ایک انٹرویو میں امریکی صدر ٹرمپ کا الزام، کہا:یوکرینی صدرکو اس چار سالہ جنگ کو ختم کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، یورپی یونین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔
EPAPER
Updated: January 16, 2026, 4:35 PM IST | Agency | Washington
ایک انٹرویو میں امریکی صدر ٹرمپ کا الزام، کہا:یوکرینی صدرکو اس چار سالہ جنگ کو ختم کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، یورپی یونین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ روس نہیں یوکرین ممکنہ امن معاہدے میں رکاوٹ بن رہا ہے، جو یورپی اتحادیوں کے بیانات کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہیورپی یونین نے مسلسل یہ دلیل دی ہے کہ ماسکو کو یوکرین میں اپنی جنگ ختم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اوول آفس میں ایک خصوصی انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن یوکرین میں اپنی تقریباً چار سالہ جنگ ختم کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اس تعلق سے زیادہ محتاط رہے جس کی وجہ سے بات نہیں بن سکی۔
ٹرمپ نے روسی صدر کے بارے میں کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ معاہدہ کرنے کیلئے تیار ہیں مگر یوکرین معاہدے کیلئے کم تیار نظر آتا ہے۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ امریکہ کی قیادت میں مذاکرات نے ابھی تک یورپ کے سب سے بڑے زمینی تنازعے کو دوسری جنگ عظیم کے بعد کیوں حل نہیں کیاتو ٹرمپ نے جواب دیا کہ اس کی وجہ زیلنسکی ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات یوکرینی سربراہ سے دوبارہ مایوسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ دونوں صدور کے درمیان تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ رہے ہیں، اگرچہ ٹرمپ کے پہلے سال کے دوران ان کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔ کئی اتار چڑھاؤ کے بعد حالیہ ہفتوں میں امریکی قیادت میں مذاکرات جنگ کے بعد یوکرین کے لیے سیکورٹی ضمانتوں پر مرکوز رہے ہیں تاکہ روس ممکنہ امن معاہدے کے بعد دوبارہ اس پر حملہ نہ کرے۔ خیال رہے کہ وسیع معنوں میں امریکی مذاکرات کاروں نے روس کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے تحت یوکرین کو مشرقی دونباس کے علاقے کو چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ یوکرینی حکام حالیہ مذاکرات میں شامل رہے ہیں جن کی قیادت امریکی جانب سے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر نے کی تھی ، کچھ یورپی حکام نے حال ہی میں کیف، واشنگٹن اور یوروپی رہنماؤں کی جانب سے طے شدہ کچھ شرائط پر پوتن کے اتفاق پر شک ظاہر کیا ہے۔
اپنے اس خصوصی انٹرویو میں ٹرمپ نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ وٹکوف اور کوشنر کے ماسکو کے ممکنہ دورے سے آگاہ نہیں ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اگلے ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاوس میں عالمی اقتصادی فورم کے دوران زیلنسکی سے ملاقات کریں گے تو ٹرمپ نے کہا کہ وہ کریں گے لیکن اشارہ دیا کہ کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ دوسری جانب زیلنسکی نے عوامی طور پر ماسکو کے لیے کسی بھی علاقائی رعایت کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ کیف کو ملک کے آئین کے تحت اپنا علاقہ چھوڑنے کا حق نہیں ہے۔