جھارکھنڈ حکومت نے اتوار کو چھ گھنٹے کی بات چیت کے بعد ۱۴ ویں جے پی ایس سی (JPSC) کے ابتدائی امتحان اور ۲۰۲۳ء نیز ۲۰۲۵ء کے جے پی ایس سی بیک لاگ امتحانات کو منسوخ کرنے پر اتفاق کیا تھا اس کے باوجود یہ احتجاج پیر کو جاری رہا۔
EPAPER
Updated: August 10, 2026, 7:07 PM IST | Ranchi
جھارکھنڈ حکومت نے اتوار کو چھ گھنٹے کی بات چیت کے بعد ۱۴ ویں جے پی ایس سی (JPSC) کے ابتدائی امتحان اور ۲۰۲۳ء نیز ۲۰۲۵ء کے جے پی ایس سی بیک لاگ امتحانات کو منسوخ کرنے پر اتفاق کیا تھا اس کے باوجود یہ احتجاج پیر کو جاری رہا۔
جے پی ایس سی (JPSC) اور جے ایس ایس سی (JSSC) امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے ہزاروں امیدواروں نے پیر کے روز رانچی میں جھارکھنڈ اسمبلی کی طرف مارچ کیا جہاں ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین اسمبلی کے احاطے تک پہنچنے کی کوشش میں متعدد رکاوٹیں توڑ کر آگے بڑھ گئے تھے جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کے خلاف واٹر کینن، آنسو گیس کے شیل اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔
گزشتہ ۹ دنوں سے طلبہ کی حمایت میں بھوک ہڑتال کرنے والے ’جھارکھنڈ لوک تانترک کرانتی کاری مورچہ‘ کے لیڈر دیویندر ناتھ مہتو، سابق وزیرِ اعلیٰ شِبو سورین کا پورٹریٹ اٹھائے اس مارچ میں شامل ہوئے۔ سٹی ڈی ایس پی اجے آرین نے کہا کہ پولیس کو طاقت کا استعمال نہ کرنے کی سخت ہدایات تھیں لیکن بھیڑ کو قابو میں کرنے کیلئے انہیں ”پیچھے دھکیلنا“ پڑا، اگرچہ کچھ مظاہرین زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کے سر پر چوٹ آئی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ریزرویشن کیلئے جان دینے اور لینے کوتیار ہوں‘‘
جھارکھنڈ حکومت نے اتوار کو چھ گھنٹے کی بات چیت کے بعد ۱۴ ویں جے پی ایس سی (JPSC) کے ابتدائی امتحان اور ۲۰۲۳ء نیز ۲۰۲۵ء کے جے پی ایس سی بیک لاگ امتحانات کو منسوخ کرنے پر اتفاق کیا تھا اس کے باوجود یہ احتجاج پیر کو جاری رہا۔ جے پی ایس سی کے تمام تینوں اراکین نے استعفیٰ دے دیا اور وزیرِ اعلیٰ ہیمنت سورین نے مظاہرین کو شفافیت کا یقین دلایا۔ تاہم، طلبہ جے ایس ایس سی-سی جی ایل (JSSC-CGL) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی سی بی آئی تحقیقات کے اپنے مطالبے پر قائم ہیں۔ وہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تحریک جاری رہے گی۔
ایک الگ پیش رفت میں، جھارکھنڈ سی آئی ڈی (CID) نے جے پی ایس سی کی سابق چیئرپرسن ایل۔ خیانگتے کو گرفتار کرلیا ہے جس سے اس معاملے میں کل گرفتاریوں کی تعداد ۲۰ ہوگئی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رائے گڑھ: اسکولی طالبات کی خستہ حال سڑک کی رپورٹنگ کا ویڈیو وائرل
احتجاج کے دوران سابق وزیرِ اعلیٰ سمیت بی جے پی لیڈران حراست میں
دریں اثناء، سابق وزیرِ اعلیٰ بابو لال مرانڈی اور بی جے پی کے متعدد لیڈران کو وزیرِ اعلیٰ ہیمنت سورین کی رہائش گاہ کے باہر امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا، دوسری طرف ہزاروں طلبہ ریاستی اسمبلی کی طرف مارچ کر رہے تھے۔
طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے مہتو نے پرامن رہنے کی اپیل کی اور مظاہرین پر زور دیا کہ وہ نیٹ پیپر لیک پر کاکروچ جنتا پارٹی کے ۲۰ جولائی کے پارلیمنٹ مارچ کی طرح تشدد سے گریز کریں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آج کا دن سورین کی سالگرہ کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مطالبات تسلیم کرنے میں حکومت کی ناکامی ”جمہوریت کے قتل“ کے مترادف ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’تو کیا ہوا اَگر میں مسلمان ہوں‘‘، بنگال میں تھیٹر آرٹسٹ پر مذہب پوچھ کر تشدد
دوسری طرف، جھارکھنڈ حکومت کا دعویٰ ہے کہ طلبہ کے ۹۸ فیصد مطالبات مان لئے گئے ہیں، لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ جن ۱۳ امتحانات کو وہ منسوخ کروانا چاہتے تھے ان میں سے صرف تین ہی منسوخ کئے گئے ہیں۔ مرانڈی نے طلبہ کے سی بی آئی تحقیقات کے مطالبے کی حمایت کی اور حکومت پر ”لوگوں کی توجہ ہٹانے“ کا الزام لگایا۔ ۲۵ جولائی سے احتجاج کرنے والے اور جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں خیمہ زن طلبہ جے ایس ایس سی-سی جی ایل کے نتائج کو منسوخ کرنے اور امتحانی بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔