EPAPER
اسی مکان کے ایک حبس زدہ کمرے میں، ادیب حسن ایک نیم دیوانہ سا ادیب، کاغذوں کے بےترتیب انبار میں ایسا الجھا رہتا، جیسے لفظوں کی مسافت طے کرتا کوئی تھکا ہوا مسافر۔کمرے میں پڑی میز کی دراڑوں سے وقت رِستا تھا اور روشن دان سے آتی نحیف سی روشنی میں اڑتی دھول اس کے خیالات کی پرچھائیاں محسوس ہوتیں۔
April 27, 2026, 2:10 PM IST
مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے پہلی مرتبہ آغا حشر کا نام کب سنا؟ صرف اتنا یاد ہے کہ ’’ڈراما‘‘ کا نام سننے سے پہلے اس نام سے میرے کان آشنا ہوچکے تھے۔
April 26, 2026, 1:17 PM IST
ادب انسانی شعور کی وہ تخلیق ہے کہ جس میں ادیب اپنے ذہن سے باہر کے مادی اور خارجی حقائق کا عکس مختلف شکلوں میں فنی قیود اور جمالیاتی تقاضوں کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
April 26, 2026, 1:20 PM IST
’’نہیں ریانہ، تم نہیں۔‘‘ مَیں جلدی سے بولا کیونکہ مَیں اس کی زبان سے واقف تھا وہ اماں سے جس طرح سے بات کرے گی اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلنے والا تھا۔
April 21, 2026, 4:35 PM IST
