امریکی محکمہ خزانہ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے قانونی اخراجات ادا کرنےکی رعایت دینے کے چند گھنٹوں بعد بنا کسی وضاحت کے واپس لے لی، جس سے مادورو کی قانونی نمائندگی کے لیے فنڈز کی منتقلی روک دی گئی۔
EPAPER
Updated: February 26, 2026, 9:08 PM IST | Washington
امریکی محکمہ خزانہ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے قانونی اخراجات ادا کرنےکی رعایت دینے کے چند گھنٹوں بعد بنا کسی وضاحت کے واپس لے لی، جس سے مادورو کی قانونی نمائندگی کے لیے فنڈز کی منتقلی روک دی گئی۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس پر نیویارک میں منشیات کی سمگلنگ کے الزامات ہیں، اور وہ فی الحال مقدمے کے منتظر ہیں۔ ان کے وکیل بیری پولاک کے مطابق، وینزویلا کی حکومت روایتی طور پر صدر اور خاتون اول کے قانونی اخراجات برداشت کرتی ہے۔ تاہم، امریکی محکمہ خزانہ نے ۹؍ جنوری کو دی گئی استثنائی رعایت کو اسی دن واپس بھی لے لیا، جس سے مادورو کی قانونی نمائندگی کے لیے فنڈز کی منتقلی روک دی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی افواج کارٹیل کے سربراہ کے خلاف کارروائی میں شامل نہیں: صدر میکسیکو
حالانکہ محکمہ نے اس رعایت کی معطلی کی کوئی وجہ نہیں بتائی،جبکہ پولاک نے عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں کہا کہ مادورو کو وینزویلا کی حکومت سے قانونی اخراجات کی ادائیگی کی توقع ہے اور وہ خود وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یاد رہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو ۳؍ جنوری کو امریکی اسپیشل فورسز نے کراکاس میں واقع ان کی رہائش گاہ سے اغوا کیا تھا، جس کے بعد سے وہ نیویارک میں حراست میں ہیں۔امریکی استغاثہ کا الزام ہے کہ مادورو نے اپنے۱۳؍ سالہ دور حکومت میں منشیات کے اسمگلروں کی مدد کی۔ مادورو کے اغوا کے بعد وینزویلا کی انتظامیہ ان کے سابق نائب صدر ڈیلسی روڈریگز چلا رہے ہیں، تاہم مادورو نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ وہ اب بھی ملک کے جائز صدر ہیں۔