Inquilab Logo Happiest Places to Work

”کوئی نئی جنگ نہیں“ مہم کے بعد، ٹرمپ نے صرف ۲؍ سال میں ۸؍ ممالک پر حملوں کا حکم دیا

Updated: March 09, 2026, 9:57 PM IST | Washington

’ٹائم‘ میگزین کے آنے والے شمارے کے سرورق پر ٹرمپ کی”میک امریکہ گریٹ اگین“ (ماگا MAGA) مہم سے جڑی آٹھ سرخ رنگ کی ٹوپیاں دکھائی گئی ہیں۔ ہر ٹوپی پر اس ملک کا نام درج ہے جہاں امریکی افواج نے ٹرمپ کے حکم پر آپریشنز یا فضائی حملے کئے ہیں۔

TIME`s Title Page. Photo: X
’ٹائم‘ کے تازہ شمارے کا سرورق۔ تصویر: ایکس

’ٹائم‘ میگزین کی ایک حالیہ رپورٹ میں نمایاں کیا گیا ہے کہ نئی جنگوں سے بچنے کا وعدہ کرنے والے اور ”کوئی نئی جنگ نہیں“ کا نعرہ لگانے والے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی موجودہ صدارتی مدت کے پہلے ۲؍ سال میں ۸؍ ممالک میں فوجی کارروائیوں یا حملوں کی اجازت دی۔ 

معروف امریکی میگزین کی آنے والی کور اسٹوری، جس کا عنوان ”ٹرمپ کی جنگ“ (Trump`s War) ہے، نے انٹرنیٹ پر بڑے پیمانے پر بحث چھیڑ دی ہے۔ آنے والے شمارے کے سرورق پر ٹرمپ کی”میک امریکہ گریٹ اگین“ (ماگا MAGA) مہم سے جڑی آٹھ سرخ رنگ کی ٹوپیاں دکھائی گئی ہیں۔ ہر ٹوپی پر اس ملک کا نام درج ہے جہاں امریکی افواج نے ٹرمپ کے حکم پر آپریشنز یا فضائی حملے کئے ہیں۔ ان ممالک میں ایران، وینزویلا، نائجیریا، عراق، شام، یمن، ایکواڈور اور صومالیہ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ۲۰۰؍ امریکی فوجی ہلاک، متعددزخمی، کئی گرفتار

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تصویر ان فوجی سرگرمیوں کی وسعت کی علامت ہے جن کا حکم ٹرمپ نے جنوری ۲۰۲۵ء میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے دیا ہے۔ سب سے اہم کارروائیوں میں جون ۲۰۲۵ء میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے بھی شامل ہیں جن میں تہران کے جوہری پروگرام کو کمزور کرنے کی کوشش کے تحت فردو، نتنز اور اصفہان جیسے مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ 

امریکی افواج نے صومالیہ اور شام میں عسکریت پسند گروہوں کے خلاف آپریشنز بھی کئے ہیں، ساتھ ہی یمن میں حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملے بھی کئے گئے۔ نائجیریا میں، ۲۰۲۵ء میں مقامی حکام کے ساتھ مل کر ریاست سوکوٹو میں مشتبہ داعش کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے لئے امریکی میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔

رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے دور میں فوجی کارروائیوں کا یہ حجم ان کی انتخابی بیان بازی کے بالکل برعکس ہے، جس میں ”امریکہ فرسٹ“ (America First) کا طریقہ کار اور طویل غیر ملکی تنازعات سے بچنے کے وعدوں پر زور دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: ۱۵؍ اہم واقعات، عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی پر اثرات

صدر کے حامیوں نے ان کارروائیوں کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حملے فیصلہ کن قیادت اور بیرونِ ملک سیکوریٹی خطرات کا مقابلہ کرنے کی خواہش کا ثبوت ہیں۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ آپریشنز بیرونِ ملک امریکی فوجی مداخلت میں توسیع کی نمائندگی کرتے ہیں اور مداخلت کو محدود کرنے کے سابقہ وعدوں کی خلاف ورزی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK