• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف لڑائی میں شامل ہونے کی اسرائیلی پیشکش مسترد کر دی

Updated: October 13, 2026, 5:04 PM IST | Riyadh

حوثی باغیوں کے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جبکہ متعدد عرب فضائی کمپنیوں نے ریاض کیلئے پروازیں معطل کردی ہیں۔ دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے مبینہ طور پر حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی میں اسرائیل کی شمولیت کی تجویز مسترد کردی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یمن کے حوثی گروپ کے خلاف فوجی کارروائی میں اسرائیل کی شمولیت کی تجویز مسترد کردی ہے۔ اسرائیلی اخبار ’ہاریٹز‘ نے پیر کو یہ رپورٹ امریکی ثالثی کے ذریعے ریاض کی منظوری حاصل کرنے کی کوششوں کے باوجود شائع کی۔ اخبار نے ایک نامعلوم سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ سعودی ولی عہد اسرائیل کی فوجی مدد حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون سے سعودی عوام میں منفی ردعمل پیدا ہوسکتا ہے۔ اس معاملے سے واقف ایک دوسرے ذریعے نے بتایا کہ اسرائیل کو امید تھی کہ سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون سے دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط ہوں گے اور مستقبل میں تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے کی راہ ہموار ہوگی۔ اس رپورٹ پر سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: تفریحی پارک میں رولر کوسٹر حادثہ، ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی

سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ سعودی حکومت مسلسل یہ موقف اختیار کرتی رہی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے فلسطینی مسئلے کا حل ضروری ہے، جس میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام بھی شامل ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں شدت آگئی ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں کو بار بار نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور پروازوں کا نظام متاثر ہوا ہے۔ سنیچرکو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ۱۳؍ افراد ہلاک اور۳۰۰؍ سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ سعودی عرب کی جنرل اتھاریٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق، اتوار کو اسی ہوائی اڈے پر ایک اور حملے میں ایک پاکستانی شہری ہلاک اور۱۱؍ دیگر افراد زخمی ہوگئے۔ 
حملوں میں یہ شدت جولائی میں شروع ہوئی، جبکہ اپریل۲۰۲۲ءمیں اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنگ بندی کے بعد صورت حال نسبتاً پُرسکون ہوگئی تھی۔ یمن میں جنگ ستمبر ۲۰۱۴ءمیں اس وقت شروع ہوئی جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء اور کئی صوبوں پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد مارچ۲۰۱۵ء میں سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مداخلت کی۔

یہ بھی پڑھئے: آئن لائن سیل میں ۲؍دنوں میں ۲۴؍ ہزار کروڑ کی فروخت

حوثیوں کے حملوں کے بعد عرب فضائی کمپنیوں نے ریاض کیلئے پروازیں معطل کردیں 
حوثیوں کے مہلک حملوں کے نتیجے میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا نظام متاثر ہونے کے بعد عرب خطے کی متعدد فضائی کمپنیوں نے سعودی دارالحکومت کیلئے آنے اور جانے والی پروازیں معطل یا منسوخ کردی ہیں۔ بحرین کی فضائی کمپنی ’گلف ایئر‘ نے پیر کو اعلان کیا کہ ریاض کیلئے آنے اور جانے والی اس کی پروازیں ۱۲؍ اکتوبر سے ۱۷؍اکتوبر تک منسوخ رہیں گی۔ قطر ایئرویز نے بھی پیر کو موجودہ صورت حال کے پیش نظر ریاض اور دمام کیلئے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا۔ متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنی ’اتحاد ایئرویز‘ نے کہا کہ ابوظبی اور ریاض کے درمیان تمام پروازیں پیر، ۱۹؍ اکتوبر تک منسوخ کردی گئی ہیں۔ 
کمپنی نے منگل اور بدھ کو ابوظبی اور دمام کے درمیان طے شدہ تمام پروازیں بھی منسوخ کردیں، جبکہ ابوظبی اور جدہ کے درمیان جمعرات تک بعض پروازیں بھی منسوخ کی گئی ہیں۔ اس سے قبل پیر کو سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اعلان کیا تھا کہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کی معطلی غیر معینہ مدت تک بڑھا دی گئی ہے۔ اتھاریٹی کے مطابق، ہوائی اڈے کی تنصیبات کی حفاظت اور آپریشنل تیاریوں کی جانچ مکمل کرنے کیلئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ عمل متعلقہ حکام کے تعاون سے انجام دیا جارہا ہے۔ کویت ایئرویز نے بھی سنیچر اور اتوار کو جاری کئے گئے الگ الگ بیانات میں ہوائی اڈے کی عارضی بندش کے باعث ریاض کیلئے اپنی پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ۱۰؍ ماہ میں مزید ۳؍ لاکھ کروڑغیر ملکی سرمایہ نکال لیا گیا

مصر کی فضائی کمپنی ’مصر ایئر‘ نے ہفتے کو کہا تھا کہ وہ موجودہ حالات اور کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی عارضی بندش کے پیش نظر قاہرہ اور اسکندریہ سے ریاض جانے والی پروازیں اس وقت تک معطل رکھے گی جب تک ہوائی اڈے پر آپریشن بحال نہیں ہوجاتا۔ انادولو ایجنسی کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ۵؍ اکتوبر سے اب تک سعودی عرب کے پانچ ہوائی اڈوں کو حوثیوں کے۱۰؍ حملوں میں نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ ان حملوں میں ۲۰؍افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ حملوں کے نتیجے میں املاک کو بھی نقصان پہنچا اور فضائی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔ یہ حملے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جولائی سے جاری فوجی کشیدگی کے دوران ہوئے ہیں۔ اس کشیدگی میں مملکت کے شہری ہوابازی کے مراکز اور توانائی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ سعودی عرب۲۰۱۵ءسے یمن کی حکومت کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف فوجی اتحاد کی قیادت کررہا ہے۔ حوثیوں نے۲۰۱۴ءسے دارالحکومت صنعاء اور کئی صوبوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK