• Thu, 19 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چھتیس گڑھ: میلے میں مسلم تاجروں کو ہٹانے پر کشیدگی، برادران وطن کی حمایت

Updated: February 19, 2026, 8:16 PM IST | Raipur

چھتیس گڑھ کے درگ ضلع کے دیوبالودا علاقے میں مہاشیو راتری میلے کے دوران مبینہ طور پر مسلم دکانداروں کو اسٹال بند کرنے پر مجبور کیے جانے کے بعد کشیدگی پھیل گئی۔ مسلم کمیونٹی نے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جبکہ مقامی ہندو باشندوں نے متاثرہ تاجروں کی حمایت کی۔ پولیس نے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

یہ واقعہ چھتیس گڑھ کے درگ ضلع کے دیوبالودا علاقے میں مہاشیو راتری میلے کے دوران پیش آیا۔ کمیونٹی نمائندوں کے مطابق کئی مسلم تاجروں نے باقاعدہ اجازت اور فیس ادا کر کے اسٹال لگائے تھے، جہاں کھانے پینے کی اشیاء، کپڑے اور دیگر سامان فروخت کیا جا رہا تھا۔ الزام ہے کہ بجرنگ دل سے وابستہ کچھ افراد مبینہ طور پر اسٹالوں پر جا کر تاجروں سے ان کے نام پوچھتے رہے اور بعض مسلم تاجروں پر ہندو نام استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ بعد ازاں انہیں اسٹال ہٹانے اور میلہ چھوڑنے کو کہا گیا، جبکہ کچھ نے سرعام بدسلوکی اور دھمکیوں کا دعویٰ کیا۔

کمیونٹی کا احتجاج اور میمورنڈم
بھیلائی نگر مسجد ٹرسٹ کے نمائندے کے مطابق، متاثرہ افراد کو عوام کے سامنے ذلیل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی نجی گروہ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ طے کرے کون کاروبار کر سکتا ہے اور کون نہیں۔ بدھ کو تقریباً ۱۷؍  مساجد کے نمائندوں نے درگ کلکٹریٹ میں ڈپٹی کلکٹر کو میمورنڈم پیش کیا اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ کمیونٹی لیڈروں نے کہا کہ چھتیس گڑھ ہمیشہ بھائی چارے کے لیے جانا جاتا ہے اور ایسے واقعات علاقے کے پرامن ماحول کو متاثر کر سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: مسلمان ہندوستان میں ’حساس اور آزمائشی دور‘ برداشت کررہے ہیں: میرواعظ

مقامی ہندو برادری کی حمایت
واقعے کے بعد کچھ مقامی ہندو تاجروں اور باشندوں نے بھی مسلم دکانداروں کی حمایت کی۔ ایک ہندو تاجر نے کہا کہ اگر کسی نے قواعد کی پابندی کی ہے اور فیس ادا کی ہے تو اسے کاروبار کا پورا حق حاصل ہے۔ بعض باشندوں نے مبینہ کارروائی کو ہندو مذہب کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا۔ بھیم آرمی سے وابستہ افراد نے بھی ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور اسے آئینی اقدار کے خلاف قرار دیا۔ برادران وطن بھی اس احتجاج میں مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوئے اور شرپسندوں کو باہر نکال کرنے کا مطالبہ کیا۔

پولیس کا مؤقف
پولیس ترجمان منی شنکر چندرا نے تصدیق کی کہ بھیلائی درگ مسلم کمیونٹی کی جانب سے مشترکہ میمورنڈم موصول ہوا ہے۔ ان کے مطابق معاملے کی جانچ جاری ہے اور اگر کوئی قصوروار پایا گیا تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ تاہم ابھی تک ایف آئی آر درج ہونے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
یہ واقعہ عوامی تقریبات میں مساوی حقوق اور مذہبی ہم آہنگی سے متعلق وسیع تر سوالات اٹھا رہا ہے۔ کمیونٹی لیڈروں کا کہنا ہے کہ مذہبی شناخت کی بنیاد پر کاروبار سے روکنا آئین کی روح کے منافی ہے۔ مبصرین کے مطابق مقامی ہندو برادری کے بعض حلقوں کی حمایت نے فوری کشیدگی کم کرنے میں مدد دی ہے، تاہم تحقیقات کے نتائج اور ممکنہ قانونی کارروائی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK