Inquilab Logo Happiest Places to Work

یَم برانڈز کا پیزا ہٹ کو پرائیویٹ ایکویٹی فرم لانگریج کیپٹل کو فروخت کرنے کا امکان

Updated: June 01, 2026, 7:05 PM IST | New York

یَم برانڈز مبینہ طور پر پرائیویٹ ایکویٹی فرم لانگریج کیپٹل کے ساتھ پیزا ہٹ کو فروخت کرنے کے لیے خصوصی مذاکرات کر رہا ہے۔

Pizza.Photo:INN
پیزا۔ تصویر:آئی این این

یَم برانڈز مبینہ طور پر پرائیویٹ ایکویٹی فرم لانگریج کیپٹل کے ساتھ پیزا ہٹ کو فروخت کرنے کے لیے خصوصی مذاکرات کر رہا ہے۔ یہ ممکنہ ڈیل پیزا ہٹ کی امریکی مارکیٹ میں کئی سالوں سے جاری فروخت میں کمی اور اس صورتحال کے درمیان سامنے آئی ہے جب ریستوراں چینز کمزور طلب، بڑھتے اخراجات اور صارفین کی بدلتی ہوئی عادات کا سامنا کر رہی ہیں۔
بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، یَم برانڈزجو پیزا ہٹ کی پیرنٹ کمپنی ہے،لانگریج کیپٹل کے ساتھ پیزا چین کی فروخت کے لیے باضابطہ اور خصوصی بات چیت کر رہا ہے۔ یہ مذاکرات حالیہ ہفتوں میں آگے بڑھے ہیں اور ممکن ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں کوئی معاہدہ طے پا جائے۔ تاہم ذرائع کے مطابق ابھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ حتمی معاہدہ یقینی طور پر ہوگا۔
یہ ممکنہ فروخت دنیا کے سب سے مشہور پیزا برانڈز میں سے ایک کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔ پیزا ہٹ کو حالیہ برسوں میں مشکل کاروباری حالات کا سامنا رہا ہے کیونکہ صارفین کی ترجیحات بدل رہی ہیں اور ریستوران انڈسٹری میں مقابلہ شدید ہو گیا ہے۔
 یَم برانڈز پیزا ہٹ کیوں بیچنا چاہتا ہے؟
یَم برانڈز نے ۲۰۲۵ء میں پیزا ہٹ کے لیے اسٹریٹجک آپشنز کا جائزہ لینا شروع کیا تھا، جس میں فروخت کا امکان بھی شامل تھا۔ کمپنی نے اس وقت کہا تھا کہ وہ کاروبار کے لیے بہترین راستے کا تعین کر رہی ہے، کیونکہ پیزا ہٹ اپنی دوسری برانڈزخصوصاً ٹیکو بیل کی کارکردگی کا مقابلہ نہیں کر پا رہی تھی۔روئٹرز کے مطابق  پیزا ہٹ نے ۲۰۲۵ء میں یَم برانڈز کی مجموعی آمدنی کا تقریباً ۱۲؍ فیصد حصہ دیا۔ اس کی عالمی موجودگی کے باوجود، کمپنی کو خاص طور پر امریکہ میں مشکلات کا سامنا ہے، جہاں پچھلے ۱۰؍ مسلسل سہ ماہیوں سے اس کی موازنہ شدہ فروخت میں کمی دیکھی گئی ہے۔
پوری ریستوران انڈسٹری بھی دباؤ کا شکار ہے۔ مسلسل مہنگائی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث بہت سے صارفین غیر ضروری اخراجات کم کر رہے ہیں۔ خوراک اور لیبر کے بڑھتے اخراجات نے بھی ریستوران آپریٹرز کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔
مزید برآں،جی ایل پی وَن وزن کم کرنے والی ادویات کی بڑھتی ہوئی مقبولیت بھی طلب پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ صنعت کے ماہرین کے مطابق یہ ادویات کچھ صارفین کو کم کھانے اور زیادہ صحت مند غذا اپنانے کی طرف مائل کر رہی ہیں، جس سے فاسٹ فوڈ کی طلب میں کمی آئی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق ایک ذرائع نے کہا’’پیزا ہٹ یَم کی دیگر مضبوط برانڈز کے مقابلے میں پیچھے رہی ہے۔ کمپنی اس کاروبار سے زیادہ قدر حاصل کرنے کے آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔‘‘ روئٹرز نے اپریل میں رپورٹ کیا تھا کہ کئی سرمایہ کاری فرمیں پیزا ہٹ کو خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہیں، جن میں لانگریج کیپٹل، سائیکمور پارٹنرز اور اپولو گلوبل مینجمنٹ شامل ہیں۔
یَم برانڈز مبینہ طور پر پرائیویٹ ایکویٹی فرم لانگریج کیپٹل کے ساتھ پیزا ہٹ کو فروخت کرنے کے لیے خصوصی مذاکرات کر رہا ہے۔ یہ ممکنہ ڈیل پیزا ہٹ کی امریکی مارکیٹ میں کئی سالوں سے جاری فروخت میں کمی اور اس صورتحال کے درمیان سامنے آئی ہے جب ریستوراں چینز کمزور طلب، بڑھتے اخراجات اور صارفین کی بدلتی ہوئی عادات کا سامنا کر رہی ہیں۔
بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، یَم برانڈزجو پیزا ہٹ کی پیرنٹ کمپنی ہے،لانگریج کیپٹل کے ساتھ پیزا چین کی فروخت کے لیے باضابطہ اور خصوصی بات چیت کر رہا ہے۔ یہ مذاکرات حالیہ ہفتوں میں آگے بڑھے ہیں اور ممکن ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں کوئی معاہدہ طے پا جائے۔ تاہم ذرائع کے مطابق ابھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ حتمی معاہدہ یقینی طور پر ہوگا۔
یہ ممکنہ فروخت دنیا کے سب سے مشہور پیزا برانڈز میں سے ایک کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔ پیزا ہٹ کو حالیہ برسوں میں مشکل کاروباری حالات کا سامنا رہا ہے کیونکہ صارفین کی ترجیحات بدل رہی ہیں اور ریستوران انڈسٹری میں مقابلہ شدید ہو گیا ہے۔
 یَم برانڈز پیزا ہٹ کیوں بیچنا چاہتا ہے؟
یَم برانڈز نے ۲۰۲۵ء میں پیزا ہٹ کے لیے اسٹریٹجک آپشنز کا جائزہ لینا شروع کیا تھا، جس میں فروخت کا امکان بھی شامل تھا۔ کمپنی نے اس وقت کہا تھا کہ وہ کاروبار کے لیے بہترین راستے کا تعین کر رہی ہے، کیونکہ پیزا ہٹ اپنی دوسری برانڈزخصوصاً ٹیکو بیل کی کارکردگی کا مقابلہ نہیں کر پا رہی تھی۔روئٹرز کے مطابق  پیزا ہٹ نے ۲۰۲۵ء میں یَم برانڈز کی مجموعی آمدنی کا تقریباً ۱۲؍ فیصد حصہ دیا۔ اس کی عالمی موجودگی کے باوجود، کمپنی کو خاص طور پر امریکہ میں مشکلات کا سامنا ہے، جہاں پچھلے ۱۰؍ مسلسل سہ ماہیوں سے اس کی موازنہ شدہ فروخت میں کمی دیکھی گئی ہے۔
پوری ریستوران انڈسٹری بھی دباؤ کا شکار ہے۔ مسلسل مہنگائی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث بہت سے صارفین غیر ضروری اخراجات کم کر رہے ہیں۔ خوراک اور لیبر کے بڑھتے اخراجات نے بھی ریستوران آپریٹرز کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:’’اونچا لمبا قد فار ایور‘‘میں دِشا پٹانی اور اکشے کمارکا نیا دھماکہ خیز انداز

مزید برآں،جی ایل پی وَن وزن کم کرنے والی ادویات کی بڑھتی ہوئی مقبولیت بھی طلب پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ صنعت کے ماہرین کے مطابق یہ ادویات کچھ صارفین کو کم کھانے اور زیادہ صحت مند غذا اپنانے کی طرف مائل کر رہی ہیں، جس سے فاسٹ فوڈ کی طلب میں کمی آئی ہے۔بلومبرگ کے مطابق ایک ذرائع نے کہا’’پیزا ہٹ یَم کی دیگر مضبوط برانڈز کے مقابلے میں پیچھے رہی ہے۔ کمپنی اس کاروبار سے زیادہ قدر حاصل کرنے کے آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔‘‘ روئٹرز نے اپریل میں رپورٹ کیا تھا کہ کئی سرمایہ کاری فرمیں پیزا ہٹ کو خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہیں، جن میں لانگریج کیپٹل، سائیکمور پارٹنرز اور اپولو گلوبل مینجمنٹ شامل ہیں۔
ریستوران انڈسٹری پر اس کا کیا اثر ہوگا؟
یہ ممکنہ ڈیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی ریستوران سیکٹر میں بڑی ڈیلز کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ کئی ریستوران چینز حالیہ برسوں میں پبلک مارکیٹ سے نکل کر نجی ملکیت میں جا چکی ہیں تاکہ بڑھتے اخراجات اور کمزور طلب سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔صنعت بھر میں اجزاء، لیبر اور آپریشنل اخراجات بڑھ چکے ہیں، جبکہ صارفین کھانے پینے پر اخراجات میں زیادہ احتیاط برت رہے ہیں۔ ان رجحانات نے ریستوران کمپنیوں کی ویلیوایشنز کو متاثر کیا ہے اور پرائیویٹ ایکویٹی فرموں کو خریداری کے مواقع تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھئے:’’اونچا لمبا قد فار ایور‘‘میں دِشا پٹانی اور اکشے کمارکا نیا دھماکہ خیز انداز


 پیزا سیگمنٹ بھی خاص طور پر دباؤ کا شکار ہے۔ ڈیلیوری پلیٹ فارمز، مقامی ریسٹورنٹس اور دیگر چینز کے ساتھ سخت مقابلے نے بڑی برانڈز کے لیے ترقی مشکل بنا دی ہے۔ پاپا جانز انٹرنیشنل نے بھی اسٹریٹجک متبادل پر غور کیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق اس ماہ کے آغاز میں ایک سرمایہ کاری فرم ارِتھ کیپٹل مینجمنٹ کمپنی کے سب سے بڑے امریکی فرنچائز کے ساتھ مل کر کمپنی کو پرائیویٹ کرنے کے ممکنہ معاہدے پر کام کر رہی تھی۔ ابھی تک نہ یَم برانڈز اور نہ ہی لانگریج کیپٹل نے اس مبینہ مذاکرات پر کوئی سرکاری تبصرہ کیا ہے۔یہ ممکنہ ڈیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی ریستوران سیکٹر میں بڑی ڈیلز کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ کئی ریستوران چینز حالیہ برسوں میں پبلک مارکیٹ سے نکل کر نجی ملکیت میں جا چکی ہیں تاکہ بڑھتے اخراجات اور کمزور طلب سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔صنعت بھر میں اجزاء، لیبر اور آپریشنل اخراجات بڑھ چکے ہیں، جبکہ صارفین کھانے پینے پر اخراجات میں زیادہ احتیاط برت رہے ہیں۔ ان رجحانات نے ریستوران کمپنیوں کی ویلیوایشنز کو متاثر کیا ہے اور پرائیویٹ ایکویٹی فرموں کو خریداری کے مواقع تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:آسٹریلیا نے فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ءکے لئے حتمی ٹیم کا اعلان کر دیا


پیزا سیگمنٹ بھی خاص طور پر دباؤ کا شکار ہے۔ ڈیلیوری پلیٹ فارمز، مقامی ریسٹورنٹس اور دیگر چینز کے ساتھ سخت مقابلے نے بڑی برانڈز کے لیے ترقی مشکل بنا دی ہے۔ پاپا جانز انٹرنیشنل نے بھی اسٹریٹجک متبادل پر غور کیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق اس ماہ کے آغاز میں ایک سرمایہ کاری فرم ارِتھ کیپٹل مینجمنٹ کمپنی کے سب سے بڑے امریکی فرنچائز کے ساتھ مل کر کمپنی کو پرائیویٹ کرنے کے ممکنہ معاہدے پر کام کر رہی تھی۔ ابھی تک نہ یَم برانڈز اور نہ ہی لانگریج کیپٹل نے اس مبینہ مذاکرات پر کوئی سرکاری تبصرہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK