بہار میں آندھی اور طوفان کا قہر ،۳۳؍ افراد لقمۂ ا جل

Updated: May 22, 2022, 10:53 AM IST | patna

۱۶؍ اضلاع میںشدید آندھی، ۶۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کے نتیجے میںدرخت اور چھتیں گرنے کے واقعات ،اُدھر آسام اور کرناٹک بھی بے حال

Traffic affected due to falling trees due to strong winds at a place in Patna
:پٹنہ میںایک مقام پر تیز آندھی کے سبب درخت گرنے سے ٹریفک متاثر ہو

: بہار میںگزشتہ کچھ دنوں سے آندھی اور طوفان اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کے نتیجے میں۳۳؍ افراد لقمہ ا جل بن گئے ۔بہار کے ۱۶؍ اضلاع شدید آندھی اور طوفان سے متاثر ہوئے ہیں۔ریاست میں جمعرات کو گرج چمک  کے ساتھ تیز  بارش شروع ہوئی تھی ۔ تیز ہواؤں کے سبب پٹنہ میں کئی مقامات پر چھپڑے وغیرہ اڑنے کی بھی اطلاعات ملی تھیں۔ آندھی  طوفان  کے نتیجے میں اب تک ۳۳؍ اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔ریاست میں کہیں ہلکی بارش تو کہیں کہیں ژالہ باری کا بھی سلسلہ بھی جاری ہے۔مہلوکین میں مظفر پور سے ۵؍، بھاگلپور سے ۴؍، لکھی سرائے سرن سے ۳؍، مونگیر سے ۲؍ اور جموئی، پورنیہ، نالندہ، جہان آباد، بنکا، بیگوسرائے، کھگڑیا اور ارریہ سے ایک ایک شخص شامل ہے۔ یہ جمعرات  اور جمعہ کو ملنے والی مہلوکین کی  ابتدائی اطلاعات تھیں ،تازہ اطلاعات کے مطابق  مزید ا فراد کےفوت ہونے سے مہلوکین کی تعداد ۳۰؍ سے زیادہ ہوچکی ہے۔
 علاوہ ا زیں بہار میں آندھی کی جو تصویریں اور ویڈیوز سامنے آ ئے ہیں ان میں تیز ہوا اوردریامیں طغیانی کے درمیان  لوگ جان بچاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ پٹنہ میں لوگ گنگا ندی میں جان بچاتے ہوئے نظر آئے۔پٹنہ سے متصل مانیر میںکئی افراد گنگا ندی میں  بھری کشتیوں کو لے جا رہے تھے۔اس وقت میںندی میں طغیانی کیفیت تھی جس کے سبب ان کی کشتی ڈول گئی اور پھر ڈوبنے لگی ۔ اس پر سوار لوگوں نے گنگا میں چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی۔ اس کے بعد دوسری اور تیسری کشتی بھی تیز طوفان میں لڑکھڑا کر ڈوب گئی۔ اس پرسوارلوگوں نے بھی  بروقت  ندی میں چھلانگ لگا دی اور کشتی الٹنے کے دوران وہ وہاں سے بچ گئے۔ آندھی کے سبب  سڑکوں اور ریلوے پٹریوں پر تاریں اور درخت گرنے سے بعض مقامات پر ٹریفک اور ریل کی آمدورفت میں خلل پڑا ہے۔ بتایا گیا ہےکہ آندھی میں ہوا کی رفتار۶۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ تک تھی۔  
آسام میںسیلاب سے شدید تباہی ، کرناٹک بھی متاثر
 مانسون سے پہلے  کی آندھی،طوفان اور  تیز بارش سے بہار کے علاوہ آسام میں بھی تباہی جاری ہے۔آسام میںگزشتہ دنوںآنے والے سیلاب کے سبب جہاں مہلوکین کی تعداد ۱۵؍ ہوچکی ہےوہیں کرناٹک میں بھی ۹؍ افراد کی موت کی اطلاع ہے۔تینوں ریاستوں میں مجموعی طورپرآسمانی بجلی گرنے اور سیلاب کی وجہ سے۵۷؍ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے۲۱؍ سے۲۴؍ مئی تک کئی ریاستوں میں بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ اس کےساتھ ہی۲۳؍ مئی کو شدید بارش کی وارننگ جاری کی ہے۔
آسام میںسیکڑوں دیہات غرقاب
 آسام میں برہم پتر ندی میں سیلابی کیفیت اور اس کے ساتھ بہنے والی ندیوں نے ایسی تباہی مچائی ہے کہ سیکڑوں دیہات پانی میں ڈوب چکے ہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی۷؍ لاکھ سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔ فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔آسام میں ۵۰۰؍سے زیادہ لوگ ریلوے ٹریک پر رہنے پر مجبور ہیں۔ یہاں اب تک۱۵؍ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ادھر دہلی سے ا ڑنے والی۱۰؍ پروازوں کو خراب موسم کی وجہ سے امرتسر ایئرپورٹ پر اترنا پڑا۔
آسام کے۲۹؍ اضلاع میں۷؍ لاکھ سےزائد بے گھر
 سیلاب اور طوفان کے سبب آسام کے۲۹؍ اضلاع میں۷ء۱۲؍ لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مطابق جمنا مکھ ضلع کے ۲؍ گاؤں کے ۵۰۰؍ سے زیادہ خاندانوں نے ریلوے ٹریک پر اپنی عارضی پناہ گاہ بنا لی ہے۔ صرف ناگون ضلع میں۳ء۳۶؍ لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ضلع کاچھر میں۱ء۶۶؍ لاکھ، ہوجائی میں۱ء۱۱؍ لاکھ اور درنگ ضلع۵۲؍ ہزارمتاثر ہوئے ہیں۔

bihar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK