مزدوروں کے حقوق اور فوائد پہلے کی طرح ہی موجود ہیں

Updated: September 29, 2020, 12:33 PM IST | Agency | New Delhi

حکومت نے دعویٰ کیا کہ غیر منظم سیکٹر کے۴۰؍ کروڑ سے زائد مزدور نئے قوانین کے دائرے میں آئیں گے

Migrant Worker - Pic : INN
حکومت نے مزدوروںسے متعلق قوانین میں اصلاحات کی ہیں ۔ تصویر : آئی این این

حالیہ پارلیمانی اجلاس  میں منظور کئے گئےمزدوروں کی اصلاحات سے متعلق بلوں پر خدشات اور اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے حکومت نے پیر کو کہا کہ ان سے مزدوروںکو فائدہ پہنچے گا اور غیر منظم سیکٹر کے۴۰؍  کروڑ سے زائد مزدور لیبرقوانین کے دائرے میں آئیں گے۔مرکزی وزارت محنت و روزگار نے یہاں کہا کہ ان تاریخی  لیبر اصلاحات سے متعلق ضابطہ اخلاق کا مقصد مزدوروں کے فلاح و بہبود کے دائرے کو توسیع دینا ہے  ۔ وزارت نے کہا کہ لیبر کوڈ کے حوالے سے غلط افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔۳۰۰؍ سے کم ملازمین کی اکائی کوحکومت کی اجازت کے بغیر بند کرنے سے متعلق التزامات پر وضاحت کرتے ہوئے وزارت نے کہا کہ محکمہ سے منسلک پارلیمانی کمیٹی نے اس حد کو۱۰۰؍  سے بڑھا کر۳۰۰؍کرنے کی سفارش کی تھی۔ حکومت نے متعلقہ التزامات میں تبدیل کردی ہے جبکہ دیگر التزامات میں کوئی تبدیلی نہیں کی  ہے۔ مزدوروں کے حقوق اور فوائد پہلے کی طرح ہی موجود ہیں۔
  ملازم کو ملازمت سے ہٹانے سے پہلے نوٹس دینا پڑے گا اور بقیہ سروس کی مدت کے لئے اسے سالانہ۱۵؍ دن کی شرح سے معاوضہ ادا کرنا پڑے گا۔ ’ہائر اینڈ فائر‘ کی پالیسی کو فروغ دینے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے وزارت نے کہا کہ انڈسٹریل ریلیشن کوڈ کے مطابق مالک کو ہٹائے جانے والے ملازم کو دوبارہ ری  اسکل کے لئے۱۵؍ دن کی تنخواہ بھی ادا کرنی ہوگی۔    وزارت نے کہا ہے کہ اقتصادی سروے۲۰۱۹ء کے مطابق۱۰؍ سال سے زیادہ پرانی ہو چکی ہندوستانی کمپنیوں میں ملازمت فراہم کرنے شرح کم ہو گئی ہے۔کچھ کمپنیاں جان بوجھ کر ملازمین کی تعداد ۱۰۰؍ سے زائد  نہیں کررہی ہیں ۔ راجستھان میں ۲۰۱۴ء  میں ملازمین کی تعداد۱۰۰؍ سے بڑھا کر۳۰۰؍ کردی گئی، تو بہتر نتائج دیکھنے کو ملے ۔ زیادہ لوگوں کو روزگار ملا اور پیداوار میں اضافہ ہوا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK