’’دادی جان! رمضان بڑا برکتوں والا مہینہ ہے اور حضرت ہمیشہ روزے کی اہمیت اور قرآن کی تلاوت کے ساتھ ساتھ افطار کرانے کے بےشمار ثواب کا ذکر کرتے ہیں نیز کہتے ہیں رمضان المبارک میں ایک نیکی کا ثواب ستّر گنا عطا کیا جاتا ہے۔ ‘‘
EPAPER
Updated: March 09, 2026, 1:40 PM IST | Raheem Raza | Mumbai
’’دادی جان! رمضان بڑا برکتوں والا مہینہ ہے اور حضرت ہمیشہ روزے کی اہمیت اور قرآن کی تلاوت کے ساتھ ساتھ افطار کرانے کے بےشمار ثواب کا ذکر کرتے ہیں نیز کہتے ہیں رمضان المبارک میں ایک نیکی کا ثواب ستّر گنا عطا کیا جاتا ہے۔ ‘‘
رمضان المبارک کی آمد آمد تھی۔ گزشتہ دو ہفتوں سے جمعہ کے دن امام صاحب اس ماہ کی رحمتوں، برکتوں اور روزے کے فضائل و مسائل نیز افطار کروانے کے اجر و ثواب پر بیان دے رہے تھے کہ’’ کسی نے روزہ دار کو افطار کیلئے ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی بھی دیا تو اللہ تعالیٰ اسے روزہ دارکے برابر ثواب عطا کرے گا اور روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ ‘‘ یہ بیانات جنید مسلسل سنتا آرہا تھا۔ آج جمعہ کی نماز سے فارغ ہوتے ہی جنید گھر پہنچ کر سیدھا دادی اماں کے کمرے میں داخل ہوا جو نماز و تلاوت سے فارغ ہوکر ہاتھ میں تسبیح لیے وظیفہ میں مصروف تھیں۔ ’’السلام علیکم! دادی اماں ‘‘، ’’ وعلیکم السلام بیٹے! جیتے رہو، اللہ تمہاری عمر دراز کرے‘‘ اپنے سات سالہ معصوم پوتے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دادی نے کہا۔ ’’ دادی اماں ... دادی اماں ایک بات پوچھوں ؟ ‘‘’’ہاں پوچھو، میرے بچے! پہلے سانس تو درست کرلو۔ ‘‘
’’دادی جان! رمضان بڑا برکتوں والا مہینہ ہے اور حضرت ہمیشہ روزے کی اہمیت اور قرآن کی تلاوت کے ساتھ ساتھ افطار کرانے کے بےشمار ثواب کا ذکر کرتے ہیں نیز کہتے ہیں رمضان المبارک میں ایک نیکی کا ثواب ستّر گنا عطا کیا جاتا ہے۔ ‘‘
’’ ہاں بیٹے!یہ بات تو ہے پھر اللہ تعالیٰ اس مہینے میں ستر گنا ثواب تو کیا ستر ہزار نیکیاں عطا فرمائے گا۔ اس کے خزانے میں کیا کمی ہے۔ ‘‘
جنید کے معصوم چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے پھر سوال کیا’’ دادی جان! ایک اور سوال پوچھوں ؟ ‘‘ ’’ہاں ....ہاں ضرور پوچھو! ‘‘ دادی اماں نے تسبیح ایک طرف رکھتے ہوئے کہا۔ ’’رمضان کے مہینے میں سب لوگ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے کی فکر کرتے ہیں۔ پچھلے سال آپ نے مجھے دو روزے رکھنے کی اجازت دی تھی اب میں پورے روزے رکھوں گا اور ہاں ! امی جان بھی میرے ہاتھوں روزانہ افطار کا سامان اپنے پڑوسیوں کو کچھ سموسے، پکوڑے اور پھل وغیرہ بھجواتی ہیں۔ مسجد میں بھی لوگ افطار کا ڈھیرسارا سامان بھجواتے ہیں۔ ‘‘
’’ہاں بیٹے! یہ بڑے اجروثواب کی بات ہے ‘‘، ’’ ہاں دادی جان! لیکن کبھی کبھی افطار کا اتنا سامان آجاتاہے کہ افطار کے بعد بھی بچ جاتا ہے۔ مجھے ہمیشہ خیال آتا ہے کہ افطار کے لئے کھانا اور پھل تقسیم کرنا ثواب ہے تو سحری کے لئےکھانے کا اہتمام کرنے پر بھی اتنا ہی ثواب ملے گا۔ ‘‘ تب تک جنید کی امی بھی قریب آکر خاموشی سے ان کی باتیں سننے لگی تھیں۔
’’ہاں بیٹے! کیوں نہیں ! اللہ تعالیٰ مالک و مختار ہے وہ جتنا چاہے اپنے بندے کو نواز دے۔ ‘‘’’پھر لوگ افطار کے لئے تو بہت کچھ بھیجتے ہیں لیکن جن کے یہاں سحری کا معقول انتظام نہ ہو ان کا کسی کوخیال نہیں آتا، روزہ دار اپنی سحری کی فکر میں رہتے ہیں کچھ لوگ میٹھی نیند سوتے ہیں۔ بیچارے غریب لوگ رات کے بچے ہوئے کھانے سے سحری کرکے روزے کی نیت کرلیتے ہوں گے۔ ‘‘
دادی اماں اور جنید کی امی کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔ وہ معصوم جنید کی سمجھ داری پر دل ہی دل میں خوش ہورہی تھیں۔ ’’ دادی جان! اس مرتبہ ہم پانچ، دس کلو نان خطائیاں زیادہ بنائیں گے اور رمضان المبارک سے پہلے ہی غریب اور مستحق لوگوں میں تقسیم کریں گے ساتھ ہی کچھ نقد رقم بھی دیں گے تاکہ ان کا روزانہ سحری و افطار کا بہتر انتظام ہوسکے۔ ‘‘
امی کے ساتھ ساتھ دادی اماں کی بھی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ امی جان نے جنید کی پیشانی چوم لی اور دادی اماں نے فرط جذبات سے جنید کو گلے لگا کر خوب دعائیں دیں۔ معصوم جنید کا چہرہ خوشی سے تمتما نے لگا۔