• Fri, 16 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یمن جنگ: ۲؍ لاکھ ۳۰؍ ہزار سے زائد افراد بے گھر، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ

Updated: October 16, 2026, 10:03 PM IST | Sana

یمن میں اگست ۲۰۲۶ء کے آغاز سے جاری لڑائی کے نتیجے میں ۲؍ لاکھ ۳۰؍ ہزار سے زیادہ افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، حوثی باغیوں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے درمیان لڑائی نے انسانی امدادی کارروائیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے ۱۵؍ اکتوبر کو صحافیوں کو بتایا کہ بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (آئی او ایم) کے اعدادوشمار کے مطابق، یمن میں اگست کے آغاز سے اب تک ۲؍ لاکھ ۳۰؍  ہزار سے زیادہ افراد لڑائی کے باعث بے گھر ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے درمیان جاری لڑائی لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کررہی ہے اور پہلے ہی دباؤ کا شکار انسانی امدادی کارروائیوں کے لیے مشکلات بڑھا رہی ہے۔ یہ اعدادوشمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری تنازع کے باعث لاکھوں افراد پہلے ہی خوراک، رہائش اور طبی سہولتوں کے لیے امداد پر انحصار کررہے ہیں۔ فرحان حق کے مطابق، مشکل حالات کے باوجود امدادی شراکت دار ایک لاکھ ۵۲؍ ہزار سے زیادہ افراد تک ہنگامی مدد پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ تاہم، بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافے نے امدادی اداروں کی صلاحیت پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل لڑائی کے باعث امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں اور متاثرہ خاندانوں تک ضروری سامان پہنچانا دشوار ہوتا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ نے تمام فریقوں سے بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کرنے، شہریوں اور شہری تنصیبات کو تحفظ دینے اور امدادی سامان، مریضوں، ایمبولینسوں اور طبی ٹیموں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: پشاور کے اسکول کی چھت گرگئی،۲۲؍طلبہ جاں بحق

یمن میں تازہ لڑائی کے اثرات خاص طور پر تعز اور بحیرۂ احمر کے مغربی ساحلی علاقوں میں نمایاں ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اکتوبر کے اوائل میں سلامتی کونسل کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا تھا کہ اگست کے آغاز سے ۲؍ لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جو اپریل ۲۰۲۲ء میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد نقل مکانی کی سب سے بڑی لہر تھی۔ اس کے علاوہ تقریباً 4 ہزار افراد باب المندب کی آبنائے عبور کرکے جبوتی اور صومالیہ میں پناہ لینے کے لیے روانہ ہوئے۔ انسانی امدادی حکام نے خبردار کیا کہ خواتین اور بچے اس صورتِ حال میں غیر متناسب طور پر متاثر ہورہے ہیں۔ رائٹرز کی ۱۴؍ اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، لڑائی میں شدت کے باعث یمن میں تقریباً ۸؍ لاکھ افراد تک عالمی غذائی پروگرام کی امداد نہیں پہنچ پارہی۔ تعز شہر میں سیکوریٹی کی بگڑتی صورتِ حال، سڑکوں کی بندش اور محاذوں کی تبدیلی نے خوراک اور طبی سامان کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، شہر میں ۶؍ لاکھ سے زیادہ افراد امداد کے محتاج ہیں، جن میں ۲؍ لاکھ سے زیادہ بچے شامل ہیں۔ بعض اسپتالوں میں طبی سامان کی قلت بڑھ گئی ہے اور گردوں کے مریضوں کے ڈائلیسس کے لیے ضروری اشیا کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ طبی مراکز میں زخمیوں کی بڑھتی تعداد کے باعث پہلے ہی کمزور صحت کا نظام مزید دباؤ کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فرانس: طلبہ کے احتجاج میں شدت، ایک ہزار ۲۶۰؍ افراد گرفتار، ۸۶؍ فیصد نابالغ

یمن میں تنازع کی موجودہ صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے اس کی طویل تاریخ بھی اہم ہے۔ حوثی تحریک نے ۲۰۱۴ء میں دارالحکومت صنعاء اور کئی دوسرے علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا، جس کے بعد مارچ ۲۰۱۵ء میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی۔ اپریل ۲۰۲۲ء میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی کے بعد نسبتاً سکون کا دور شروع ہوا تھا، لیکن جولائی ۲۰۲۶ء سے لڑائی میں دوبارہ شدت آنے لگی۔ حالیہ مہینوں میں بڑھتی نقل مکانی، غذائی قلت اور طبی سہولتوں پر دباؤ نے انسانی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK