بیشتر خواتین ناشتہ ترک کرتی ہیں یا خانگی امور کے سبب کھانا کھانے میں تاخیر کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے جسم توانائی کھو دیتا ہے، پیٹ میں تیزابیت پیدا ہوتی ہے اور موڈ سوئنگ ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: March 12, 2026, 3:41 PM IST | Hafsa Thim | Mumbai
بیشتر خواتین ناشتہ ترک کرتی ہیں یا خانگی امور کے سبب کھانا کھانے میں تاخیر کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے جسم توانائی کھو دیتا ہے، پیٹ میں تیزابیت پیدا ہوتی ہے اور موڈ سوئنگ ہوتا ہے۔
خواتین گھر میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ اپنے کنبہ کی صحت کا خاص خیال رکھتی ہیں مگر اکثر خود کو فراموش کر دیتی ہیں۔ آج اس کالم میں چار ایسی باتیں بتائی جا رہی ہیں جن پر عمل کرکے خواتین اپنی صحت کو بہتر بنا سکتی ہیں:
(۱) کھانا ترک نہ کریں
بیشتر خواتین ناشتہ ترک کرتی ہیں یا خانگی امور کے سبب کھانا کھانے میں تاخیر کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے جسم توانائی کھو دیتا ہے، پیٹ میں تیزابیت پیدا ہوتی ہے، موڈ سوئنگ ہوتا ہے اور ہارمونز میں تبدیلی آتی ہے۔
* دن کا آغاز پروٹین اور فائبر سے بھرپور غذا سے کریں۔
* ہر ۳؍ سے ۴؍ گھنٹے میں کھائیں۔
* ہائیڈریٹ رہیں۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان میں وزن بڑھنے کی وجوہات اور اس کا سدباب
(۲) ہارمونز متوازن کرنے والی غذائیں
ہارمونز کی صحت کا انحصار غذائیت پر ہوتا ہے۔ اپنی خوراک میں اِن غذاؤں کو شامل کریں:
* صحتمند چکنائیاں (خشک میوہ جات، بیج، ناریل، کم مقدار میں گھی)
* آئرن سے بھرپور غذائیں (ہرے پتّوں والی سبزیاں، کھجور، چقندر)
* ہر کھانے میں پروٹین سے بھرپور غذا شامل کریں۔
ہارمونز کی سطح متوازن رہنے سے مزاج بہتر رہتا ہے، جلد صحتمند رہتی ہے اور جسم توانا رہتا ہے۔
(۳) ہڈیوں کی صحت
بڑھتی عمر میں ہڈیاں کمزور ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ یہ غذائیں استعمال کریں:
* کیلشیم سے بھرپور غذائیں (دودھ، دہی، تل)
* دھوپ سینکیں، جسم کو وٹامن ڈی ملتا ہے۔
* جسمانی سرگرمیاں انجام دیں۔
احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ اس لئے وقت رہتے ہڈیوں کی صحت کا خیال رکھیں۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان کے اختتام سے قبل خود کو دوبارہ دریافت کرلیں
(۴) خود کا خیال رکھیں
ایک صحتمند خاتون ہی صحتمند کنبہ کو تشکیل دے سکتی ہے۔ اس لئے:
* مناسب نیند لیں۔
* جسمانی طور پر فعال رہیں۔
* صحت بخش غذا کا انتخاب کریں۔
* ذہنی صحت پر توجہ دیں۔
یہ بھی پڑھئے: یاسمین اویس ٹیچروں کو ٹریننگ دینے کے ساتھ ساتھ روزہ بھی رکھتی ہیں
خلاصہ: خواتین کو اپنی ذات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت پر بھی توجہ دیں۔