Inquilab Logo Happiest Places to Work

نوجوانوں کو مثبت مثالیں چاہئیں، ورنہ ’کاکروچ‘ کی پیروی کریں گے: نائب صدر ہند

Updated: June 01, 2026, 8:08 PM IST | Thiruvananthapuram

ہندوستان کے نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے کہا ہے کہ اگر میڈیا مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کو مناسب اہمیت نہ دے تو نوجوان غیر سنجیدہ رجحانات کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ کیرالا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو درست معلومات اور حقیقی رول ماڈلز فراہم کرنا میڈیا کی ذمہ داری ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا پر طنزیہ پلیٹ فارم ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے گرد بحث جاری ہے۔

C.P Radhakrishnan. Photo: X
سی ۔ پی رادھا کرسنن۔ تصویر: ایکس

ہندوستان کے نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے کہا ہے کہ نوجوان نسل کو مثبت مثالوں اور تعمیری معلومات کی ضرورت ہے، اور اگر میڈیا اس ذمہ داری کو مؤثر انداز میں ادا نہ کرے تو نوجوان غیر سنجیدہ اور عارضی رجحانات کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں۔ اتوار ۳۱؍ مئی کو کیرالا کے شہر کوٹیم میں ملیالم زبان کے معروف روزنامے ’’دپیکا‘‘ کی ۱۴۰؍ ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر نے میڈیا کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک نریندر مودی کی قیادت میں ترقی، اعتماد اور بلند قومی عزائم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، ذمہ دار صحافت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے : ٹی ای ٹی پاس کرنے کی مہلت میں توسیع

اپنی تقریر میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کو میڈیا میں نمایاں جگہ ملنی چاہیے تاکہ نوجوانوں کو درست معلومات اور صحت مند رول ماڈلز میسر آ سکیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’مثبت سرگرمیوں کی اچھی طرح سے رپورٹنگ ہونی چاہیے۔ اسی صورت میں نوجوانوں کو صحیح معلومات ملیں گی۔ ورنہ وہ دلچسپی کھو بیٹھیں گے اور آخرکار ’کاکروچ‘ کی پیروی کرنے لگیں گے۔‘‘ نائب صدر نے مزید کہا کہ معاشرے میں بہت سی اچھی اور مؤثر سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں، لیکن اکثر انہیں وہ توجہ نہیں ملتی جس کی وہ مستحق ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی کام واقعی عوامی مفاد اور دیرپا اہمیت کا حامل ہو تو اس کی قدر وقت کے ساتھ مزید واضح ہوتی ہے، جبکہ عارضی سنسنی پیدا کرنے والے رجحانات جلد ہی اپنی کشش کھو دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے : جمہوری ملک میں کاکروچ جنتا پارٹی کی شہرت پر حیران نہیں ہونا چاہئے: آر ایس ایس

انہوں نے کہا کہ ’’اگر کوئی چیز واقعی اچھی ہے تو لوگ ایک ہفتے، دس دن یا ایک ماہ بعد بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے رہتے ہیں۔ لیکن بعض رجحانات اچانک سامنے آتے ہیں، ہر جگہ دکھائی دینے لگتے ہیں، اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔ ایسی چیزیں زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتیں۔‘‘ نائب صدر کے یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سوشل میڈیا پر طنزیہ پلیٹ فارم کاکروچ جنتا پارٹی یا ’’سی جے پی‘‘ موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ یہ پلیٹ فارم خاص طور پر نوجوانوں اور جنرل زیڈ صارفین کے درمیان مقبول ہوا ہے اور مختلف سیاسی و سماجی موضوعات پر طنزیہ انداز میں تبصرے کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے : دہلی ہائی کورٹ کا ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا ایکس اکاؤنٹ فوری بحال کرنے سے انکار

حالیہ ہفتوں میں ’’کاکروچ‘‘ کی اصطلاح قومی سطح پر اس وقت زیرِ بحث آئی تھی جب چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک عدالتی ریمارکس کا ایک حصہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ مختلف پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ بے روزگار نوجوانوں کو ’’کاکروچ‘‘ اور ’’طفیلی‘‘ قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور طنزیہ انداز میں ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ نامی مہم کو مزید مقبولیت حاصل ہوئی۔ بعد ازاں جسٹس سوریہ کانت نے وضاحت کی کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ان کے تبصرے دراصل ان افراد سے متعلق تھے جو مبینہ طور پر جعلی یا غیر معیاری ڈگریوں کے ذریعے قانونی شعبے میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، نہ کہ بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں۔

یہ بھی پڑھئے : سری نگر: جامع مسجد میں مسلسل ۸؍ ویں سال عید کی نماز پر پابندی

نائب صدر نے اپنی تقریر میں اظہارِ رائے کی آزادی کی مخالفت نہیں کی بلکہ واضح کیا کہ جمہوری معاشرے میں مختلف خیالات اور آراء کا اظہار ضروری ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کن موضوعات کو غیر معمولی توجہ دی جا رہی ہے اور آیا وہ موضوعات واقعی طویل المدت سماجی اہمیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نائب صدر کا یہ بیان میڈیا کے کردار، نوجوانوں کی ترجیحات اور سوشل میڈیا پر ابھرنے والے نئے رجحانات کے حوالے سے جاری قومی بحث کا حصہ ہے۔ حالیہ برسوں میں ڈجیٹل پلیٹ فارمز نے نوجوانوں کی رائے سازی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں کی ذمہ داریوں پر مسلسل بحث جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK