• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اجے دیوگن نے ’’درِیشیم: دی کنکلوژن‘‘ کے لیے موہن لال کی منظوری طلب کی

Updated: October 01, 2026, 5:06 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ اداکار اجے دیوگن نے انکشاف کیا ہے کہ فلم ’’درِیشیم: دی کنکلوژن‘‘ کو آگے بڑھانے سے قبل وہ چاہتے تھے کہ ملیالم سنیما کے سپر اسٹار موہن لال اس منصوبے سے متفق ہوں۔

Ajay Devgn.Photo:INN
اجے دیوگن۔ تصویر:آئی این این

 بالی ووڈ اداکار اجے دیوگن  نے انکشاف کیا ہے کہ فلم  ’’درِیشیم: دی کنکلوژن‘‘ کو آگے بڑھانے سے قبل وہ چاہتے تھے کہ ملیالم سنیما کے سپر اسٹار  موہن لال  اس منصوبے سے متفق ہوں۔ اجے دیوگن کے مطابق آنے والی فلم کی کہانی انہیں اتنی مضبوط محسوس ہوئی کہ ان کا خیال ہے کہ یہ ’’درِیشیم: دی کنکلوژن‘‘ سے بھی آگے نکل سکتی ہے، تاہم وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اب اس فرنچائز کو مناسب مقام پر روک دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے:’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ نئے مناظر کے ساتھ دوبارہ سنیما گھروں میں آئے گی

اجے دیوگن نے بتایا کہ ’’درِیشیم: دی کنکلوژن‘‘ فرنچائز ان کے لیے محض ایک فلمی سلسلہ نہیں بلکہ ایک ایسی کہانی ہے جسے آگے بڑھاتے وقت اصل فلم کے معیار اور کرداروں کی ساکھ کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اسی وجہ سے وہ تیسری فلم کے حوالے سے خاصے محتاط رہے ہیں۔ ’’درِیشیم: دی کنکلوژن‘‘کی اصل ملیالم فلم میں موہن لال نے مرکزی کردار جارج کٹی  ادا کیا تھا، جبکہ ہندی ریمیک میں اجے دیوگن نے  وجے سلگاؤںکر  کا کردار نبھایا۔ اجے دیوگن کا کہنا ہے کہ فرنچائز کے اگلے باب کو آگے بڑھانے سے پہلے وہ موہن لال کی رائے اور منظوری کو اہم سمجھتے تھے۔ان کے مطابق دونوں فلمی سلسلے ایک ہی بنیادی کہانی سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے وہ چاہتے تھے کہ اگلی فلم کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا جائے۔ اجے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقصد صرف فرنچائز کی ایک اور فلم بنانا نہیں بلکہ ایسی کہانی پیش کرنا ہے جو ناظرین کی توقعات پر پوری اترے۔ اجے دیوگن نے فلم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  ’’درِیشیم: دی کنکلوژن‘‘ کا مواد انہیں ’’درِیشیم: دی کنکلوژن‘‘ سے بھی زیادہ مضبوط محسوس ہوتا ہے  تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فرنچائز کو غیر ضروری طور پر طول دینے کے بجائے ایک مناسب اختتام دینا زیادہ اہم ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سنگاپور: مگرمچھ کی اے آئی سے بنی جعلی تصویر شیئر کرنے پر پر ایک شخص کو ۱۰ سال تک قید کا سامنا

ان کے مطابق اگر کہانی اپنی انتہا تک پہنچ چکی ہے تو پھر اسے وہیں روک دینا چاہیے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے کہا کہ  ’’ہمیں اب اسے روک دینا چاہیے‘‘ ، یعنی فلم کے بعد ’’درِیشیم ‘‘ کی کہانی کو مزید آگے بڑھانے سے گریز کیا جائے۔  ’’درِیشیم ‘‘ ۲۰۱۵ء میں ریلیز ہوئی تھی اور اس میں اجے دیوگن، تبو اور شریا سرن سمیت دیگر اداکاروں نے اہم کردار ادا کیے تھے۔ فلم کی کہانی ایک ایسے خاندان کے گرد گھومتی ہے جو ایک مشکل صورتحال میں پھنس جاتا ہے اور اس سے نکلنے کے لیے وجے سلگاؤںکر اپنی غیر معمولی منصوبہ بندی کا سہارا لیتا ہے۔ اس کے بعد ’’دریشیم ۲‘‘ ۲۰۲۲ء میں ریلیز ہوئی اور پہلی فلم کے واقعات کو آگے بڑھایا گیا۔ دوسرے حصے میں بھی اجے دیوگن کے ساتھ تبو، شریا سرن اور دیگر اہم اداکار واپس آئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK