۲۰۲۳ء تک وینزویلا کے تصدیق شدہ تیل کے ذخائر تقریباً ۳۰۳؍ ارب بیرل تھے۔ یہ مقدار سعودی عرب ، ایران اور کینیڈا سے کہیں زیادہ ہے
EPAPER
Updated: January 05, 2026, 11:12 PM IST
۲۰۲۳ء تک وینزویلا کے تصدیق شدہ تیل کے ذخائر تقریباً ۳۰۳؍ ارب بیرل تھے۔ یہ مقدار سعودی عرب ، ایران اور کینیڈا سے کہیں زیادہ ہے
امریکہ کی جانب سے وینزویلا پر حملے اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو بغیر کسی مزاحمت کے امریکہ منتقل کرنے پر دنیا بھر کی توجہ اس ملک پر اچانک مرکوز ہوگئی ہے جو تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود معاشی مشکلات کا شکار ہے۔
الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ ملک سیاہ سونے یعنی تیل کے ایک عظیم سمندر پر بیٹھا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۳ء تک وینزویلا کے تصدیق شدہ تیل کے ذخائر تقریباً ۳۰۳؍ ارب بیرل تھے۔ یہ مقدار سعودی عرب (۲۶۷ء۲؍ ارب بیرل)، ایران اور کینیڈا جیسے بڑے ممالک سے بھی کہیں زیادہ ہے۔
امریکہ کے مقابلے میں دیکھا جائے تو اسکے پاس وینزویلا سے تقریباً ۵؍ گنا کم تیل ہے (۵۵؍ ارب بیرل)۔ اس طرح وینزویلا کو دنیا کے امیر ترین ممالک میں ہونا چاہیے تھا، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ ملک آج اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے بھی جدوجہد کر رہا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے عام شہری کی قوت خرید بہت کم ہے۔ مقامی کرنسی بولیوار کی قدر شدید گراوٹ کا شکار ہے۔ شدید عالمی پابندیوں کے ساتھ اربوں ڈالرز کے قرضوں نے بھی وینزویلا کو جکڑ رکھا ہے۔ رائٹرز کے مطابق تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ وینزویلا کے تقریباً۶۰؍ ارب ڈالر مالیت کے ڈیفالٹ شدہ بانڈز تاحال واجب الادا ہیں جبکہ وینزویلا کا مجموعی بیرونی قرضہ تقریباً ۱۵۰؍ سے۱۷۰؍ارب ڈالر کے درمیان بنتا ہے۔
عام قاری کے ذہن میں یہ سوال آنا فطری ہےکہ اتنا تیل ہونے کے باوجود وینزویلا اتنی معاشی مشکلات کا شکار کیوں ہے؟ اس کا جواب وینزویلا کے جغرافیہ اور ٹیکنالوجی میں پوشیدہ ہے۔ وینزویلا کا زیادہ تر تیل ملک کے مشرقی حصے میں واقع اورینوکو بیلٹ میں پایا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ ہیوی کروڈ آئل (بھاری خام تیل) ہے۔ یہ تیل نہایت گاڑھا ہوتا ہے جسے نکالنا اور صاف کرنا عام تیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ہے۔ اس تیل میں سلفر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جسے نکالنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور بھاری سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ چونکہ یہ تیل زیادہ بھاری اور پروسیسنگ کے لحاظ سے مشکل ہے، اس لئے عالمی منڈی میں یہ دوسرے ممالک کے خام تیل کے مقابلے میں کہیں کم قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔ تیل کے معیار کے مسائل کے ساتھ ساتھ مبینہ حکومتی بدانتظامی نے بھی حالات کو مزید خراب کردیا ہے۔ سرکاری ملکیت کی آئل کمپنی پیٹرو لیوس ڈی وینزویلاپورے تیل کے شعبے کو کنٹرول کرتی ہے۔ تاہم پابندیوں اور ناموزوں پالیسیوں کے باعث انفرا اسٹرکچر میں برسوں کی کم سرمایہ کاری کی وجہ سے مشینری پرانی ہوچکی ہے اور پیداوار کی صلاحیت میں نمایاں کمی آگئی ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی عدم استحکام اور بدعنوانی نے مسائل کو اور بھی سنگین بنا دیا ہے۔
اسی وجہ سے وینزویلا نے۲۰۲۳ء میں صرف۴ء۰۵؍ ارب ڈالر مالیت کا تیل برآمد کیا۔ اس کے مقابلے میں سعودی عرب نے۱۸۱؍ ارب ڈالر اور امریکہ نے۱۲۵؍ ارب ڈالر کا تیل برآمد کیا۔ یوں بے پناہ ذخائر کے باوجود ان وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال نہ کر پانا ہی وینزویلا کی غربت اور معاشی مشکلات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینزویلا اپنے تیل کے ذخائر کا صرف ایک فیصد انتہائی دشواری سے نکال پاتا ہے۔ حالیہ امریکی ناکہ بندی جس کے تحت پابندیوں کا شکار تیل بردار جہازوں کو روکا گیا، نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ امریکہ نے وینزویلا پر تیل کی فروخت پر بھی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں، ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا یہ پابندی ہٹائی جائے گی یا نہیں۔گزشتہ روز ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم وینزویلا میں بڑی امریکی تیل کمپنیوں کو بھیجیں گے، جو اربوں ڈالر خرچ کریں گی، بری طرح تباہ شدہ تیل کے بنیادی ڈھانچے کو ٹھیک کریں گی اور ملک کیلئے آمدنی پیدا کریں گی۔