یوپی میں نوجوان ملازمت کیلئےخو ن سے خط لکھنے پر مجبور

Updated: October 27, 2021, 10:12 AM IST | Jilani Khan | Mumbai

پرینکا گاندھی کا یوگی حکومت پربراہ راست حملہ،ملازمت کے متمنی نوجوان کا خون سے لکھا خط ٹویٹ کیا، ٹیچر بھرتی معاملےکے متاثر امید وا ر وںسےہمدردی کااظہار

Priyanka Gandhi talking to ordinary women in Barabanki. (Photo: PTI)
پرینکا گاندھی بارہ بنکی میں عام خواتین کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

شتہارات کے ذریعہ اپنی حکومت کی کامیابیوں کے بلند بانگ دعوے کرنے والی یوگی سرکار پر  براہ راست حملہ کرتے ہوئے کانگریس کی جنرل سیکریٹری اور یوپی امور کی ذمہ دار پرینکا گاندھی  نے ریاست میں پھیلی بے روزگاری کا موضوع پوری شدت سے اٹھایا ہے۔ الیکشن میں  کامیابی   اور اقتدار میں آنے پر ۲۰؍ لاکھ ملازمتوں  کا وعدہ کرنے  والی پرینکا گاندھی  نے ملازمت کیلئے یوپی کے ایک نوجوان  کےخون سے لکھے ہوئے خط کو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اترپردیش کی حکومت کتنی بے حس اور ناکام ہے کہ نوجوانوں کو ملازمت کےلئے بھی خون سے خط لکھنا پڑرہا ہے۔
پرینکا کے خط شیئر کرنے سےطلبہ کو تقویت ملی 
 پرینکا کے  ٹویٹر ہینڈل سے شیئر کئے جانے کے بعد یہ خط سوشل میڈیا میں خوب وائرل ہورہا ہے۔واضح رہے کہ ۶۹؍ ہزارٹیچر بھرتی معاملے کے متاثر امیدواروں نے  اس طرح کے خط وزیراعلیٰ  کے علاوہ صدر جمہوریہ اور گورنر کو بھی بھیجے ہیں اورا ن سے انصاف کی فریاد کی ہے۔ یوپی میں کانگریس کےکھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنے کیلئے  جی توڑ محنت  میں مصروف پرینکا گاندھی نوجوانوں، کسانوں اور خواتین کےموضوعات پر یوگی حکومت کو مسلسل آڑے ہاتھوں لے رہی  ہیں۔ 
 بیسک ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ کے ذریعہ ۶۹۰۰۰؍ اسسٹنٹ ٹیچر وں کی بھرتی میں ٹال مٹول کےلئے ریاستی حکومت پرحملہ کرچکیں پرینکا نے اسی معاملے پر ایک بار پھر سرکار کو گھیرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں  نے متاثر امیدواروں کی بے بسی اور حالت زارپر ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ایک ٹویٹ کیا ہے جس کے ساتھ ان امیدواروں کے ذریعہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ کو بھیجے گئےخون سے تحریر شدہ خط کوبھی شیئر کیا ہے۔پرینکا نے لکھا ہےکہ’’یوپی کے نوجوان جی توڑ محنت کرکے نوکریوں کے لئے تیاری کرتے ہیں۔ان کے والدین خون پسینہ بہاکر ان کی پڑھائی اور تیاری کاخرچ اٹھاتے ہیں۔مگر، یہ بڑی شرم کی بات ہے کہ بی جے پی حکومت انہیں اس قدر ذلیل کرتی ہے کہ نوکری مانگنے کےلئے وہ خون سے خط لکھنے پر مجبور ہیں۔‘‘پرینکا کی یہ حمایت ان امیدواروں کے لئے تھوڑی راحت ہوسکتی ہے جوتقریباً۴؍مہینے سے بیسک ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ  کے دفتر کے سامنے دھرنا و مظاہرہ کررہے ہیں۔
امیدواروں نے  خود کشی کی اجازت مانگی
 ان کی مانگ ہے کہ جن امیدواروں نے ٹیسٹ  میں کامیابی حاصل کرلی ہے  انہیں ملازمت دی جائے۔وزیرا علیٰ کو بھیجے گئے خط میں امیدواروں  نے لکھا ہے کہ چار ماہ سے بھوکے پیاسے ہم دھرنا دے رہے ہیں، ہماری کوئی بھول ہو تو معاف کردیں مگرتمام عہدوں پر قابل اور لائق امیدواروں کی تقرری کریں۔امیدواروں نے یہ خط فیکس اور ای میل کے ذریعہ بھیجے ہیں۔ ان میں سے تقریباً ۴۰؍ نوجوانوں نے صدر جمہوریہ رامناتھ کوونداور ۴۵؍ امیدواروں  نے ریاستی گورنر آنندی بین پٹیل کو خط بھیجے ہیں۔ اپنے خطوط میں ملازمت کےلئے بھٹک رہے ان نوجوانوں نے اپنی بے بسی کی طرف توجہ مبذول کرانے کی کوشش کرتے ہوئےصدر جمہوریہ اور گورنر سے ’اپنی مرضی سے مرنے کی اجازت‘ بھی مانگی ہے۔ان کی فریاد ہے کہ انہیں جلدا نصاف د لا یا جائے یا اپنی زندگی ختم کرنے کی اجازت۔
 عدالت کی ہری جھنڈی کے بعد بھی تقرری میں تعطل
   ریاست میں ۶۹۰۰۰؍اسسٹنٹ اساتذہ کی بھرتی کا معاملہ کئی سال سے تعطل کا شکار ہے۔اس معاملے میں ریزرویشن، جوابی پرچوں  اور سوالات میں اغلاط کےانبار سمیت کئی شکایتیں عدالت تک پہنچ چکی ہیں۔ ہائی کورٹ سے سپریم تک یہ معاملہ جا چکا ہے۔بالآخر کورٹ نے حکومت کو تقرری کی ہری جھنڈی دے دی ہے مگر کئی شرائط کے ساتھ۔ساتھ ہی،کچھ معاملات ابھی بھی کنفیوژن پیدا کررہے ہیں ، جس کے سبب جوائننگ کا عمل بہت سست ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK