Inquilab Logo Happiest Places to Work

البانیہ: ایوانکا ٹرمپ، جیرڈ کشنر ریزارٹ پلان کے خلاف احتجاج ۱۳؍ ویں دن میں داخل

Updated: June 13, 2026, 8:39 PM IST | Tirana

البانیہ میں ایوانکا ٹرمپ اور ان کے شوہر جیرڈ کشنر سے منسلک اربوں ڈالر مالیت کے لگژری ریزارٹ منصوبوں کے خلاف جاری احتجاج مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ ’’البانیہ برائے فروخت نہیں ہے‘‘ کے نعرے کے تحت ہزاروں افراد دارالحکومت تیرانہ اور ساحلی علاقوں میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ یہ احتجاج کا ۱۳؍ واں دن ہے۔ اس مظاہرے کو ’’فلیمنگو انقلاب‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

A scene from a protest against a luxury resort linked to Ivanka Trump and Jared Kushner. Photo: X
ایوانکا ٹرمپ اور جیرڈ کشنر سے منسلک لگژری ریزارٹ کے خلاف احتجاجی تحریک کا ایک منظر۔تصویر: ایکس

البانیہ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ اور داماد جیرڈ کشنر سے منسلک لگژری ریزارٹ منصوبوں کے خلاف احتجاجی تحریک ملک گیر شکل اختیار کر چکی ہے اور یہ مظاہرہ اب ۱۳؍ ویں دن میں داخل ہوچکا ہے۔ ’’البانیہ برائے فروخت نہیں ہے‘‘ اور ’’فلیمنگو انقلاب‘‘ کے نعروں کے تحت جاری مظاہروں نے اب ماحولیاتی تحفظ سے آگے بڑھ کر سیاسی بحران کی صورت اختیار کر لی ہے۔ احتجاج کا مرکز بحیرہ ایڈریاٹک کے ساحل پر واقع سازان جزیرہ اور وجوسا نارتا کے محفوظ ساحلی علاقے ہیں، جہاں جیرڈ کشنر سے وابستہ سرمایہ کار گروپ اربوں ڈالر کے لگژری ریزارٹس تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ علاقے فلیمنگو، ڈالمیشین پیلیکن، بحیرہ روم کے نایاب مونک سیل اور دو سو سے زائد پرندوں کی انواع کے لیے انتہائی اہم ماحولیاتی پناہ گاہ ہیں۔ 

مظاہرین کا الزام ہے کہ حکومت نے قانون نمبر 21/2024 کے ذریعے محفوظ علاقوں کے تحفظ کو کمزور کیا تاکہ نجی سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مقامی کمیونٹیز سے مشاورت کیے بغیر زمینوں کی نجکاری کی گئی اور کئی معاملات میں ملکیتی حقوق کو نظر انداز کیا گیا۔ تحریک کے نمایاں لیڈر اور ماحولیاتی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک ریزارٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ حکومتی بدعنوانی، اختیارات کے غلط استعمال اور غیر شفاف فیصلوں کے خلاف عوامی ردعمل ہے۔ اپوزیشن سے وابستہ بعض لیڈروں کے مطابق نوجوانوں، متوسط طبقے اور سول سوسائٹی کی بڑی تعداد احتجاج میں شریک ہو رہی ہے، جو برسوں سے جمع ہونے والی عوامی ناراضی کا اظہار ہے۔
اس دوران وزیر اعظم ایڈی راما اپنے موقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ یہ منصوبے ملکی معیشت، سیاحت اور روزگار کے لیے اہم ہیں اور ان پر کام جاری رہے گا۔ راما کا کہنا ہے کہ تمام ماحولیاتی جائزے مکمل کیے جائیں گے اور منصوبہ یورپی معیار کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے بعض آن لائن مہمات کو ’’ایرانی ہائبرڈ جنگ‘‘ کا حصہ بھی قرار دیا ہے، جس کی ایران نے تردید کی ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین کے حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر البانیہ نے ماحولیاتی قوانین اور شفافیت کے اصولوں کی پاسداری نہ کی تو اس کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ برسلز میں حکام نے خاص طور پر محفوظ قدرتی علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ 

تازہ ترین پیش رفت میں زمین کی ملکیت اور نجکاری کے معاملات پر قانونی تنازعات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ متعدد مقامی باشندوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی زمینیں ان کی رضامندی کے بغیر فروخت یا منتقل کی گئیں، جبکہ بعض مقدمات اب بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تحریک کمیونزم کے خاتمے کے بعد البانیہ کی سب سے بڑی ماحولیاتی اور شہری احتجاجی تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ احتجاجی مظاہروں نے نہ صرف کشنر کے منصوبوں بلکہ وزیر اعظم ایڈی راما کی حکومت، بدعنوانی کے الزامات اور حکمرانی کے پورے نظام کو عوامی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK