Updated: February 17, 2026, 9:03 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اداکار ابھیشیک بچن نے کہا ہے کہ وہ صرف انہی برانڈز کی تشہیر کرتے ہیں جنہیں خود استعمال کرتے ہیں اور ان پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، کسی ایسی مصنوعات کی تشہیر کرنا جسے وہ خود استعمال نہ کریں، بے ایمانی کے مترادف ہے۔ وہ صداقت اور طویل مدتی اعتماد کو برانڈ شراکت داری کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔
ابھیشیک بچن ۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ اداکار ابھیشیک بچن نے برانڈز کی تشہیر کے حوالے سے اپنی منفرد سوچ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف انہی کمپنیوں کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں جن کی مصنوعات وہ ذاتی طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان پر یقین رکھتے ہیں۔ ایک حالیہ تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بطور فلمی اداکار برانڈ کی تشہیر پیشے کا حصہ ضرور ہے، لیکن ان کے لیے یہ دیانت داری کا معاملہ ہے۔ ابھیشیک کے مطابق، اگر وہ کسی پروڈکٹ کو خود استعمال نہ کرتے ہوں تو اس کی تشہیر کرنا انہیں غیر آرام دہ اور تقریباً دھوکہ دہی محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب بھی انہیں کسی برانڈ ایمبیسیڈر بننے کی پیشکش ملتی ہے تو وہ سب سے پہلے خود سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ اس پروڈکٹ کو واقعی استعمال کریں گے۔ اگر جواب نفی میں ہو تو وہ ایسی پیشکش قبول نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھئے: سلیم خان لیلاوتی اسپتال داخل، سلمان خان شوٹنگ چھوڑ کر والد سے ملنے پہنچے
انہوں نے کہا، ’’میرے نزدیک یہ بے ایمانی ہوگی کہ میں کسی ایسی چیز کو فروخت کروں جسے میں خود استعمال نہیں کرتا۔‘‘ ان کے نزدیک صداقت اور ذاتی یقین وہ بنیادی عناصر ہیں جو کسی بھی برانڈ شراکت داری کو معنی خیز بناتے ہیں۔ ابھیشیک بچن کا دعویٰ ہے کہ ان کے برانڈز کے ساتھ تعلقات عارضی نہیں بلکہ طویل المدتی ہوتے ہیں، جو آج کی تیز رفتار تشہیری دنیا میں ایک نایاب مثال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ ۲۵؍ برسوں سے اومیگا گھڑی استعمال کر رہے ہیں۔ اسی طرح جب وہ فورڈ کے ساتھ کام کرتے تھے تو فورڈ گاڑی ہی چلاتے تھے۔ ان کے پاس اب بھی آئیڈیا کا موبائل نمبر ہے، وہ موٹورولا کا فون استعمال کرتے ہیں اور اے ایم ایکس کریڈٹ کارڈ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، جدید صارفین صرف اشتہاری دعوؤں سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ وہ کہانی اور ارادے کی صداقت کو اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں واقعی یقین رکھتا ہوں کہ کہانی سنانے کی صداقت اور ارادے کی سچائی طویل سفر طے کرتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: تاپسی پنّو نے کہا: کنگنا اور اُروشی سے میرا کوئی جھگڑا نہیں
ابھیشیک کا یہ فلسفہ صرف اشتہارات تک محدود نہیں بلکہ ان کے کاروباری سفر میں بھی جھلکتا ہے۔ چاہے کھیلوں میں سرمایہ کاری ہو، صارفین کے برانڈز سے وابستگی ہو یا نئے کاروباری منصوبے، وہ ہر شراکت داری کو اعتبار، مستقل مزاجی اور طویل مدتی وژن کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایک برانڈ کے پیچھے موجود کہانی اور اس کا مقصد سب سے زیادہ اہم ہے۔ مارکیٹنگ ماہرین کے مطابق، ایسے وقت میں جب صارفین زیادہ باشعور اور تحقیق پسند ہو چکے ہیں، برانڈ ایمبیسیڈر کی ذاتی ساکھ بہت اہمیت رکھتی ہے۔ ابھیشیک بچن کو ایک ایسے سفیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو صرف تشہیر کا چہرہ نہیں بلکہ برانڈ کی اصل اقدار کا نمائندہ بن کر سامنے آتے ہیں۔ ایک ایسے دور میں جہاں مشہور شخصیات کی توثیق اکثر وقتی اور مالی مفاد پر مبنی سمجھی جاتی ہے، ابھیشیک بچن کی سوچ انہیں منفرد بناتی ہے۔ وہ مصنوعات کی محض تشہیر نہیں کرتے بلکہ ان کے ساتھ جیتے ہیں، ان پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں موجودہ اشتہاری منظرنامے میں صداقت کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔