Updated: October 11, 2026, 10:03 PM IST
| Washington
روسی ڈیزل معاہدے پر ٹرمپ کو دونوں جماعتوں کی تنقید کا سامنا ہے ، اس معاملے نے روس پر دباؤ کم کرنے کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا ہے، جبکہ انتظامیہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث بڑھتی ایندھن کی قیمتوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی
صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے روس سے ڈیزل درآمد کرکے اسے امریکہ اور عالمی منڈیوں میں سپلائی کرنے کے منصوبے پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے ارکان نے تنقید کی ہے۔ اس معاملے نے روس پر دباؤ کم کرنے کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا ہے، جبکہ انتظامیہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث بڑھتی ایندھن کی قیمتوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ریپبلکن اراکین نے روس سے ایندھن درآمد کرنے کے فیصلے پر سوال اٹھائے ہیں، جبکہ بعض اراکین نے ٹرمپ کے اس مشورے کی بھی مخالفت کی ہے کہ یوکرین کو نیا صدر منتخب کرنا چاہیے۔ بعد ازاں ڈیموکریٹس نے الزام لگایا ہے کہ ٹرمپ توانائی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور ایران کے ساتھ تنازع کے اندرونِ ملک سیاسی اثرات کو محدود کرنے کی کوشش میں روس کی یوکرین کے خلاف جنگ کی مالی معاونت کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: روسی ریفائنریوں پر حملے روکنے کی اپیل نظرانداز، ٹرمپ کا پوتن سے ڈیزل معاہدہ
لوزیانا سے ریپبلکن سینیٹر جان کینیڈی نے ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کی ٹرمپ کی کوششوں کی حمایت کی، تاہم روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ڈیزل حاصل کرنے کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہاکہ ’’میں پوتن سے ڈیزل درآمد کرنے کے فیصلے کی حمایت نہیں کرتا۔ ولادیمیر پوتن قصاب ہے، وہ اپنے ہی لوگوں کا بھی قصاب ہے اور یوکرین کے بے قصور لوگوں کا بھی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ’’ پوتن کبھی امریکہ کا دوست نہیں بن سکتا اور ایران میں جنگ ختم ہونے سے ڈیزل کی قیمتوں میں زیادہ کمی آئے گی۔‘‘ اس کے علاوہ مشی گن سے ریپبلکن سابق رکنِ ایوان نمائندگان مائیک راجرز نے بھی روسی ایندھن درآمد کرنے کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے فصلوں کی کٹائی کے موسم میں کسانوں کے اخراجات کم کرنے کے لیے ایندھن کی برآمدات پر عارضی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے جمعہ کو ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس فوری طور پر امریکہ اور عالمی منڈیوں کو۳؍ لاکھ ٹن سے زیادہ ڈیزل فراہم کرے گا، نومبر میں مزید ۵؍ لاکھ ٹن اور اس کے بعد۱۰؍ لاکھ ٹن فراہم کیے جائیں گے۔ تاہم یہ اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں اور روس-یوکرین جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے پر انتظامیہ کو دباؤ کا سامنا ہے۔
علاوہ ازیں نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے قبل بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی کے اخراجات بھی ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔پنسلوانیا سے ریپبلکن رکنِ ایوان نمائندگان برائن فٹزپیٹرک نے سنیچر کو دو طرفہ بل رونالڈ ریگن پیس تھرو اسٹرینتھ ایکٹ پیش کیا، جس کے ذریعے ٹرمپ کو روس پر عائد پابندیاں ختم کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نیبراسکا کے رکنِ ایوان نمائندگان ڈان بیکن نے بھی اس بل کی حمایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہوخود کو بچانے کیلئے مزید امریکی خون و خزانے کا خواہاں: ایرانی وزیر خارجہ
ذہن نشین رہے کہ ٹرمپ نے ستمبر میں اس قانون پر دستخط کیے تھے۔جس میں روسی توانائی کے بڑے خریداروں یا ماسکو کو پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والے ممالک پر۱۰۰؍ فیصد تک محصولات عائد کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔الاسکا سے ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکوسکی نے بھی ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ روس کو توانائی سے آمدنی بڑھانے کی اجازت دینے کے بجائے اپنے حاصل اختیارات استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ روس کو ڈیزل برآمد کرنے، آمدنی حاصل کرنے اور یوکرین میں جنگ جاری رکھنے کی اجازت دینے کے بجائے ان اختیارات کا استعمال کیا جانا چاہیے۔
ڈیموکریٹس نے اس معاہدے پر مزید سخت تنقید کی۔ نیویارک سے سینیٹ میں اقلیتی لیڈر چک شومر نے اسے شیطان کے ساتھ معاہدہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ ٹرمپ کی کمزور ہوتی سیاسی پوزیشن کو بچانے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ’’ یہ معاہدہ اسی پوتن کو فائدہ پہنچائے گا جو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے اور ہلاک کرنے کی کوشش کرنے والے ایرانیوں کی مدد کر رہا ہے اور جس نے امریکہ کے اتحادی یوکرین پر غیر قانونی حملہ کیا۔‘‘ساتھ ہی ٹرمپ کے اس معاہدے کو پوتن کو سزا کے بجائے انعام دینے کے مترادف قرار دیا جارہا ہے۔