• Thu, 29 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مالشيج گھاٹ میں اڈانی کے مجوزہ بجلی منصوبے کو شدید مخالفت کا سامنا

Updated: October 29, 2026, 12:29 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Mumbai

مرباڈ اور جُنّر کے۷۹؍ دیہاتوں کے باشندوں نے حکومت کے اقدام کے خلاف شدید ناراضگی ظاہر کی۔

A view of an area in Malshej Ghat. Photo: INN
مالشیج گھاٹ کے ایک علاقے کی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 ترقیاتی منصوبوں کے نام پر قدرتی ماحول اور قبائلی آبادیوں کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے خلاف مہاراشٹر میں مخالفت تیز ہوتی جا رہی ہے۔ کرجت میں ہزاروں درختوں کی کٹائی کے معاملے پر جاری تنازع کے درمیان اب پرفضاء مقام مالشیج گھاٹ میں اڈانی گروپ کے مجوزہ پاور پروجیکٹ نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے سبب تھانے ضلع کے مرباڈ تعلقہ کے بھورانڈے گاؤں کے مکمل طور پر زیرِ آب آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی قبائلیوں، کسانوں اور ماحولیاتی تحفظ کے حامیوں نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے انہیں اعتماد میں لیے بغیر اس بڑے منصوبے کو منظوری دی۔ اس کے خلاف ’اڈانی ہٹاؤ، سہیا دری بچاؤ‘ تحریک شروع کر دی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اڈانی رینیوایبل انرجی کمپنی مالشیج گھاٹ کے علاقے میں ۱۵۰۰؍ میگاواٹ کا پاور پروجیکٹ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت پونے ضلع کے اڈوشی میں۷ء۹۵؍ ملین کیوبک میٹر اور تھانے ضلع کے مرباڈ تعلقہ کے بھورانڈے گاؤں میں۸ء۹۷؍ ملین کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش والے ڈیم تعمیر کیے جانے کی تجویز ہے۔ سرنگ کے ذریعے پانی کو نیچے گرا کر ٹربائن کی مدد سے بجلی پیدا کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: ناگپور: فیکٹریوں پر ایف ڈی اے کے چھاپے جاری

مقامی باشندوں کا دعویٰ ہے کہ وزارت ماحولیات کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ ڈیم کے سبب بھورانڈے گاؤں مکمل طور پر زیر آب آسکتا ہے۔ماحولیاتی رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت نے ۲۴؍مارچ ۲۰۲۳ءکو ہی اس منصوبے کو منظوری دے دی تھی۔ تاہم مقامی دیہاتیوں کا الزام ہے کہ انہیں اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔جب منصوبے سے متعلق دستاویزات اور ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ مرباڈ کے تحصیل اور بلاک ڈیولپمنٹ آفس میں دستیاب ہوئی تب جا کر ہزاروں دیہاتیوں کو اس منصوبے کی تفصیلات معلوم ہوئیں۔ اس انکشاف کے بعد تھانے ضلع کے متاثرہ ۵۵ ؍دیہات میں حکومت کے خلاف شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ بھورانڈے گاؤں کے سرپنچ اَپّا کوکنے نے بتایا کہ گزشتہ ۲؍سال کے دوران قبائلی باشندوں، گرام پنچایت کے عہدیداروں اور مقامی انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دیے بغیر ہیلی کاپٹر کے ذریعہ علاقے اور جنگلات کا چار سے پانچ مرتبہ فضائی سروے کیا گیا۔ انکے مطابق گرام پنچایت کی حدود میں چٹانوں اور پتھروں کے نمونے حاصل کرنے کے لیے مشینوں سے جانچ بھی کی گئی لیکن پنچایت کو اس کی اطلاع تک نہیں دی گئی۔ 

اڈانی ہٹاؤ سہیادری بچاؤ مہم

مالشیج گھاٹ بجلی  منصوبے کے خلاف مرباڈ  اور جنر تعلقہ کے قبائلیوں اور کسانوں نے تحریک شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں جنر تعلقہ کے اجناؤلے گاؤں میں منعقدہ اجلاس میں  ۱۷؍دیہات کے سرپنچوں، عہدیداروں اور نوجوان کارکنوں نے شرکت کی۔ جس میں ’اڈانی ہٹاؤ، سہیا دری بچاؤ‘ رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی کے صدر دیورام لانڈے اور نائب صدر ارونا گھوٹکر نے اعلان کیا کہ کسی بھی صورت میں اس منصوبے کو آگے نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK