• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حملے میں۹۵۰؍ حوثی جنگجو ہلاک،۳۸۰؍ گاڑیاں تباہ: یمنی سرکاری فورسیز

Updated: October 13, 2026, 10:05 PM IST | Sana

یمنی سرکاری فورسیز کے مطابق حوثیوں کے خلاف حملوں میں ۹۵۰؍ حوثی جنگجو ہلاک، جبکہ ۳۸۰؍ گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں، اس فوجی کارروائی کا ہدف یمن بھر میں حوثیوں کے اہم ٹھکانے تھے، ساتھ ہی حوثیوں کے خلاف متعدد محاذوں پر۱۸۷۹؍ کارروائیاں کی گئیں۔

File Photo. Photo: INN
فائل فوٹو۔ تصویر: آئی این این

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے کہا کہ اس کی فورسیز نے جاری ’’فجر الیمن‘‘ حملے کے حصے کے طور پر ایران حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف متعدد محاذوں پر۱۸۷۹؍ کارروائیاں کیں۔فوجی ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے کہا کہ ان کارروائیوں میں۹۵۰؍ حوثی جنگجو ہلاک اور۳۸۰؍ فوجی گاڑیاں تباہ یا ناکارہ بنا دی گئیں۔ تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، اور حوثیوں نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔قاہرہ میں قائم آزاد نیوز آؤٹ لیٹ یمن مانیٹر کے مطابق النزیلی نے کہا کہ کارروائیوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں، کمانڈ سینٹرز، ہتھیاروں کے ڈپو اور دیگر فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نےایران کو چینی اور روسی مدد کی رپورٹس کو مسترد کیا؛ قطر نےآبی راستوں کو محفوظ بنانے پر زور دیا

واضح رہے کہ یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب سرکاری فورسیز گروپ کے زیر قبضہ علاقوں بشمول دارالحکومت صنعاء کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے حملہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔النزیلی نے کہا کہ کارروائیوں میں جنگی طیارے، ڈرون، توپ خانے، متعدد راکٹ لانچرز اور اسنائپر یونٹس شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اہداف میں دفاعی پوزیشن، مورچہ بندیاں، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، توپ خانے اور راکٹ لانچر سائٹس، نگرانی کی چوکیاں، فوجی اجتماعات، ہتھیاروں کے ڈپو اور سپلائی اثاثے شامل تھے۔آپریشن فجر الیمن کا آغاز۵؍ اکتوبر کو یمن کی صدارتی لیڈرشپ کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی نے کیا تھا۔عمان میں قائم رویا نیوز کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینا، ریاستی اداروں کو بحال کرنا اور دارالحکومت صنعاء پر حوثیوں کے کنٹرول کو ختم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف لڑائی میں شامل ہونے کی اسرائیلی پیشکش مسترد کر دی

یہ حملہ یمن کے مغربی ساحل اور باب المندب آبنائے پر مرکوز رہا ہے، جو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔تاہم اس تنازع نے ملک کو تقسیم کر دیا ہے اور طویل انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
ذہن نشین رہے کہ حوثی، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے۲۰۱۴ء میں صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا، جس سے ایک جنگ شروع ہوئی جس میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں سعودی زیر قیادت اتحاد شامل ہو گیا۔یہ تنازع تب سے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر چکا ہے اور دنیا کے سب سے سنگین انسانی بحرانوں میں سے ایک پیدا کر چکا ہے۔ یمن کی صدارتی لیڈرشپ کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نےکہا تھا کہ ان حملوں کے مقاصد ریاستی اداروں کو بحال کرنا، صنعاء کو واپس لینا اور جسے حکومت حوثی بغاوت کہتی ہے اسے ختم کرنا ہے۔ سرکاری فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے آبنائے اور موخا کے آس پاس کے علاقوں کو واپس لے لیا ہے، جبکہ تعز اور دیگر محاذوں کے ارد گرد لڑائی جاری ہے۔
علاوہ ازیں یمن کی مسلح افواج نے پہلے بتایا تھا کہ حوثی جنگجوؤں کو بے اثر کرنے کے علاوہ۱۸۰؍ سے زیادہ گاڑیاں تباہ یا ناکارہ بنا دی گئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK