EPAPER
شہری حقوق کی تنظیم (اے پی سی آر) کے مطابق ہندوستان میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے تشدد، دھمکیوں، نفرت انگیز تقاریر اور ہراسانی کے۴۶؍ واقعات دستاویز کیے ہیں، ساتھ ہی عید الاضحیٰ کے موقع پر فرقہ وارانہ مخاصمت میں تیزی سے اضافے کا الزام عائد کیا ہے۔
June 07, 2026, 6:28 PM IST
گزشتہ ایک دہائی کے دوران امریکہ، کنیڈا، برطانیہ، نیوزی لینڈ اور ناروے سمیت کئی مغربی ممالک میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے متعدد مہلک حملے سامنے آئے۔ مساجد، اسلامی مراکز اور مسلم خاندانوں پر کیے گئے ان حملوں نے بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا، سفید فام بالادستی اور دائیں بازو کی انتہا پسندی کے خطرات پر عالمی تشویش میں اضافہ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد، سیاسی پولرائزیشن اور مسلم مخالف بیانیے نے کئی حملہ آوروں کو شدت پسند نظریات کی طرف دھکیلا۔
May 19, 2026, 8:29 PM IST
امریکہ میں مقیم انسانی حقوق کے کارکن راقب حمید نائیک نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کے سامنے گواہی دیتے ہوئے ہندوستان میں مسلمانوں، عیسائیوں اور پسماندہ طبقات کے خلاف بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک، نفرت انگیز تقاریر، جبری بے دخلیوں اور مسماری مہمات پر شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی سمیت کئی لیڈروں اور ہندو قوم پرست تنظیموں کے خلاف عالمی میگنیٹسکی پابندیوں کا مطالبہ کیا۔
May 12, 2026, 8:59 PM IST
اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم اور تقاریر کی دستاویزات کے لیے ایک آن لائن ’’ہیٹ کرائمز ٹریکر‘‘ متعارف کرا دیا ہے۔ نئی دہلی میں لانچ کیے گئے اس پلیٹ فارم میں ۲۰۱۴ء سے اب تک مذہب کی بنیاد پر ۳۵۷۶؍ واقعات درج کیے گئے ہیں، جن میں جسمانی حملے، املاک پر حملے اور نفرت انگیز تقاریر شامل ہیں۔ تنظیم کے مطابق، ٹریکر محققین، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے لیے ایک عوامی ڈیٹا بیس کے طور پر کام کرے گا۔
May 08, 2026, 6:05 PM IST
