• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم پر اپوزیشن کی سرد مہری

Updated: February 22, 2026, 11:08 AM IST | Asim Jalal | Mumbai

سیاسی جماعتوں کی مجبوریاں ہوسکتی ہیں مگر یہ مجبوری ملک کے مستقبل کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، یہ خوش آئندہے کہ اب اکثریتی فرقہ کے افراد خود میدان میں آرہے ہیں۔

It is people like Deepak Kumar that keep the country`s pluralistic spirit alive. Photo: INN
دیپک کمار جیسے لوگ ہیں جس کی وجہ سے ملک کا تکثیری مزاج باقی ہے۔ تصویر: آئی این این

نفرت انگیزی اب ہندوستان  اور اس کی سیاست کا لازمی جزو بن چکی ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ۲۰۱۴ء سے پہلے جن واقعات یا سیاسی لیڈروں کے جن بیانات پر لوگ چونک جایا کرتے تھے ،اب ان پر کسی کی پلک بھی نہیں جھپکتی۔  پہلے شرپسند عناصر سماج میں  انتشار پھیلانے والی باتیں کیا کرتے تھے، اب وزرائے اعلیٰ آبادی کو ہندو اور مسلمان میں بانٹ کر باقاعدہ عوام کو  ایک دوسرے کے خلاف نفرت پر اُکساتے ہیں اور ان کی پارٹی کی اعلیٰ  قیادت اپنی خاموشی کے ذریعہ اس کی تائید کا اظہار  کرتی ہے۔  دھیرے دھیرے سب کچھ اس قدر معمول  کا  حصہ بنتا  جارہاہے کہ سپریم کورٹ میں جب اس کے خلاف پٹیشن  داخل کی جاتی ہے تو وہ معاملے کی سنگینی پر توجہ دینے کے بجائے اس بات پر اعتراض کرتا ہے کہ  بطور مثال پیش کئے گئے  متنازع اور نفرت انگیز بیان  کے ساتھ وزیراعلیٰ کا نام کیوں لیاگیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یو جی سی تنازع:مساوات کو یقینی بنانے کی سنجیدہ کوشش یا سیاسی بساط پر ایک اور چال

گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان میں نفرت انگیزی اور سماجی پولرائزیشن میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے، وہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ سیاسی رویے میں مسلسل تبدیلی ، الیکشن جیتنےکیلئے نفرت کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے رجحان اور  عوام کی  حساسیت  میں کمی کا  مظہر ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق وزیراعظم  مودی کی تیسری مدتِ کارکے پہلے سال میں ہی نفرت انگیزی کے تقریباً۹۵۰؍ واقعات ریکارڈ کئے گئے جن میں  مسلمانوں اور عیسائیوں کو  نشانہ بنایا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کیا حال ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ محض ۱۳؍فیصد واقعات میں ایف آئی آر درج ہوئی۔ زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ  حالیہ چند برسوں میں  نفرت کے فروغ کے تعلق سے بے حسی اس قدر عام ہوگئی ہے کہ مرکزی حکومت   ایسے پروگراموں کو باقاعدہ مالی مدد فراہم کرتی ہے جن میں   ۲۵؍ فیصد  مسلمانوں کو  ملک  کے باہر پھینک دینے، آئین ہند کے برخلاف  ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے اور مسلمانوں کی اجتماعی ملک بدری کی باتیں ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ سے ایران تک اقوام ِ عالم کا دہرا معیار، عالمی نظام کی تباہی کا مظہر

  دی کوئنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق   دہلی کے بھارت منڈپم میں ۱۳؍ اور ۱۴؍ دسمبر کو سناتن سنستھا کے اُس ’’سناتن راشٹرسنکھ ناد مہوتسو‘‘ کو مرکزی وزرات  برائے  ثقافت نے  ۶۳؍ لاکھ کی فنڈنگ کی  ، جس میںکہاگیا کہ ’’ ہندوستان میں موجود ۲۵؍ فیصد مسلمان درانداز ہیں، وہ بنگلہ دیشی ، پاکستانی اور افغانی ہیں۔  این آر سی لاکر انہیں ملک سے باہر کرنا ہوگا۔‘‘یہ بھی کہاگیا کہ ’’مسلم آبادی کی حد مقرر کی جانی چاہئے۔‘‘یہ سوال بھی پوچھا گیا کہ’’کیا مسلمانوں کو سرکاری ڈر سے ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا؟‘‘ اور یہ مشورہ بھی دیاگیا کہ ’’اگر ہر ہندو ایک شخص کا مذہب تبدیل کروائے تو ہم اپنے ہدف کو حاصل کرسکتے ہیں۔‘‘  یہ سب کچھ مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت، شری پد نائک، سنجے سیٹھ اور دہلی کے وزیر سیاحت کپل مشرا کی موجودگی میں کہا  گیا بلکہ آئین کی پاسداری کا حلف لینےوالے یہ لیڈر بھی مذکورہ پروگرام میں بطور مقرر شامل تھے۔  اس پروگرام کی فنڈنگ دہلی کی وزارت برائے سیاحت نے بھی کی ہے تاہم اس  کے اعدادوشمار ابھی سامنے نہیں آئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی مسلمان کیوں نہ سال نو کا آغاز ’’خود کفیل ملت ‘‘ کے عزم کے ساتھ کریں

مجموعی طور پر ملک کی سیاست کو ’’ہندو اور مسلم‘‘خانوں  میں  تقسیم کردیاگیاہے۔  ایسے ماحول میں جب نفرت کی سیاست مرکزی دھارے کا حصہ بن چکی ہے، سرکاری اداروں سے حساسیت کی توقع فضول ہے تاہم اپوزیشن سے تو یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ پوری شدت کے ساتھ اس کے خلاف آواز اٹھائے۔   اس میں کوئی شک نہیں کہ سناتن سنستھا کے پروگرام کی فنڈنگ کے معاملے میں کانگریس کی ترجمان ڈاکٹر راگنی نائک نے طویل پریس کانفرنس کی اور پوری شدت سے اس معاملے کو اٹھایا مگر  نفرت انگیزی کے روز مرہ کے واقعات، ہیمنت بسوا شرما،  پشکر سنگھ دھامی اور یوگی آدتیہ ناتھ جیسے وزرائے اعلیٰ کی نفرت انگیزیوں  کے خلاف اپوزیشن کو جس طرح آواز بلند کرنی چاہئے، ویسی بلند نہیں کرتی۔  شاید اس لئے کہ  ملک کی سیاسی فضا  ہی کچھ اس طرح کی  بنادی گئی  ہے جس میں یہ نفرت  اب معمول کا حصہ اور’’ قابلِ قبول‘‘  معلوم ہونے لگی ہے۔  بی جےپی سے کوئی توقع اس لئے نہیں کی جاسکتی کہ یہ اسی کی  سیاست کا حصہ ہے تاہم  اپوزیشن  کی پارٹیاں جو مسلمانوں کے ووٹوں کی دعویدار بھی ہیں  اور جنہیں مسلمان ووٹ دیتے ہیں، خوشی سے یا مجبوراً وہ بھی کھل کر سامنے آنے سے گریز کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما  کے حالیہ بیانات نے خاصہ تنازع پیدا کیا لیکن  سیاسی محاذ پر ان  کا اس طرح کھل کر مقابلہ نہیں کیاگیا جس طرح  کیا  جانا چاہئے تھا۔ اپوزیشن  اس خوف سے ہچکچاتا نظر آتاہےکہ کہیں  بچے کھچے ہندو ووٹ سے بھی محروم نہ ہوجائے۔

یہ بھی پڑھئے: ایک دن کے وقفہ سے ۲؍ فیصلے اور ۲؍ الگ الگ موقف!

اس میں کوئی شک نہیں کہ جب ہیمنت بسوا شرما کا فائرنگ والا اے آئی ویڈیو سامنےآیا اور پانی سر سے اوپر ہوتا نظر آیاتو   بعض شہریوں  اور بائیں محاذ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا مگر زمینی سطح پر اس ویڈیو کے بعد بھی اپوزیشن کے محاذ پر سردمہری ہی نظر آئی۔ اپوزیشن کی مجبوری کوجس کا ذکر اوپر کیاگیاہے ، سمجھا جاسکتاہے مگر خود اپوزیشن  میں شامل پارٹیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان  کی یہ مجبوری کہیں خود سپردگی تو نہیں  بنتی جارہی ہے اور  یہ کہ یہ مجبوری  کہیں ملک کے مستقبل کیلئے خطرہ نہ بن جائے۔ اپوزیشن کو اس بات سے بھی سبق لینے کی ضرورت  ہےکہ نفرت انگیزی  ملک کی اکثریت کو قابل قبول نہیں ہے۔ یہ جہاں  بی جےپی کو ملنے  والے ووٹوں کے فیصد سے ظاہر ہے وہیں   حالیہ چند مہینوں کے واقعات سے بھی عیاں  ہے۔ البتہ یہ خوش آئندہے کہ اب اکثریتی فرقہ کے افراد خود  اس لڑائی کو لڑنے کیلئے سڑکوں پر اترنے لگے ہیں۔  وہ تحریک جو شہلانیگی نے نینی تال میں مسلمانوں کی دکانوں  میں توڑ پھوڑ اور مسلم مخالف نعروں کے خلاف کھڑے ہو کرچھیڑی تھی وہ خود کو محمددیپک کہہ کر متعارف کرانےوالے دیپک  کمار تک پہنچتے پہنچتے توانا ہوچکی ہے۔  اس کے بعد   دُرگ اور بنارس  میں جس طرح   مسلمانوں کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف  خود اکثریتی فرقہ کے افراد کھڑے ہوئے اور تلنگانہ میں ایک مسجد کو نقصان پہنچانے کے خلاف ایک ہندو تاجر نے مرمت کیلئے مالی مدد کی پیش کش کی ،وہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ’’سڑاند‘‘  تو پھیل رہی ہے مگر سماج پوری طرح سڑا نہیں ہے اورا س کو سڑنے سے بچانے کیلئے اپوزیشن کو اپنی سرد مہری ترک کرنی ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK