Updated: February 16, 2026, 6:01 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بورڈ آف پیس کے رکن ممالک جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو اور انسانی امداد کے لیے ۵؍ ارب ڈالر سے زائد مالی وعدوں کا اعلان کریں گے۔ اجلاس میں ۲۰؍ سے زیادہ ممالک کے وفود شرکت کریں گے، جبکہ اس اقدام کو اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت قائم کیا گیا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ بورڈ آف پیس کے رکن ممالک غزہ میں تعمیر نو اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے لیے ۵؍ ارب ڈالر سے زیادہ کے مالی وعدوں کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے یہ بیان اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا۔ صدر کے مطابق، جمعرات کو ہونے والا یہ اجلاس بورڈ آف پیس کی پہلی باضابطہ میٹنگ ہوگی، جس میں ۲۰؍ سے زائد ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود، بشمول سربراہانِ مملکت، شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس ڈونالڈ جے ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں منعقد ہوگا، جسے حال ہی میں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے صدر کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ رکن ممالک نے غزہ میں اقوام متحدہ کی اجازت یافتہ اسٹیبلائزیشن فورس اور مقامی پولیس کی مدد کے لیے ہزاروں اہلکار تعینات کیے ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد جنگ کے بعد خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: میونخ: سعودی وزیر خارجہ اور ٹرمپ کے مشیر مساد بولوس کے درمیان ملاقات
بورڈ آف پیس کے قیام کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے کی گئی تھی۔ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کے اس منصوبے کا حصہ بتایا جا رہا ہے جس کا مقصد غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کا خاتمہ اور جنگ بندی کے بعد استحکام کو فروغ دینا تھا۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک منصوبے پر اتفاق ہوا تھا، جس کے بعد اکتوبر میں باضابطہ جنگ بندی نافذ کی گئی۔ تاہم، اس دوران کشیدگی کے واقعات اور خلاف ورزیوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں ۵۹۰؍ سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ترکی کےوزیر خارجہ کی غزہ کی انتظامیہ کی قومی کمیٹی کے سربراہ سے ملاقات
مشرق وسطیٰ کی کئی علاقائی طاقتوں، جن میں ترکی، مصر، سعودی عرب، قطر اور اسرائیل شامل ہیں، نے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اس کے علاوہ انڈونیشیا جیسے ابھرتے ہوئے ممالک نے بھی اس اقدام کی حمایت کی ہے۔ تاہم بعض بڑی عالمی طاقتوں اور روایتی مغربی اتحادیوں نے اس عمل میں محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور مکمل وابستگی سے گریز کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، غزہ کی تعمیر نو کے لیے ۵؍ ارب ڈالر سے زائد کا وعدہ ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ یہ رقوم مؤثر انداز میں انسانی امداد، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور مقامی انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر خرچ کی جائیں۔ جنگ کے نتیجے میں غزہ میں رہائشی عمارتوں، اسپتالوں، اسکولوں اور دیگر بنیادی سہولیات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی بحالی کے لیے عالمی تعاون ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پچاس ہزار سے زائد اسرائیلی فوجی غیر ملکی شہریت کے بھی حامل ہیں: رپورٹ
صدر ٹرمپ کے اس اعلان نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں امریکی کردار کو نمایاں کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار شفاف عمل درآمد، مستقل جنگ بندی اور علاقائی تعاون پر ہوگا۔ دوسری جانب حامی حلقے اسے خطے میں استحکام کی جانب ایک عملی قدم قرار دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ہونے والا اجلاس اس بات کا تعین کرے گا کہ وعدہ کردہ فنڈز کس حد تک عملی شکل اختیار کرتے ہیں اور غزہ کی موجودہ انسانی صورتحال میں کس قدر بہتری آتی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس میٹنگ اور اس کے نتائج پر مرکوز ہیں۔