EPAPER
مہاراشٹر میں کم بارش اور خشک سالی جیسے حالات کے پیش نظر ریاستی حکومت نے ۱۶؍ اکتوبر سے تمام شہری اور دیہی مقامی اداروں میں پانی کے استعمال میں کم از کم ۱۰؍ فیصد کٹوتی لازمی کردی ہے۔ وزیرِ وسائلِ آب گریش مہاجن کے مطابق پانی کے ذخائر کی اگست ۲۰۲۷ء تک منصوبہ بندی کی گئی ہے اور پینے کے پانی کو سب سے زیادہ ترجیح دی جائے گی۔ آبپاشی کے لیے پانی پینے، مویشیوں اور چارے کی ضروریات پوری ہونے کے بعد ہی جاری کیا جائے گا۔ حکومت نے ہر بڑے ڈیم میں کم از کم ۱۰؍ فیصد ہنگامی ذخیرہ محفوظ رکھنے، پانی کے رساؤ کو روکنے اور صنعتوں کو کم از کم ۳۰؍ فیصد پانی دوبارہ استعمال کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ ۱۶؍ اکتوبر سے کم از کم ۱۰؍ فیصد پانی کی کٹوتی۔
October 07, 2026, 1:50 PM IST
اکولہ میں ۱۰؍ دن بعد جبکہ واشم اور بلڈانہ میں ۸؍ دن میں ایک بار پانی کی سپلائی۔ جالنہ کے کاٹے پورنا ڈیم میں صرف ۴۲ء۱۸؍ فیصد پانی ذخیرہ ۔ ۱۵؍ سے ۲۰؍گاؤں متاثر۔
October 07, 2026, 1:14 PM IST
سی پی آئی نے میونسپل کارپوریشن کے صدردفتر پر احتجاجی مظاہرے میں۸؍ سے۲۰؍ دن تک پانی نہ ملنے کادعویٰ کیا۔ نالوں کی صفائی، سڑکوں کی مرمت اور بند اسٹریٹ لائٹ شروع کرنے کا مطالبہ۔
October 07, 2026, 11:28 AM IST
جہاں ایک طرف ریاست کےمتعدد اضلاع خشک سالی سے دوچار ہیں جس کی وجہ سے جلد ہی پوری ریاست میں ۱۰؍فیصد پانی کٹوتی شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور غیر قانونی طور پر پانی کے استعمال اور چوری پر قابو پانے کی مہم چلائی جا رہی ہے، وہیں دوسری جانب بی ایم سی فضائی آلودگی پر قابو پانے کیلئے شہر ومضافات کی سڑکوں کو روزانہ پانی سے دھونےکی تجویز پر غور کر رہی ہے جس کی مخالفت کی جا رہی ہے۔
October 07, 2026, 11:42 AM IST
