Updated: October 17, 2026, 7:06 PM IST
| Rome
دنیا میں ایک طرف کروڑوں افراد کو پیٹ بھر کھانا اور صحت بخش غذا میسر نہیں، تو دوسری طرف ہر سال خوراک کی بڑی مقدار ضائع کردی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کی جولائی ۲۰۲۶ء کی رپورٹ کے مطابق، ۲۰۲۵ء میں دنیا کی تقریباً ۸ء۷؍ فیصد آبادی، یعنی ۶۴؍ کروڑ ۵۰؍ لاکھ افراد، بھوک کا سامنا کررہے تھے۔ دوسری جانب مجموعی طور پر ۱۰۵؍ کروڑ ٹن خوراک ضائع ہوئی۔
اقوام متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت (ایف اے او) اور دیگر متعلقہ عالمی اداروں کی رپورٹ ’’اسٹیٹ آف فوڈ سیکوریٹی اینڈ نیوٹریشن اِن دی ورلڈ ۲۰۲۶ء ‘‘ کے مطابق، دنیا میں بھوک کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد ۲۰۲۵ء میں کم ہوکر تقریباً ۶۴؍ کروڑ ۵۰؍ لاکھ رہ گئی، جو عالمی آبادی کا ۸ء۷؍ فیصد ہے۔ اس سے پہلے ۲۰۲۴ء میں تقریباً ۶۵؍ کروڑ ۹۰؍ لاکھ افراد بھوک کا شکار تھے۔ اگرچہ اس کمی کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے، لیکن عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ بہتری کی رفتار سست ہے اور دنیا ۲۰۳۰ء تک بھوک کے خاتمے کے ہدف سے اب بھی دور ہے۔ عالمی سطح پر بھوک کا مسئلہ صرف خوراک کی مقدار تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق لوگوں کی آمدنی، خوراک کی قیمتوں، جنگوں، موسمیاتی تبدیلیوں اور خوراک کی منصفانہ تقسیم سے بھی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، ۲۰۲۵ء میں دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی صحت بخش غذا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے افراد کو کچھ نہ کچھ کھانا تو میسر ہے، لیکن وہ ایسی غذا حاصل نہیں کرپاتے جس میں جسمانی نشوونما اور صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری غذائی اجزا مناسب مقدار میں موجود ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں دوبارہ جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ گیا
دوسری جانب خوراک کا ضیاع عالمی غذائی نظام کا ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کی فوڈ ویسٹ انڈیکس رپورٹ ۲۰۲۴ء کے مطابق، دنیا میں ۲۰۲۲ء کے دوران ۱۰۵؍ کروڑ ٹن خوراک ضائع ہوئی۔ یہ مقدار صارفین کے لیے دستیاب خوراک کا تقریباً ۱۹؍ فیصد تھی۔ اس تخمینے میں گھروں، ریستورانوں اور خوردہ فروشی کے شعبے میں ضائع ہونے والی خوراک شامل ہے، جب کہ کھیت سے بازار تک پہنچنے کے دوران ہونے والے غذائی نقصان کا حساب الگ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ضائع ہونے والی خوراک میں سب سے بڑا حصہ گھروں کا تھا، جہاں تقریباً ۶۳؍ کروڑ ۱۰؍ لاکھ ٹن خوراک ضائع ہوئی۔ یہ مجموعی ضیاع کا تقریباً ۶۰؍ فیصد ہے۔ ریستورانوں اور دیگر غذائی خدمات کے شعبے میں ۲۹؍ کروڑ ٹن، جب کہ خوردہ بازاروں میں ۱۳؍ کروڑ ۱۰؍ لاکھ ٹن خوراک ضائع ہوئی۔ یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ خوراک کے ضیاع کا مسئلہ صرف دکانوں یا بڑے کاروباری اداروں تک محدود نہیں، بلکہ گھریلو سطح پر بھی اس کی روک تھام ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یمن جنگ: ۲؍ لاکھ ۳۰؍ ہزار سے زائد افراد بے گھر، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ
خوراک ضائع ہونے کے اثرات صرف بھوک اور غذائی قلت تک محدود نہیں رہتے۔ خوراک پیدا کرنے کے لیے زمین، پانی، توانائی، کھاد، محنت اور نقل و حمل کے وسائل استعمال ہوتے ہیں۔ جب تیار خوراک کھانے کے بجائے کچرے میں چلی جاتی ہے تو ان تمام وسائل کا بھی ایک حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔ یو این ای پی کے مطابق، خوراک کا ضیاع اور غذائی نقصان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے مجموعی اخراج میں تقریباً ۸؍ سے ۱۰؍ فیصد حصہ ڈالتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کچرے میں گلنے سڑنے والی خوراک سے میتھین گیس پیدا ہوتی ہے، جو موسمیاتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماہرین کے نزدیک اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومتوں، خوراک تیار کرنے والی کمپنیوں، سپر مارکیٹوں، ریستورانوں اور عام صارفین کو مشترکہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ خوراک کی بہتر ذخیرہ اندوزی، ترسیل کے نظام میں بہتری، زائد خوراک کو ضرورت مندوں تک پہنچانے کے مؤثر انتظامات اور گھروں میں خریداری و استعمال کی بہتر منصوبہ بندی سے ضیاع کم کیا جاسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف میں ۲۰۳۰ء تک خوردہ فروشی اور صارفین کی سطح پر فی کس خوراک کے ضیاع کو نصف کرنے کا ہدف شامل ہے۔ تاہم، اس مقصد کے حصول کے لیے خوراک کے ضیاع کی درست پیمائش اور ممالک کی جانب سے مؤثر پالیسیوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔