• Sat, 24 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ۲۰۲۵ء کے دوران ۴۷ لاکھ اسلاموفوبک پوسٹس؛ ’مسلم یلغار‘ کا نظریہ غالب موضوعات میں شامل: تحقیق

Updated: January 23, 2026, 9:57 PM IST | Washington

تحقیق میں سوشل میڈیا پر ۱۰ سب سے زیادہ رائج و غالب موضوعات کی نشان دہی کی گئی ہے جن میں مسلم یلغار کا نظریہ، شریعہ قانون کا نفاذ، مسلم تنظیموں اور لیڈران کی تحقیقات کے مطالبات اور مسلمانوں کی ملک بدری کے مطالبات شامل ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

جنوبی ایشیاء میں اقلیتوں کے شہری حقوق کیلئے سرگرم تنظیم ’ایکوئیلٹی لیبس‘ (Equality Labs) کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق، ۲۰۲۵ء کے دوران امریکہ میں مسلم سماج کو نشانہ بنانے والی ۴۷ لاکھ سے زائد اسلاموفوبک سوشل میڈیا پوسٹس شیئر کی گئیں۔ تنظیم نے بتایا کہ ان کے شناخت کردہ ۴۷ لاکھ پوسٹس نے ۱۲ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ۳ کروڑ ۴۸ لاکھ ’انگیجمنٹس‘ (لائیکس، شیئرز، کمنٹس، سیوز، ٹیپس اور کلکس کی سرگرمیاں) حاصل کئے۔ 

تحقیق میں پایا گیا کہ گزشتہ سال کے دوران مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور ان کے متعلق غلط معلومات پھیلانے والی تقریباً ۲ لاکھ ۷۹ ہزار پوسٹس کے ساتھ ریاست ٹیکساس سرفہرست رہی۔ اس کے بعد فلوریڈا ایک لاکھ ۵۰ ہزار پوسٹس اور کیلیفورنیا ایک لاکھ ۱۷ ہزار پوسٹس کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران پر ممکنہ امریکی حملوں سے اسرائیل خوف زدہ، الرٹ جاری

۱۵۰۰ پوسٹس کے تحقیقی نمونے کی بنیاد پر، محققین نے ۱۰ سب سے زیادہ رائج و غالب موضوعات کی نشان دہی کی جن میں مسلم یلغار کا نظریہ (Muslim Invasion theory)، شریعہ قانون کا نفاذ، مسلم تنظیموں اور لیڈران کی تحقیقات کے مطالبات اور مسلمانوں کی ملک بدری کے مطالبات شامل ہیں۔ واضح رہے کہ ’مسلم یلغار‘ کا نظریہ امریکہ میں انتہائی دائیں بازو کی جانب سے مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے پیش کیا جانے والا منفی بیانیہ ہے جس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مسلم آبادی میں اضافہ اور ہجرت ملک پر قبضہ کرنے کی ایک سازش ہے تاکہ مسیحی اقدار اور امریکی شناخت کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اسلاموفوبک مواد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے عہدیداروں کے درمیان تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہ مواد اکثر تارکینِ وطن مخالف حملوں کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، جس میں ویزوں کی معطلی، شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے اور امریکہ سے باہر پیدا ہونے والے افراد کی ملک بدری کے مطالبات شامل ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت جنوری ۲۰۲۵ء میں شروع ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ :شدید سردی اوراسرائیل کےمسلسل حملوں سےحالات بدتر

تحقیق میں مزید پایا گیا کہ ان پوسٹس کے ذریعے مسلم برادری کی سماجی و سیاسی سرگرمیوں کو بھی تیزی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے تحت ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے مسلم امیدواروں، ووٹرز اور منتخب عہدیداروں کو ہراساں کرنا شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ’’دائیں بازو کے انفلوئنسرز‘‘ دانستہ طور پر عوامی مقامات پر محاذ آرائی کو ہوا دے رہے ہیں تاکہ ایسا مواد تیار کیا جا سکے جو آن لائن ہراسانی کے عمل کو مزید ایندھن فراہم کرے۔

اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے ایکوئیلٹی لیبس نے سفارش کی ہے کہ عقیدے کی بنیاد پر انتخابی غلط معلومات کو شہری حقوق اور ووٹر تک رسائی کے مسئلے کے طور پر دیکھا جائے، فنڈز فراہم کرنے والوں کیلئے تفصیلات ظاہر کرنے کی شرائط کو وسیع کیا جائے، سیاسی اشتہارات اور انفلوئنسر کے مواد میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مواد کو ہدف بنایا جائے اور اسلامو فوبک مہمات کے پیچھے موجود فنڈنگ اور نیٹ ورکس کو توڑا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK