• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۴؍مہینے بعد بھی گیارہویں میں داخلہ کی کارروائی جاری

Updated: September 29, 2026, 11:22 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

۳؍ریگولر اور ۱۱؍اسپیشل راؤنڈ کے بعد بھی ۸؍لاکھ سیٹ خالی ، داخلے کی کارروائی مکمل نہ ہونے سے کالج انتظامیہ پریشان، نصاب کے علاوہ تعلیمی منصوبہ بندی میں دشواری پیش آنے کی شکایت۔

The question is being raised as to exactly how long the FYJC admission process will continue. Photo: INN
سوال کیا جارہا ہے کہ ایف وائی جے سی میں داخلے کی کارروائی آخرکب تک جاری رہے گی۔ تصویر: آئی این این

گیارہویں جماعت (ایف وائی جے سی ) کے پہلے سمسٹر کا امتحان عنقریب ختم ہونے والا ہے ، اس کے باوجود داخلے کا عمل جاری ہے ۔ ۳؍ریگولر اور ۱۱؍اسپیشل راؤنڈ کے بعد بھی تقریباً ۸؍لاکھ نشست خالی ہیں۔ اس کی اہم وجہ ہر سال شروع ہونے والے متعدد جونیئرکالج ہیں ۔ داخلے کی کارروائی مکمل نہ ہونے سے کالج انتظامیہ پریشان  ہیں۔ انہیں نصاب مکمل کرنے  اور تعلیمی منصوبہ بندی میں بھی دشواری ہو رہی ہے۔ گیارہویں میں داخلے کیلئے ۲۸؍ستمبر کو ۱۲؍ویں رائونڈ کی میرٹ لسٹ جاری کی گئی۔ جن طلبہ کا نام میرٹ لسٹ میں درج ہے، وہ ۲۹؍ستمبر تک متعلقہ کالجوں میں اپنے داخلے کی تصدیق کراسکتے ہیں۔فی الحال ریاست کے ۹؍ہزار ۷۱۸؍ جونیئر کالجوں میں ۲۲؍ لاکھ ۴۹؍ ہزار ۷۹؍ سیٹیں دستیاب ہیں۔ ان میں سے ۱۳؍ لاکھ ۶۳؍ہزار ۱۳۹؍ طلبہ کو داخلہ دیا گیا ہے۔ اب بھی ۸ ؍لاکھ ۸۵؍ ہزار ۹۴۰؍ سیٹیں خالی ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ ہر سال شروع ہونے والے متعدد جونیئر کالج ہیں۔ اس کے علاوہ  بہت سے کالج ہر سال اپنے کوٹے میں اضافہ کرتے ہیں ۔ اس لئے کالجوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ۱۱؍ویں جماعت میں داخلے کی کارروائی آخر کب تک جاری رہے گی؟

یہ بھی پڑھئے: ڈمپنگ گراؤنڈ جانے والے کچرے کے ٹرک شہریوں کی لاشوں پر سے گزریں گے: ابو عاصم

خیال رہے کہ دسویں پاس کرنے والے ۱۵؍ لاکھ ۶۲؍ ہزار ۷۴۴؍ طلبہ نے رجسٹریشن کرایا ہے جن میں سے ۱۱؍ لاکھ ۹۵؍ ہزار ۱۴۰؍ طلبہ کو مرکزی داخلہ عمل کے ذریعے اور ایک لاکھ ۶۷؍ہزار ۹۹۹؍ کو کوٹے کےتحت داخل دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر ۱۳؍ لاکھ ۶۳؍ ہزار ۱۳۹؍ طلبہ نے داخلہ حاصل کرلیا ہے۔

۴؍ مہینے سے زیادہ کاوقت گزر جانے کےباوجود داخلے کی کارروائی  پور انہ ہونے پر جونیئر کالجوں کے انتظامیہ کو تعلیمی منصوبہ بندی میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ داخلہ کا عمل ختم نہیں ہوا ہے۔ داخلہ راؤنڈز کی بڑھتی تعداد، مسلسل بدلتے ہوئے قوانین اور واضح ٹائم ٹیبل کی کمی کا براہ راست اثر طلبہ کی تعلیم، کالجوں کے تدریسی نظام الاوقات اور انتظامی کاموں پر پڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ امسال ریاستی بورڈ کے دسویں کے نتائج کا اعلان قبل از وقت کر دیا گیا تھا پھر بھی داخلوں کے خصوصی راؤنڈ ابھی جاری ہیں ۔متعدد جونیئر کالجوں کے پرنسپل حضرات کا کہنا ہے کہ جن طلبہ کا داخلہ تاخیر سے ہو رہا ہے ،ا ن کےبقیہ نصاب کو مکمل کرنا کالجوں کیلئے چیلنج بنا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:شردپوار نے انضمام اور اتحاد کی قیاس آرائیوں کو مسترد کیا

گیارہویں میں داخلے کی تفصیلات 
ریاست میں کل ۹؍ہزار ۷۱۸؍ جونیئر کالج ہیں۔
۱۵؍لاکھ ۶۲؍ہزار ۷۴۴؍ طلبہ نے داخلے کیلئے رجسٹریشن کرایا۔
مرکزی آن لائن داخلے کی سیٹیں : ۱۹؍لاکھ ۲۲؍ہزار۸۲۹
مرکزی آن لائن داخلے کی تصدیق : ۱۱؍لاکھ ۹۵؍ہزار ۱۴۰
خالی سیٹیں :۷؍لاکھ ۲۷؍ہزار ۶۸۹
کوٹے کی سیٹیں: ۳؍لاکھ ۲۶؍ہزار ۲۵۰
کوٹے کے تحت دا خلے :ایک لاکھ ۶۷؍ ہزار۹۹۹
کوٹے کی خالی سیٹیں: ایک لاکھ ۵۸؍ہزار ۲۵۱
 کل سیٹیں: ۲۲؍لاکھ ۴۹؍ہزار۷۹
اب تک کل داخلے :۱۳؍ لاکھ ۶۳؍ہزار ۱۳۹
 کل  خالی سیٹیں :۸؍لاکھ ۸۵؍ ہزار۹۴۰

وزیر تعلیم کاداخلے میں تاخیر کا اعتراف

اسکولی تعلیم کے ریاستی وزیر دادابھُسے نے گیارہویں جماعت میں داخلے میں ہونے والی تاخیر سے متعلق کہا کہ ’’ہم اگلے سال سے داخلے کے عمل کو جلد مکمل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ ۱۱؍ویں جماعت میں داخلے کیلئے رجسٹرڈ ہونے والے طلبہ کی صحیح تعداد کے ساتھ انہوں نے کس کورس یا ادارے میں داخلہ لیا ہے، اس کی معلومات ہونا بھی ضروری ہے ۔محکمہ تعلیم اس کیلئے خصوصی انتظامات کرے گا۔ ‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK