آپ کےبرے دن آئیں گےجیا بچن کا حکمراں محاذ کوشراپ

Updated: December 21, 2021, 8:19 AM IST | new Delhi

راجیہ سبھا کے ۱۲؍ اراکین کی معطلی واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کی رکن نے ’چیئر‘ کو بھی مخاطب کیا، کہا کہ ’’آپ کو غیر جانب دار رہنا چاہئے اور کسی مخصوص جماعت کی حمایت نہیں کرنی چاہئے۔‘‘ اپوزیشن کے احتجاج میں شدت، ایوان کی کارروائی کئی بار ملتوی، بحث میں حصہ لینے کی ڈپٹی چیئرمین کی اپیل بے اثر

Samajwadi Party MP Jaya Bachchan protests against the government in Rajya Sabha
راجیہ سبھا میں سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمان جیا بچن کا حکومت کے خلاف احتجاج

: لکھیم پور کھیری معاملے پر اپوزیشن کے ہنگامے اور راجیہ سبھا  میں  اراکین پارلیمان کی معطلی واپس لینے کی وجہ سے پیر کو راجیہ سبھا کی کارروائی کئی بار متاثر ہوئی۔دوپہر کے کھانے کے بعد’نارکوٹک ڈرگس اینڈ سائیکوٹرپک مادہ (ترمیمی) بل۲۰۲۱ء‘ پر بحث کے دوران سماج وادی پارٹی کی جیا بچن نے ۱۲؍ اراکین پارلیمان کی معطلی واپس لینے کا ایک بار پھر مطالبہ کیا لیکن پریذائیڈنگ آفیسر بھونیشور کلیتا نے اس کی اجازت نہیں دی۔آفیسر کے اس رویے سے جیا بچن برہم ہوگئیں۔ انہوں نے پریذائیڈنگ آفیسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم آپ سے کس طرح امید رکھ سکتے ہیں؟ ایسے کئی موضوعات ہیں جسے لے کر ہم ایک بل پر بحث کررہے ہیں جو حکومت کی جانب سے اپنی غلطیوں کوٹھیک کرنے کیلئے لایا گیا ہے... ٹھیک ہے آپ گلا گھونٹ دیجئے ہم سب کا۔‘‘ 
    بی جے پی رکن راکیش سنہا نے جیا بچن کے اس سخت ریمارکس کی مخالفت کی اور اسے ’چیئر‘ کی توہین قرار دیا، جس پر جیا بچن جذباتی ہوگئیں۔ انہوں نے حکمراں محاذ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’’آپ لوگوں کے برے دن آئیںگے، میں آپ کوشراپ دیتی ہوں۔‘‘ بعد ازاں انہوں نے ’چیئر‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کو غیر جانب دار رہنا چاہئے  اور کسی مخصوص جماعت کی حمایت نہیں کرنی چاہئے۔‘‘
  اس کے بعد ایوان میں ایک ہنگامہ سا برپا ہوگیا۔ایک جانب جہاں اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران نے جیا بچن کی حمایت میں بولنا شروع کر دیا وہیں دوسری جانب حزب اقتدار  نے راکیش سنہا کا ساتھ دیا۔ بعد ازاں ایوان میں شور وغل کو دیکھتے ہوئے بھونیشور کلیتا نے ایوان کی  کارروائی۵؍  بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔ اس سے قبل ایوان کی کارروائی۱۱؍ بجے اور پھر دوپہر۲؍بجے بھی ملتوی کی گئی تھی۔
 دوپہر کے کھانے کے وقفے کے بعد ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ایوان کی کارروائی شروع کرتے ہوئے ثالثی بل ۲۰۲۱ء  پیش کیا اور کووڈ ویرینٹ اومائیکرون سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بات کرنے کی کوشش کی تو ایوان میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے لیکن  ڈپٹی چیئرمین نے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے اراکین احتجاجاً  نعرے لگاتے ہوئے نشست کی طرف بڑھنے لگے۔ اس پر ایوان میں کچھ اس طرح شور و شرابہ ہوا کہ کچھ سنائی نہیں دے رہاتھا۔
 دریں اثنا ڈپٹی چیئرمین  نے کہا کہ اومائیکرون پر بحث بہت اہم ہے اور اپوزیشن ہی نے اس بحث کا مطالبہ کیا ہے، اسلئے اراکین کو چاہئے کہ وہ  اپنی اپنی جگہ پر واپس جائیں اور بحث میں حصہ لیں لیکن اپوزیشن جماعتوں کے اراکین پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔اس کے بعد ڈپٹی چیئرمین نے ایوان کی کارروائی تین بجے تک ملتوی کر دی۔ خیال رہے کہ راجیہ سبھا کے اراکین کی معطلی کی وجہ سے ایوان کی کارروائی مسلسل متاثر ہورہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK