• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر کے باوجود وینزویلا غریب کیوں؟

Updated: January 05, 2026, 11:12 PM IST

۲۰۲۳ء تک وینزویلا کے تصدیق شدہ تیل کے ذخائر تقریباً ۳۰۳؍ ارب بیرل تھے۔ یہ مقدار سعودی عرب ، ایران اور کینیڈا سے کہیں زیادہ ہے

File photo of a Venezuelan oil refinery
وینزویلا کی ایک آئل ریفائنری کی فائل فوٹو

امریکہ کی جانب سے وینزویلا پر حملے اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو بغیر کسی مزاحمت کے امریکہ منتقل کرنے پر دنیا بھر کی توجہ اس ملک پر اچانک مرکوز ہوگئی ہے جو تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود معاشی مشکلات کا شکار ہے۔  
 الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ ملک سیاہ سونے یعنی تیل کے ایک عظیم سمندر پر بیٹھا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۳ء تک وینزویلا کے تصدیق شدہ تیل کے ذخائر تقریباً ۳۰۳؍ ارب بیرل تھے۔ یہ مقدار سعودی عرب (۲۶۷ء۲؍ ارب بیرل)، ایران اور کینیڈا جیسے بڑے ممالک سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ 
 امریکہ کے مقابلے میں دیکھا جائے تو اسکے پاس وینزویلا سے تقریباً ۵؍ گنا کم تیل ہے (۵۵؍ ارب بیرل)۔ اس طرح وینزویلا کو دنیا کے امیر ترین ممالک میں ہونا چاہیے تھا، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ ملک آج اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے بھی جدوجہد کر رہا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے عام شہری کی قوت خرید بہت کم ہے۔ مقامی کرنسی بولیوار کی قدر شدید گراوٹ کا شکار ہے۔  شدید عالمی پابندیوں کے ساتھ اربوں ڈالرز کے قرضوں نے بھی وینزویلا کو جکڑ رکھا ہے۔ رائٹرز کے مطابق تجزیہ کاروں کا  اندازہ  ہے کہ وینزویلا کے تقریباً۶۰؍ ارب ڈالر مالیت کے ڈیفالٹ شدہ بانڈز تاحال واجب الادا ہیں جبکہ وینزویلا کا مجموعی بیرونی قرضہ تقریباً ۱۵۰؍ سے۱۷۰؍ارب ڈالر کے درمیان بنتا ہے۔ 
 عام قاری کے ذہن میں یہ سوال آنا فطری ہےکہ اتنا تیل ہونے کے باوجود وینزویلا اتنی معاشی مشکلات کا شکار کیوں ہے؟  اس کا جواب وینزویلا کے جغرافیہ اور ٹیکنالوجی میں پوشیدہ ہے۔ وینزویلا کا زیادہ تر تیل ملک کے مشرقی حصے میں واقع  اورینوکو بیلٹ میں پایا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ ہیوی کروڈ آئل (بھاری خام تیل) ہے۔ یہ تیل نہایت گاڑھا ہوتا ہے جسے نکالنا اور صاف کرنا عام تیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ہے۔ اس تیل میں سلفر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جسے نکالنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور بھاری سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ چونکہ یہ تیل زیادہ بھاری اور پروسیسنگ کے لحاظ سے مشکل ہے، اس لئے  عالمی منڈی میں یہ دوسرے ممالک کے خام تیل کے مقابلے میں کہیں کم قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔  تیل کے معیار کے مسائل کے ساتھ ساتھ مبینہ حکومتی بدانتظامی نے بھی حالات کو مزید خراب کردیا ہے۔ سرکاری ملکیت کی آئل کمپنی پیٹرو لیوس ڈی وینزویلاپورے تیل کے شعبے کو کنٹرول کرتی ہے۔ تاہم پابندیوں اور ناموزوں پالیسیوں کے باعث انفرا اسٹرکچر میں برسوں کی کم سرمایہ کاری کی وجہ سے مشینری پرانی ہوچکی ہے اور پیداوار کی صلاحیت میں نمایاں کمی آگئی ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی عدم استحکام اور بدعنوانی نے مسائل کو اور بھی سنگین بنا دیا ہے۔ 
 اسی وجہ سے وینزویلا نے۲۰۲۳ء میں صرف۴ء۰۵؍ ارب ڈالر مالیت کا تیل برآمد کیا۔ اس کے مقابلے میں سعودی عرب نے۱۸۱؍ ارب ڈالر اور امریکہ نے۱۲۵؍ ارب ڈالر کا تیل برآمد کیا۔ یوں بے پناہ ذخائر کے باوجود ان وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال نہ کر پانا ہی وینزویلا کی غربت اور معاشی مشکلات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔  تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینزویلا اپنے تیل کے ذخائر کا صرف ایک  فیصد انتہائی دشواری سے نکال پاتا ہے۔ حالیہ امریکی ناکہ بندی جس کے تحت پابندیوں کا شکار تیل بردار جہازوں کو روکا گیا، نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ امریکہ نے وینزویلا پر تیل کی فروخت پر بھی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں، ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا یہ پابندی ہٹائی جائے گی یا نہیں۔گزشتہ روز ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم وینزویلا میں بڑی امریکی تیل کمپنیوں کو بھیجیں گے، جو اربوں ڈالر خرچ کریں گی، بری طرح تباہ شدہ تیل کے بنیادی ڈھانچے کو ٹھیک کریں گی اور ملک کیلئے آمدنی پیدا کریں گی۔

venezuela Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK