• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ترکی کےوزیر خارجہ کی غزہ کی انتظامیہ کی قومی کمیٹی کے سربراہ سے ملاقات

Updated: February 15, 2026, 10:06 PM IST | Gaza

ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے غزہ کی انتظامیہ کے قومی کمیٹی کے سربراہ علی شعت سے ملاقات کی ، ترکی اس محصور علاقے کو مستحکم اور دوبارہ تعمیر کرنے میں سفارتی حمایت اور انسانی امداد فراہم کر رہا ہے۔

Turkish Foreign Minister Hakan Fidan. Photo: X
ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان۔ تصویر: ایکس

سفارتی ذرائع کے مطابق، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے دارالحکومت انقرہ میں غزہ کی انتظامیہ کے لیے بنائی گئی قومی کمیٹی (این سی اے جی) کے سربراہ علی شعت سے ملاقات کی۔غزہ میں اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد قائم ہونے والی این سی اے جی، حالیہ امن کوششوں کے تحت ایک فلسطینی گورننگ باڈی ہے جو غزہ کی شہری انتظامیہ اور تعمیر نو کی نگرانی کے لیے بنائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ترکی اس محصور علاقے کو مستحکم اور دوبارہ تعمیر کرنے میں سفارتی حمایت اور انسانی امداد فراہم کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ترک وزیر خارجہ فیدان کی ’جوہری ہتھیار‘ سوال پر پراسرار مسکراہٹ، خطے میں تشویش

دریں اثناء کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ منظم منتقلی کے لیے حالیہ اظہار تیاری کو غزہ کی عبوری انتظامیہ کے طور پر اپنے ذمہ داری کو پورا کرنے میں ایک اہم قدم کے طور پر دیکھتی ہے۔اس سے قبل  غزہ کے میڈیا آفس نے جمعرات کو قومی کمیٹی سے اپنے فرائض کی انجام دہی شروع کرنے کی اپیل کی تھی۔ ساتھ ہی حماس نے بھی بارہا کمیٹی کے کام کو آسان بنانے کے لیے حمایت کا اظہار کیا ہے۔جبکہ  کمیٹی کے ارکان کا غزہ میں داخلہ اسرائیل کے زیر کنٹرول کراسنگ کے ذریعے فیلڈ اور سیکورٹی تعاون کا تقاضا کرتا ہے۔ تاہم کمیٹی کے داخلے میں تاخیر کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری موقف جاری نہیں کیا گیا ہے اور اسرائیل نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد فلسطینی ایکشن کی حمایت پر گرفتاری نہیں

بعد ازاں کمیٹی نے کہا کہ غزہ میں اسے موثر اور آزادانہ طور پر کام کرنے کے قابل بنانا بحالی، تعمیر نو، مکمل اسرائیلی انخلاء کو یقینی بنانے اور معمول کی روزمرہ زندگی کی بحالی کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرے گا۔‘‘کمیٹی نے ثالثوں اور تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے باقی ماندہ مسائل حل کرنے کے لیے کوششیں تیز کریں اور زور دیا کہ فلسطینی عوام مزید وقت ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ کمیٹی نے کہا کہ ،’’ہمیں ہموار اور قابل اعتماد منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے ابھی آگے بڑھنا ہوگا۔‘‘ 
ذہن نشین رہے کہ ۱۰؍ اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد غزہ پر اسرائیل نے دو سالہ جنگ روک دی، تاہم حملوں میں کمی اور محصور علاقے میں محدود امداد کے ذریعے اسرائیل امن معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔تاہم فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ دوسالہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ۷۲؍ ہزار سے زائد افراد ہلاک اور ۱۷۱۰۰۰؍ سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں،اس کے علاوہ۹۰؍ فیصد شہری ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ غزہ کے تعمیر نو کے اخراجات تقریباً۷۰؍ ارب ڈالر ہوں گے۔ جبکہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، جنگ بندی کے نافذ ہونے کے بعد سے کم از کم۵۹۱؍ فلسطینی شہید اور ۱۵۷۸؍ زخمی ہو چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK