل وقوع، شمالی سمت میں واقع ایرانی پہاڑ اور اس کا جغرافیہ اس پتلی سی پٹی کو امریکہ کی پہنچ سے دور کرتا ہے، ایران کی جنگی حکمت عملی کو بھی کریڈٹ ملنا چاہئے
EPAPER
Updated: March 18, 2026, 12:32 AM IST | Mumbai
اس آبنائے کا محل وقوع، شمالی سمت میں واقع ایرانی پہاڑ اور اس کا جغرافیہ اس پتلی سی پٹی کو امریکہ کی پہنچ سے دور کرتا ہے، ایران کی جنگی حکمت عملی کو بھی کریڈٹ ملنا چاہئے
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ تھوپنے اور پھر اس میں پسپا ہونے کے بعد دنیا کی اینرجی لائف لائن کہلانے والی آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کے لئے دنیا بھر کے ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ یہاں اپنی فوجی اور ہتھیار بھیجیں تاکہ ایران کو ناکہ بندی سے باز رکھاجاسکے۔ اس اپیل سے ایک بات تو واضح ہو گئی کہ امریکہ اپنے تمام تر جدید جنگی ہتھیاروں، بحری بیڑوں ، جنگی طیاروں اور سیکڑوں میزائلوں کے باوجود آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول حاصل نہیں کرسکا ہے اور نہ ایران ناکہ بندی سے روک سکا ہے۔ آخر ٹرمپ اس معاملے میں ناکام کیوں ہو رہے ہیں؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ آئیے جانتے ہیں:
سمندری بارودی سرنگیں
ماہرین کے مطابق اس خطے میں کشیدگی کے باعث سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ایران کی فوجی صلاحیتوں کے حوالے سے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے پاس سمندری بارودی سرنگوں (مائنز) کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، جو کم لاگت کے باوجود انتہائی مؤثر دفاعی ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران نے ایک مضبوط دفاعی نظام بھی تیار کیا ہے، جس میں میزائل، ڈرونز اور ساحلی دفاعی نظام شامل ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ اس اہم آبی راستے کی حفاظت کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں، بلکہ اس کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششیں درکار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ روزانہ ۶۰؍ سے زائد تیل بردار جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لئےمسلسل نگرانی، بحری گشت اور جدید سیکوریٹی اقدامات ضروری ہیں ۔
اس علاقے کا جغرافیہ
آبنائے ہرمز۳۴؍ کلومیٹر وسیع ایک پتلی سے پٹی ہے جس کے شمال میں ایران ہے جبکہ جنوب میں خلیجی ممالک ہیں جن میں عمان کاسب سے زیادہ حصہ اس آبنائے کو کوَر کرتا ہے۔ ہرمز کے شمالی علاقے میں پہاڑیاں زیادہ ہیں جس کا فطری فائدہ ایران کو ملتا ہے۔ وہ یہاں کے پہاڑوں میں اپنی سرنگیں بناکر یہاں سے گزرنے والے ایک ایک جہاز پر نظر رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کیلئے ناکہ بندی بے حدآسان ہے۔
آپریشنل مسائل
ایک اور بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ آبنائے بھلے ہی ۳۴؍ کلومیٹر چوڑی ہو لیکن یہاں سے بڑے جہاز گزارنے کیلئے صرف ۸؍ کلومیٹر کا علاقہ ملتا ہے کیوں کہ اس پانی میں گہرانی زیادہ ہے۔ بقیہ جگہوں پر پانی کی گہرائی بہت کم ہے اس لئے بڑے جہاز وہاں سے گزرنہیں سکتے ۔امریکہ نے اپنا بحری بیڑہ ایران کی طرف روانہ کیا تھا لیکن وہ آبنائے ہرمز میں داخل نہیں ہو سکا کیوں کہ ایک تو یہ بہت بڑا جہاز ہے دوسرا اسے موڑنے کیلئے دونوں طرف سے ۴؍ ۴؍ کلومیٹر رقبہ درکار ہے ۔ اگر امریکی نیوی اسے آبنائے ہرمز میں موڑنے کوشش کرتی تواس کے عرشے پر بنایا گیا ’رن وے ‘ بہت آسانی سے ایران کی سرنگوں میں نصب توپوں کی زد میں آجاتا ہے۔ ایسے میں یہ پوری طرح سے ناکارہ ہو جاتا ۔ اسی لئے امریکہ نے یہ بحری بیڑہ وہاں لے جانے کی ہمت نہیں کی ۔
ایران کی حکمت عملی
یہاں ایران نے ’خلیج فارس بیلسٹک ‘ میزائل بھی تعینات کررکھے ہیں جو میزائل ٹرکوں پر لاد کر لوڈ کئے جاتے ہیں اور نشانہ پر مارے جاتے ہیں۔ یہ سب سے بڑا ڈر امریکہ کو ستارہا ہے۔ دوسرا ڈر جو امریکہ کو یہاں داخل ہونے سے روک رہا ہے وہ سمندری بارودی سرنگیں ہیں۔ایران نے یہ ہزاروں کی تعداد میں بچھادی ہیں۔ امریکہ حالانکہ اپنے ساتھ ’اینٹی مائن ‘ آلات لایا ہے لیکن وہ صرف چند سَو مائین کو ناکارہ بناسکتی ہیں ،ہزاروں کی تعداد میں بچھائی گئی سمندری بارودی سرنگوں کا کوئی علاج نہیں کرسکتیں۔