EPAPER
غزہ میں اسرائیلی فوج کے تازہ حملوں کے بعد حماس نے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں اب الگ الگ واقعات نہیں رہیں بلکہ ’’مختلف شکلوں میں جاری جنگ‘‘ کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ حماس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں جنوبی غزہ میں گھروں کی مسماری، غزہ شہر کے ساحل کے قریب ماہی گیروں پر فائرنگ اور شہریوں کو نشانہ بنانا شامل ہے، جبکہ تازہ حملوں میں کم از کم ۵؍ فلسطینی جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ تنظیم نے ثالثوں اور جنگ بندی کے ضامن ممالک سے فوری مداخلت اور اسرائیل پر جنگ بندی کی پابندی کے لیے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
September 01, 2026, 2:47 PM IST
کولمبیا یونیورسٹی کے باہر سابق اسرائیلی فوجیوں کے فلسطینی حامی مظاہرین کا روپ دھار کر احتجاجی تحریک میں داخل ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس اقدام پر شدید ردعمل سامنے آیا، جبکہ ایک سابق اسرائیلی فوجی آدی کرنی کے خلاف غزہ میں مبینہ جرائم کے الزامات اور مختلف ممالک میں قانونی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
August 31, 2026, 5:21 PM IST
برینڈیس یونیورسٹی کے سروے میں۷۴؍ فیصد امریکی انڈرگریجویٹ طلبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے، امریکن انڈرگریجویٹس اینڈ دی اسرائیلی-فلسطینی تنازع کے عنوان سے اس مطالعے میں ۳۰۳؍امریکی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے۳۹۸۹؍ انڈرگریجویٹ طلبہ کا آن لائن سروے شامل ہے۔
August 30, 2026, 10:39 PM IST
حماس نے بیان دیا ہے کہ اسرائیل بچوں کی ان پتنگوں مزید کشیدگی کیلئے ایک بہانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے پتنگوں کی بنیاد پر علاقوں کو خالی کرانے کی اسرائیلی دھمکیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ کی اسرائیلی ذمہ داریوں کے پیش نظر ناقابل قبول قرار دیا۔ ان انتباہات کے بعد غزہ کے مقامی گروپس نے خاندانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو پتنگیں اڑانے سے روکیں، اس خوف سے کہ بھٹک کر جانے والی پتنگوں کو نئے حملوں کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
August 27, 2026, 5:03 PM IST
