ہندوستان میں کم از کم۲۱؍ شہر وں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے،ان میں نئی دہلی، بنگلور، حیدرآباد، چنئی اور پونےجیسے بڑے بھی شامل ہیں، چنئی کو۲۰۱۹ء میں ’زیروڈے‘ جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پانی کا بحران۔ تصویر:آئی این این
تہران پر کیا کوئی ایسی آفت منڈلا رہی ہےجس سے بچنے کی راہ سجھائی نہیں دیتی؟ کیاتہران زیروڈے جیسے حالات کا سامنا کرسکتا ہے!(یعنی ایسا اچانک بحران جس سے بچنا ممکن نہ ہو)۔میںکسی ممکنہ امریکی حملے کی بات نہیںکررہاہوں بلکہ پانی کی اس شدید قلت کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوںجس نے ایران کی راجدھانی کو اپنی گرفت میںلے رکھا ہے ۔ ایران کے صدرمسعود پیزشکیان حال ہی میں کہہ چکے ہیںکہ ملک کی راجدھانی کہیں اور منتقل کرنامتبادل نہیںبلکہ مجبوری ہے۔
یہ المیہ ادھر کافی وقت سے ہے۔البرز پہاڑی سلسلے پرجمی برف تہران میں آب رسانی کاذریعہ ہے۔بہرحال صدیوںپرانایہ ذریعہ اب گلوبل وارمنگ کے خطرات کا سامنا کررہا ہے۔کچھ برسوں کے دوران برف باری میں مسلسل کمی آئی ہےجس کے نتیجے میں پانی کی قلت پیدا ہوئی ہے۔اس دوران شہری حدود میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔شہری زیر زمین پانی کا استعمال کرنے میںبالکل غیر محتاط رہے ہیں جس کے نتیجے میںکئی گنجان آبادی والے علاقوں میں زمینیں نیچےکھسک گئی ہیں ۔تہران انتظامیہ نےپانی کا دباؤ کم کرنے کیلئے پائپ لائنوں میںاسمارٹ میٹر نصب کئے ہیں۔اس بحران سے نمٹنے کیلئےیہ اقدام بالکل معمولی ہے ۔یہ صورتحال اگرجاری رہی توتہران جدید ز مانے میںمتروک یا غیر آباد کردیاجانے والا دنیا کا دوسرا دار الخلافہ ہوسکتا ہے ۔
انڈونیشیا کی راجدھانی جکارتابھی غیر آباد ہونے کے دہانے پر ہے۔پانی کی قلت کی وجہ سےجکارتا اپنے دفاتربورنیو جزیرے کے مشرقی کلی منتان صوبے کے نوسنتارا میں منتقل کررہا ہے۔ اس کی کلیدی وجہ یہ ہےکہ جکارتا اپنے صرف ۴۰؍ فیصد شہریوںکو پائپ لائن کے ذریعے پانی پہنچارہا ہے۔جکارتا کے شہری زیر زمین پانی پر انحصار کرتے ہیں۔زیر زمین پانی کے ذخائر کے اسی استحصال کا نتیجہ ہے کہ شہر سالانہ ۱۵؍ سینٹی میٹرتک نیچے دھنس رہا ہے۔شہرکے بیٹھنے کے نتیجے میںسمندر کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے۔۴۰؍فیصد شہرسمندر میں ڈوب چکا ہے اورآئندہ ۲۵؍ برسوں میںجکارتا پوری طرح سمندر میں سماجائے گا ۔
ہندوستان میں کم از کم۲۱؍ شہر پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان میں نئی دہلی، بنگلور، حیدرآباد، چنئی اور پونےجیسے بڑے شہر شامل ہیں۔ خلیج بنگال کے ساحل پر واقع چنئی کو۲۰۱۹ء میں ’زیروڈے‘ جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے قریبی علاقوں سے ٹرینیں روانہ کی گئی تھیں۔ ضرورت سے زیادہ زیر زمین پانی کا استحصال بنگلور، پونے اور حیدرآباد میں بھی ایسے ہی حالات کا باعث بن سکتا ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح کم ہو رہی ہے، اور زمین بیٹھنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔
دہلی میں پانی کے راشن کا نظام کئی برسوں سے جاری ہے۔ روہنی ٹاؤن شپ اور ایسے کئی رہائشی علاقوں کو مخصوص دنوں میں پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ ایک وقت تھا جب شہر کو۲۴؍ گھنٹے ساتوں دن پانی فراہم کیا جاتا تھا۔ اب جمنا ندی میں امونیا کی مقدار اتنی بڑھ چکی ہےکہ اس کا پانی انسانوں کے استعمال کےقابل نہیںرہ گیا ہے۔ آبادی کا ایک بڑا حصہ پانی کے ٹینکروں پر منحصر ہے۔ دہلی کی پانی کی ۹۰؍ فیصد ضروریات ہریانہ اور اتر پردیش سے پوری ہوتی ہیں اور جب بھی ان ریاستوں میں پانی کی قلت ہوتی ہے تو دہلی کے باشندوں کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔
مرکزی حکومت نے اٹل گراؤنڈ واٹر اسکیم، دریاؤںکو جوڑنے کے پروگرام، بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی اور ڈیجیٹل واٹر گرڈ جیسی کئی اسکیمیں شروع کی ہیں۔ اٹل گراؤنڈ واٹر اسکیم کے ذریعے حکومت کا مقصد پانی کی فراہمی میں لوگوں کی شراکت کو فروغ دینا ہے۔عوام میں شعور اجاگر کرنے کیلئے کئی شہروں میں ’پیزو‘ میٹر لگائے گئے ہیں ۔ یہ میٹر مکینوں کو ان کے علاقوں میں زیر زمین پانی کی کم ہوتی ہوئی سطح کےتعلق سے حقیقی وقت میںخبر دار کرتے ہیں۔ آبپاشی کو بہتر بنانے کیلئے اسرائیل سے ڈرپ ایری گیشن متعارف کروائی گئی ہے۔(اس جدید طریقے سےپودوںکی جڑوں میں آہستہ آہستہ اور بتدریج پانی پہنچایاجاتا ہےجس سےروایتی طریقوںکے مقابلے ۵۰؍سے۷۰؍فیصد پانی کی بچت ہوتی ہے )۔
میں یہاں دریاؤں کو جوڑنے کے منصوبے پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ جس وقت وزیر اعظم نریندر مودی نے عہدہ سنبھالا تھا، انہوں نے اس پروگرام پر کام شروع کردیا تھا۔ پہلے مرحلے میں کین اور بیتوا کو جوڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم کئی ماہرین کا خیال ہےکہ دریا ؤںکو جوڑنے کے منصوبوں کیلئے زیادہ وسائل کی ضرورت ہے اور یہ کافی وقت طلب بھی ہے۔
پانی کی کمی کا تعلق آب و ہوا اور ماحولیاتی انحطاط سے ہے۔ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی ماحولیاتی توازن تیزی سےبگڑ رہا ہے۔ ایران کے البرز پہاڑوں کی طرح، ہمالیہ پر بھی چادر کی طرح بچھی برف اب مسلسل ختم ہورہی ہے ۔ برف باری میں کمی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے گلیشیرز قدرتی نظام کے تحت مقررہ حدوں سے کہیں زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے گنگا، جمنا اور ستلج جیسی ندیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔موسمیاتی بحران نے موسم گرما، مانسون اور سردیوں کے درمیان توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ میں گزشتہ بسنت پنچمی کے دوران دہرادون میں تھا۔ شیوالک کی وادی دون میں اس دن شدید بارش اور ژالہ باری ہوئی اور قریبی پہاڑوں پر موسم کی پہلی برف باری کا مشاہدہ کیا۔ میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ بسنت پنچمی وہ دن ہوتا ہے جس دن شمالی ہندوستان میں لوگ سردیوں کو الوداع کہتے ہیں۔ اس دن کی سردی اور برف باری سے مجھے ایک ساتھی کی ہنسی یاد آگئی جس نے کہا تھا کہ اب بہار کا موسم ختم ہو چکا ہے۔کہنا چاہتاہوں کہ یہ صرف ایک موسم کا خاتمہ نہیںہے بلکہ ایسی تبدیلیوں، عدم توازن اور تغیرات سے ہماری زندگی کی بہاریں بھی لٹ سکتی ہیں۔
(بشکریہ ہندوستان ٹائمس)