Inquilab Logo Happiest Places to Work

جاپان نے عوامی بیت الخلا کو ۶؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار ڈالر کے سیاحتی مقام میں بدل دیا

Updated: August 10, 2026, 7:08 PM IST | Tokyo

جاپان طویل عرصے سے صفائی، جدید ڈیزائن اور باریک بینی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اب اسی شہرت نے ایک غیر معمولی شکل اختیار کرلی ہے، جہاں ایک عوامی بیت الخلا مبینہ طور پر تقریباً ۶؍ لاکھ۷۰؍ ہزار امریکی ڈالر کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے اور اسے ایک سیاحتی مقام کے طور پر توجہ حاصل ہو رہی ہے۔

Japan Toilet.Photo:INN
جاپان ٹوائلٹ۔ تصویر:آئی این این

جاپان طویل عرصے سے صفائی، جدید ڈیزائن اور باریک بینی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اب اسی شہرت نے ایک غیر معمولی شکل اختیار کرلی ہے، جہاں ایک عوامی بیت الخلا مبینہ طور پر تقریباً  ۶؍ لاکھ۷۰؍ ہزار امریکی ڈالر کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے اور اسے ایک سیاحتی مقام کے طور پر توجہ حاصل ہو رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر ایک بیت الخلا پر اتنی بڑی رقم کیوں خرچ کی گئی اور ایسی کیا خاص بات ہے کہ سیاح اسے اپنی سفری فہرست میں شامل کر رہے ہیں؟
جاپان کا ’ٹورسٹ ٹوائلٹ‘ کیا ہے؟
یہ منصوبہ جاپان میں عوامی مقامات، خصوصاً بیت الخلاؤں کو صرف ضرورت پوری کرنے والی جگہ کے بجائے  آرکیٹیکچر، آرٹ اور شہری تجربے  کا حصہ بنانے کے وسیع رجحان کا حصہ ہے۔ٹوکیو سمیت جاپان کے مختلف شہروں میں دی ٹوکیو ٹوائلٹ  جیسے منصوبوں کے تحت عام بیت الخلاؤں کو معروف ڈیزائنرز اور آرکیٹیکٹس کی مدد سے منفرد اور خوبصورت عوامی مقامات میں تبدیل کیا گیا ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد ایسے بیت الخلا بنانا ہے جو صاف، محفوظ، قابلِ رسائی اور خوبصورت  ہوں، تاکہ عوامی بیت الخلا کے بارے میں عام طور پر پائی جانے والی منفی سوچ کو تبدیل کیا جاسکے۔ تازہ ترین سہولت بھی اسی تصور کی ایک مثال ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس کی تعمیر پر تقریباً ق۱۰؍ کروڑ جاپانی ین، یعنی تقریباً  ۶؍لاکھ ۷۰؍ ہزار ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:برطانیہ کی پہلے گراں پری کے ۱۰۰؍ سال مکمل، بروک لینڈز میں رفتار کی تاریخ پھر زندہ ہوگئی

وہاں جانے والوں کو کیا دیکھنے کو ملے گا؟
یہ   عوامی بیت الخلا نہیں ہے۔ یہاں جدید ٹیکنالوجی، منفرد ڈیزائن اور فنکارانہ انداز کو یکجا کیا گیا ہے۔  کاگاوا پریفیکچرل حکومت  کے مطابق، اس مقام پر ہفتے کے دنوں میں  روشن کیے گئے فرشتوں کے پروں (Angel Wings)  کی تنصیب دکھائی جاتی ہے جبکہ ہفتے کے اختتام پر یہاں مختلف فن پاروں کی نمائش کی جاتی ہے، جن میں طلبہ کی تیار کردہ ویڈیوز بھی شامل ہیں۔ اس طرح یہ جگہ صرف سیاحوں کے لیے دلچسپی کا مرکز نہیں بلکہ  نوجوان فنکاروں اور مقامی طلبہ کو اپنی تخلیقات پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔
۶؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار ڈالر کی لاگت کیوں؟
اتنی بڑی رقم نے یقیناً کئی لوگوں کو حیران کیا ہے، لیکن اس کے پیچھے کئی عوامل ہیں۔منفرد آرکیٹیکچرل ڈیزائن،
ایسے منصوبوں میں معروف آرکیٹیکٹس اور ڈیزائنرز شامل ہوتے ہیں۔ مقصد محض ایک عمارت بنانا نہیں بلکہ اسے شہری آرٹ کے ایک منفرد نمونے میں تبدیل کرنا ہوتا ہے۔
اعلیٰ معیار کے مواد اور تعمیرات :پائیدار اور اعلیٰ معیار کے مواد کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ عمارت طویل عرصے تک قائم رہے اور صفائی کے سخت معیار بھی برقرار رہیں۔ جدید ٹیکنالوجی: جاپان کے جدید بیت الخلاؤں میں گرم نشستیں، پانی کے جیٹ، خودکار صفائی اور دیگر جدید سہولیات عام ہیں۔ ایسی ٹیکنالوجی کو عوامی سہولت میں شامل کرنے سے تعمیراتی لاگت بڑھ جاتی ہے۔  صفائی، دیکھ بھال اور رسائی: ان سہولیات کو مختلف عمر اور جسمانی صلاحیت رکھنے والے افراد کے لیے قابلِ استعمال بنانے پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔ اس کے لیے اضافی انفراسٹرکچر اور سوچے سمجھے ڈیزائن کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:میرے جسم میں ال پچینو، شاہ رخ خان اور مائیکل جیکسن ڈانس کرتے ہیں: روی کشن

بیت الخلا سیاحتی مقام کیسے بن گیا؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس طرح کے منصوبے ابتدا میں لازماً سیاحتی مقامات بنانے کے لیے شروع نہیں کیے گئے تھے۔ مقصد عوامی بیت الخلاؤں کو زیادہ صاف، محفوظ، خوبصورت اور قابلِ رسائی بنانا تھا۔ لیکن منفرد ڈیزائن، آرٹ اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے لوگوں کی دلچسپی بڑھتی گئی اور یہ سہولیات خود  سیاحتی کشش  بن گئیں۔ جاپان کی یہ مثال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مناسب ڈیزائن اور تخلیقی سوچ کے ذریعے ایک عام عوامی سہولت کو بھی ایسا مقام بنایا جاسکتا ہے جسے دیکھنے کے لیے لوگ خصوصی طور پر سفر کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK