Updated: March 14, 2024, 9:11 PM IST
| Harare
زمبابوے میں ایک شخص نے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنے سیکڑوں معتقدین کے ساتھ دارالحکومت ہرارے سے کچھ فاصلے پر قیام پذیر ہے۔ پولیس کے ذریعے چھاپہ مارنے پر کئی نابالغ بچے مزدوری کرتے پائے گئے۔ اس کے علاوہ کئی قبریں بھی دریافت۔ ملک میں مذہب کے نام پر انتہائی عجیب و غریب عقائد رواج پا رہے ہیں۔
پولیس نے جس علاقے میں چھاپہ مار کارروائی کی۔ تصویر: آئی این این
زمبابوے کی پولیس نے بدھ کو کہا کہ انہوں نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جو ایک مرتدین فرقے کا پیغمبر ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے اور ایک احاطے میں مزار پر جہاں معتقدین رہتے ہیں حکام کو ۱۶؍ غیر اندراج شدہ قبریں ملی ہیں جن میں شیر خوار بچوں کی قبریں بھی شامل ہیں۔ اور ۲۵۰؍سے زائد بچوں کو سستے مزدوروں کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔
ایک بیان میں پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے کہا کہ ۵۶؍ سالہ اسماعیل چوکورونگروا، جو ایک ’’خود ساختہ‘‘ پیغمبر ہے نے دارالحکومت ہرارے کے شمال مغرب میں تقریباً ۳۴؍ کلومیٹر (۲۱؍میل) کے فاصلے پر ایک فارم میں ایک ہزار سے زائد ارکان کے ساتھ ایک فرقے کی بنیاد رکھی جبکہ بچے دوسرے معتقدین کے ساتھ رہ رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کو فرقہ کے قائد کی جانب سے جسمانی فائدے کیلئے مختلف سرگرمیاں انجام دینے کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ۲۵۱؍ بچوں میں سے ۲۴۶؍کے پاس پیدائشی سرٹیفکیٹ بھی نہیں ہے۔ نیاتھی نے کہاکہ پولیس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسکول جانے کی عمر کے تمام بچے رسمی تعلیم حاصل نہیں کرتے تھے اور انہیں سستے مزدور کے نام پر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا تھا، جو زندگی کے ہنر سکھائے جانے کا نا م پر دستی کام کرتے تھے۔
پولیس نے بتایا کہ انہیں جو قبریں ملی ہیں ان میں سے سات شیر خوار بچوں کی ہےجن کی تدفین کاحکام کے پاس اندراج نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس افسران نے منگل کو مزار پر چھاپہ مارا۔ چوکورونگروا جو خود کو حضرت اسماعیل کہتا ہے کو اس کے سات ساتھیوں کے ساتھ مجرمانہ سرگرمیوں جس میں نابالغوں کے ساتھ بدسلوکی شامل ہے کیلئے گرفتار کیا گیا۔
نیاتھی نے کہا کہ جیسے ہی تحقیقات آگے بڑھے گی مزید تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔