Updated: July 12, 2026, 7:05 PM IST
| Bengaluru
میرا نائر کی شہرۂ آفاق فلم ’’سلام بامبے!‘‘ سے شہرت حاصل کرنے والے شفیق سید کا نام کبھی ہندوستانی سنیما کے روشن مستقبل کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ قومی فلم ایوارڈ جیتنے اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملنے کے باوجود ان کی زندگی کامیابی کی بلندیوں تک نہ پہنچ سکی۔ فلمی دنیا میں مواقع نہ ملنے کے باعث انہیں ممبئی چھوڑ کر بنگلورو واپس جانا پڑا، جہاں انہوں نے آٹو رکشہ چلانا شروع کر دیا۔ غربت، بے روزگاری اور مایوسی کے طویل سفر کے باوجود شفیق سید کی زندگی آج بھی اس تلخ حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ فلمی کامیابی ہمیشہ مستقل شہرت اور خوشحالی کی ضمانت نہیں ہوتی۔
شفیق سید ۔تصویر: آئی این این
ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں بعض ایسے فنکار بھی گزرے ہیں جنہوں نے اپنی پہلی ہی فلم سے غیر معمولی شہرت حاصل کی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ انہی ناموں میں شفیق سید بھی شامل ہیں، جنہوں نے معروف ہدایت کارہ میرا نائر کی عالمی شہرت یافتہ فلم ’’سلام بامبے!‘‘ میں مرکزی کردار ادا کر کے نہ صرف ناظرین بلکہ ناقدین کو بھی متاثر کیا، مگر فلمی دنیا میں یہ کامیابی ان کے لیے مستقل روزگار اور روشن مستقبل میں تبدیل نہ ہو سکی۔ شفیق سید کا تعلق ایک عام خاندان سے تھا۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں وہ گھر سے بھاگ کر بغیر ٹکٹ ممبئی پہنچے تھے۔ ان کا خواب تھا کہ وہ اس شہر کو قریب سے دیکھیں جسے وہ ہندی فلموں میں جگمگاتا ہوا دیکھتے آئے تھے۔ ممبئی پہنچنے کے بعد وہ چرچ گیٹ ریلوے اسٹیشن کے اطراف دیگر بے گھر بچوں کی طرح سڑکوں پر زندگی گزارنے لگے۔
یہ بھی پڑھئے: معروف گلوکارہ ایس جانکی کا ۸۸؍ برس کی عمر میں انتقال، اہم شخصیات کا اظہارِ تعزیت
اسی دوران ایک روز ایک خاتون نے انہیں اور دوسرے گلی کے بچوں کو اداکاری کی ورکشاپ میں شرکت کے بدلے ۲۰؍ روپے دینے کی پیشکش کی۔ بیشتر بچوں نے اسے دھوکا سمجھ کر انکار کر دیا، لیکن بھوک سے مجبور شفیق سید نے یہ پیشکش قبول کر لی۔ یہی فیصلہ ان کی زندگی کا سب سے اہم موڑ ثابت ہوا۔ ورکشاپ کے بعد متعدد بچوں میں سے شفیق سید کو میرا نائر کی فلم ’’سلام بامبے!‘‘ میں مرکزی کردار کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ فلم نے ریلیز کے بعد عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل کی اور ہندوستانی سنیما کی چند ایسی فلموں میں شامل ہوئی جنہیں اکیڈمی ایوارڈ (آسکر) میں بہترین غیرملکی زبان کی فلم کے زمرے کے لیے نامزد کیا گیا۔ اس کامیابی نے شفیق سید کو قومی سطح پر بھی شناخت دلائی اور انہیں قومی فلم ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس وقت انہیں یقین تھا کہ اب بالی ووڈ میں ان کے لیے کامیابیوں کے دروازے کھل جائیں گے، مگر حقیقت اس کے برعکس ثابت ہوئی۔
بعد ازاں ایک انٹرویو میں شفیق سید نے بتایا کہ انہوں نے تقریباً آٹھ ماہ تک ممبئی میں مختلف فلم سازوں اور پروڈیوسرز کے دفاتر کے چکر لگائے، لیکن انہیں کوئی خاطر خواہ کام نہ مل سکا۔ مایوسی بڑھتی گئی اور بالآخر انہوں نے ممبئی چھوڑ کر اپنے آبائی شہر بنگلورو واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔ بنگلورو پہنچ کر انہوں نے اداکاری کو تقریباً خیر باد کہہ دیا اور اپنے خاندان کی کفالت کے لیے آٹو رکشہ چلانا شروع کر دیا۔ اس وقت ان کے خاندان کے پانچ افراد کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر تھی، جبکہ ان کی روزانہ آمدنی محض ۱۵۰؍ روپے کے قریب تھی۔ معاشی مشکلات اس قدر بڑھ گئیں کہ انہوں نے دو مرتبہ اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم دونوں بار وہ محفوظ رہے۔
یہ بھی پڑھئے: ماحولیات کے تحفظ پر بالی ووڈنے کئی اہم فلمیں بنائی ہیں
شفیق سید نے ۲۰۱۰ء میں اوپن میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’فلم کرتے وقت مجھے کبھی محسوس نہیں ہوا کہ میں اداکاری کر رہا ہوں۔ اس کی زبان، کردار اور حالات وہی تھے جنہیں میں خود اپنی زندگی میں جھیل چکا تھا۔ لوگ ’’سلام بامبے‘‘ کو آرٹ فلم کہتے تھے، لیکن میرے لیے یہ میری اپنی کہانی تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جب میں بامبے واپس آیا تو فلم کے بارے میں خبریں اخبارات میں مسلسل شائع ہو رہی تھیں۔ اسے مختلف قومی اور بین الاقوامی اعزازات مل رہے تھے، مگر کسی نے مجھے ان تقریبات میں مدعو نہیں کیا۔ صرف قومی فلم ایوارڈ وصول کرنے کے لیے مجھے دہلی بلایا گیا۔ اس کے بعد میں فلمی اسٹوڈیوز کے چکر لگاتا رہا، لیکن کہیں کام نہ ملا۔ ایک مرتبہ ایک جونیئر اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے اخبار میں میری تصویر دیکھ کر مجھ سے پوچھا، ‘آج کھانے میں کیا ہے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: بمل رائے فلموں کی تعدادپر نہیں معیار پر یقین رکھتے تھے
بعد میں شفیق سید ہدایت کار گوتم گھوش کی فلم ’’پتنگ‘‘ میں بھی مختصر کردار میں نظر آئے، لیکن یہ ان کے فلمی سفر کی آخری نمایاں منزل ثابت ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے عملی طور پر فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ شفیق سید کی زندگی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ فلمی دنیا میں ایک بڑی کامیابی بھی ہمیشہ مستقل شہرت، مالی استحکام اور روشن مستقبل کی ضمانت نہیں بنتی۔ ان کی داستان آج بھی ہندوستانی سنیما کے ان تلخ ابواب میں شمار کی جاتی ہے جو شہرت کے عارضی ہونے اور زندگی کی سخت حقیقتوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔