آسٹریلیا کے خلاف تیسرے اور فیصلہ کن ٹی ۲۰؍ میچ میں ہرشل اور چہل پر نظر

Updated: September 25, 2022, 9:27 AM IST | Hyderabad

آج تیسرے ٹی ۲۰؍ میچ میں ہندوستان اور آسٹریلیا آمنے سامنے۔ روہت شرما نے گزشتہ میچ میں کپتانی اننگز کھیلی تھی۔مہمان ٹیم بھی سیریز جیتنے کی متمنی

rohit sharma
روہت شرما

ہندوستان، جس نے پچھلے میچ میں فتح  کے ساتھ سیریز برابر کی تھی، اتوار کو یہاں آسٹریلیا کے خلاف تیسرا اور فیصلہ کنٹی ۲۰؍ انٹرنیشنل کھیلنے کے وقت اپنے دو اہم گیند بازوں ہرشل پٹیل اور یزویندر چہل پر نظریں  رکھے گا اور ان کے فارم کا جائزہ لیا جائے گا۔ 
  ہندوستان نے ناگپور میں کھیلےجانےوالے دوسرے میچ میں ۶؍ وکٹ سے جیت کیساتھ سیریز برابرکر دی لیکن ان کے گیند بازوں بالخصوص ہرشل اور چہل کا فارم تشویش کا باعث ہے۔ ہندوستانی ٹیم ان دونوں کوٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ سے پہلے فارم میں واپس دیکھنا چاہے گی۔جسپریت بمراہ کی واپسی ہندوستان کیلئے اچھی خبر ہے لیکن سینئر تیز گیند باز بھونیشور کمار کا خراب فارم  بھی تشویش کا باعث  ہے۔ بھونیشور ایشیا کپ کے پہلے میچ اور پھر آسٹریلیا کے خلاف بھی نہیں چل سکے۔وہ دوسرے میچ سے باہر ہو گئے کیونکہ کپتان روہت شرما میچ میں صرف ۴؍ گیند بازوں کے ساتھ میچ میں جانا چاہتے تھے جو گیلے گراؤنڈ کی وجہ سے۸؍ اوورس تک محدود کر دیا گیا۔ڈیتھ اوورس کے ماہر ہرشل نے چوٹ سے ٹھیک ہونے کے بعد واپسی کی ہے لیکن وہ پراعتماد نظر نہیں آئے۔ انہیںاپنی رفتارکو بحال کرنے کیلئے مزید ایک دو میچ کھیلنا ہوں گے۔ اپنی متنوع گیند بازی کیلئے مشہور تیز گیندباز نے موجودہ سیریز میں ۶؍ اوورس میں۸۱؍رن دے کر سب سے مہنگے گیند باز ثابت ہوئے ہیں۔ ہرشل کو لینتھ حاصل کرنا مشکل ہو رہا ہے اور انہیں اب تک ایک بھی وکٹ نہیں ملا ہے۔
 ہندوستان درمیانی اوورس میں اسپنرس پر منحصر ہے اور جہاں اکشر پٹیل کی اچھی کارکردگی ان کیلئے اچھی خبر ہے۔ چہل کیلئے یہ اچھی خبر نہیں ہے۔ لیگ اسپنر نے ایشیا کپ میں بہت زیادہ رن دئیے تھے اور اس میں آسٹریلیا کے خلاف بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ روہت، کے ایل راہل اور وراٹ کوہلی، جو بیٹنگ میں ہندوستانی ٹاپ آرڈر میں ہیں، کو اپنی کارکردگی میں مستقل مزاجی دکھانے کی ضرورت ہے۔ سوریہ کمار یادو بھی گزشتہ چند میچوں میں توقع کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائے ہیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ہاردک پانڈیا مسلسل اچھی کارکردگی پیش کر رہے ہیں۔
 ہندوستان کے بلے بازوں کی ایک اور کمزوری لیگ اسپن ہے۔ لیگ اسپنرس کے خلاف ان کی جدوجہد جاری ہے اور ایڈم زمپا بھی ان کی کمزوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ہندوستانی ٹیم میں فنشر کا کردار ادا کرنے والے دنیش کارتک کو اور بھی موقع ملنے کا امکان ہے۔ روہت زخمی رویندر جڈیجا کی جگہ لینے والے اکشر کو بھی ٹیم میں برقرار رکھنا چاہیں گے۔
 ہندوستان کی طرح آسٹریلیا بھی اپنے گیند بازوں کی کارکردگی سے پریشان ہے۔ پہلے میچ میں انہوں نے بلے بازوں کے زور پر کامیابی حاصل کی جبکہ دوسرے میچ میں بھی کپتان ایرون فنچ اور میتھیو ویڈ نے انہیں اچھے اسکور تک پہنچایا لیکن گیندبازنے ان کا دفاع کرنے میں ناکام رہے۔پیٹ کمنس، جوش ہیزل ووڈ اور ڈینیل سامس نے زخمی ناتھن ایلس کی غیر موجودگی میں ۱۱؍ رن فی اوور دیا۔ آل راؤنڈر کیمرون گرین بھی مہنگے ثابت ہوئے ہیں۔ ورلڈ کپ سے قبل ویڈ کا شاندار فارم آسٹریلیا کےلئے مثبت ہے لیکن ٹیم انتظامیہ آل راؤنڈر گلین میکسویل سے اس سے بھی بڑی اننگز کی توقع کرے گی، جس نے ۲؍ میچوں میں صرف ایک رن بنایا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK